قرآن و حدیث میں غلو کو ہلاکت اور گمراہی کا سبب قرار دیا گیا ہے اتوار 27 ستمبر 2026 تحقیق و تحریر: انجینئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن و حدیث میں غلو کو ہلاکت اور گمراہی کا سبب قرار دیا گیا ہے
اتوار 27 ستمبر 2026
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
دینِ اسلام میں اعتدال اور میانہ روی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ شریعت کی حدوں سے آگے نکل جانے، کسی شرعی حکم میں اپنی طرف سے سختی پیدا کرنے یا کسی شخصیت کے مقام و مرتبے میں حد سے تجاوز کرنے کو غلو کہا جاتا ہے۔
قرآن و حدیث میں غلو کو ہلاکت اور گمراہی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
غلو کی بنیادی اقسام:
* عقیدے اور شخصیات میں غلو:
یہ غلو کی سب سے خطرناک قسم ہے، جس میں کسی انسان، نبی، ولی، امام یا بزرگ کو اس کے اصل شرعی مقام و مرتبے سے اٹھا کر الوہیت یا خدائی صفات کے درجے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
مثال: عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دینا، یا بزرگوں اور رہنماؤں میں ایسی صفات ماننا جو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں (مثلاً عالم الغیب ہونا، مستقل بذات نفع و نقصان کا مالک ہونا وغیرہ)۔
* عبادات میں غلو:
عبادت میں مسنون اور نبوی طریقہ چھوڑ کر اپنی طرف سے سختی اور حد سے زیادہ مشقت اختیار کرنا۔
مثال: رات بھر بغیر سوئے مسلسل عبادت کرنا، بلا ناغہ مسلسل روزے رکھنا، یا خود پر حلال چیزوں کو محض ثواب کی نیت سے حرام کر لینا۔
* احکام اور فقہی امور میں غلو:
دین کے آسان احکام میں بے جا باریک بینیاں نکالنا، فروعی و اجتہادی مسائل میں سختی برتنا، اور معاف کردہ یا مباح امور کو خود پر یا دوسروں پر سخت کر دینا۔
مثال: بنی اسرائیل کا گائے کے ذبح کے معاملے میں بار بار غیر ضروری سوالات کر کے حکم کو سخت بنا دینا، یا فروعی اختلاف کی بنا پر دوسرے مسلم مکاتبِ فکر کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینا۔
* سلوک اور رویوں میں غلو:
معاشرتی رویوں، نظریات اور دعوت کے کام میں شدت پسندی اختیار کرنا، مخالفین کو برداشت نہ کرنا، اور نرمی و حکمت کے بجائے جبر و سختی کا راستہ اپنایا جانا۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں غلو کے اثرات و نتائج:
* گزشتہ امتوں کی ہلاکت اور تباہی:
شریعتِ الٰہی کے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر جب امتیں غلو کا شکار ہوئیں تو وہ گمراہی کے گڑھے میں جا گریں۔
قرآنی فرمان: اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ پر حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ (سورۃ النساء: 171)
حدیثِ نبوی: دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلی امتوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔ (سنن النسائی)
* توحید میں خلل اور شرک کا راستہ:
شخصیات اور بزرگوں کی تعظیم میں غلو ہی تاریخِ انسانیت میں شرک کی شروعات کا سب سے بڑا سبب بنا۔ قومِ نوح کے لوگ اپنے نیک بندوں کے احترام میں غلو کرتے کرتے ان کی پرستش تک پہنچ گئے۔
قرآنی انتباہ: کہہ دیجیے:
اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا… (سورۃ المائدہ: 77)
* فکری انتشار، تکفیر اور امت کی تقسیم:
جب احکام اور اجتہادی امور میں غلو اور سختی آتی ہے تو برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تکفیر اور فتاویٰ کا سہارا لیتے ہیں، جس سے امت کی یکجہتی پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں خوارج کا فتنہ اسی قسم کے غلو کا نتیجہ تھا۔
* سنتِ نبوی سے محرومی اور بے عملی:
عبادات اور معاملات میں اپنی طرف سے سختی لانے والا شخص بالآخر عاجز آ کر عمل چھوڑ بیٹھتا ہے یا سنت کی برکت سے محروم ہو جاتا ہے۔
حدیثِ نبوی: جب چند صحابہ نے مسلسل روزے رکھنے اور نکاح نہ کرنے کا عزم کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (صحیح البخاری)
* دین سے بیزاری اور عوام پر دشواری:
شریعت نے دین کو آسان بنایا ہے، لیکن غلو کرنے والے لوگ دین کا ایسا سخت خاکہ پیش کرتے ہیں جس سے عام الناس بالخصوص نئی نسل دین سے دور بھاگنے لگتی ہے۔
حدیثِ نبوی: دین آسان ہے، اور جو بھی دین میں مقابلے کی کوشش کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔ (صحیح البخاری)
خلاصہ کلام:
غلو کا بنیادی علاج یہ ہے کہ دین کو اسی سادگی اور روح کے ساتھ اپنایا جائے جو قرآن مجید، سنتِ نبوی ﷺ اور منہجِ صحابہؓ سے ثابت ہے۔ دین میں اعتدال و میانہ روی ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضامن ہے۔
وما علینا الا البلاغ المبین
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333