260

شجاعیہ محلے سے ننگے پاؤں ایک بچے کی نقل مکانی کا دلخراش منظر ۔۔۔💔

شجاعیہ محلے سے ننگے پاؤں ایک بچے کی نقل مکانی کا دلخراش منظر ۔۔۔💔
کوک پیپسی پینے والوں عبرت کا نشاں بن جاؤ گے۔کیا اب بھی ھم اپنے حج۔نماز روزے کے بل بوتے پر جنت جاھیں گے۔ہرگز نہیں۔حسینی صرف وہ نہیں جو اپنا ھی سینہ پیٹتا رھے بلکہ حسینی وہ ھے جو مشن حسین کے لیے اپنا سب کچھ لٹس کر پھر کہہ کہ حق ھے کہ حق ادا نہیں ھوا۔57ممالک کے دو ارب سے زسئد غلاموں ھم سب کوفی ھیں۔اور صرف غزہ کے مسلمان حسینی ھیں بس۔تم ہیاں لڑتے رھو کون افضل ھے کون کم افضل ھے۔کس کو خلیفہ ھونا چاھے تھا۔کس کو نہیں۔جبکہ یہ ھم سے تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ تمھاری پیدائش سے چودہ سال پہلے کے واقعات کا جواب دو۔تم سے غزہ کے ہر معصوم بچے کے بارے پوچھا جائے ہر ماں کی چیخ وپکار کے بارے پوچھا جائے گا۔تم سہ جلتے ھوئے گھر۔اور خیموں کےبارے پوچھا جائے گا۔تم ھر بھوکے بچے اور عورت کے بارے پوچھا جائے گا۔کہ جب غزہ کے مسلمان تم تم کو پکار رھے تھے اور ھم نے تمھیں حکم دیا تھا کہ نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ھوں چاھے بھاری۔مدد کرو ان بستی والوں کی جو پکار رھے ھیں تم کو مدد کے لیے۔بتاؤ کیا جواب دو گے۔ھمارے ہتھیار نہیں تھے ھم تعداد میں کم تھے۔ھمارے پاس دنیاوی سامان نہیں تھا۔ھمارے پاس روٹی کپڑا نہیں تھا۔ھم معزور تھے۔لنگڑے لولے تھے۔کیا جواب دو گے۔یقنا ھم سب کے پاس کوئی جواب نہیں ھوگا۔کیونکہ ھمارے پاس فوج ھے۔ہتھیار ھیں۔دنیا کی ھر دولت موجود ھے۔80لاکھ کے مقابلے میں دو ارب ھیں۔لیکن بذدل۔بددیانت۔کرپٹ۔چور۔رشوت خور۔لیٹرے۔جھوٹے۔دھوکے باز۔ھیں۔بھلا ھم کیسے جہاد کرسکتے ھیں۔جہاد تو غیرت مند صاحب ایمان لوگوں کا کام ھے۔ھم تو اتنے بے حس اور بے غیرتی کی انتہا کو پنچ چکے ھیں کہ اعلانیہ گناہ کرکے اکتراتے ھیں۔کوئی خوف کوئی ڈر نہیں۔ھم ذلت کی گہراہوں میں گر چکے۔ایمان بچانا اب ہاتھ پر کوئلہ رکھنے کے مترادف ھے۔ایسے حالات میں صرف کلمہ حق کہنا ھی مشکل نہیں بلکہ عمل کرنا تو بہت ھی جان جوکھوں کا کام ھے۔جہاد کو گالی بنا دیا گیا۔ایک مقدس گریضہ جس کو دہشت گردی سہ جوڑ دیا گیا۔اتنے بذدل۔بد دیانت۔حکمران کبھی نہیں رھے کہیں نہ کہیں جہاد سے سرشار حکمران رھے ھیں لیکن ایسے حالات کبھی نہیں تھے کہ 57حکمران ھی کھسرے ھوں۔کسی میں بھی غیرت نام کی کوئی چیز نہ ھو۔۔
؟؟؟؟؟؟
خ ح شہزاد
دل کی بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں