سامارو میں ایک نوجوان کی موت سوالیہ نشان؟؟ تحریر (( ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی صدر نیشنل پریس کلب سامارو))
سامارو میں ایک نوجوان کی موت سوالیہ نشان؟؟
تحریر (( ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی صدر نیشنل پریس کلب سامارو))
کہا جارہا ہے کہ سمارو کے قریب گاؤں ڈاکٹر چیتن میگھواڑ گوٹھ میں ایک شخص جس کا نام کرشن میگھواڑ بتایا جارہا ہے جس کو کسی عطائی کی ھاتھوں غلط انجکشن لگنے سے بے ھوش بعد میں موت ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ آخر موت کی وجہ کیا کوئی اس کی ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ واقعے میں اس انجکشن لگنے سے اس کی موت ہوئی اگر ہوئی بھی ہے تواس کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہئے تھا کیونکہ کہ انصاف یہی کہتا ہے ایک نوجوان کی اس طرح موت ہونا سوالیہ نشان ہے ۔کیا اس کی موت اس انجکشن سے ہوئی یا اس کی کسی پرانی بیماری یا کسی چوٹ لگنے سے ہوئی اس کی تو کسی تصدیق شدہ انویسٹیگیشن سے ہو سکتی ہے ۔۔لیکن سوال یہ نہیں ہے کہ اسی ایک شخص کی یہاں اس طرح موت ہوئی ہے یہ کوئی ایک نیا اور منفرد واقع نہیں پر یہ اب گھر گھر کی کہانی یورپی ہے اس کی تحقیق ہونا بہت ضروری ہے اس طرح کے واقعات تب مزید جنم لیتے ہیں جب ان کی کوئی قانونی روک تھام نہیں ہوتا ۔۔۔خودکشی کے واقعات بھی ذھنی تشدد بھی ایک نمونا ہے غربت انسان کو کیا کچھ نہیں کرواتا سچ مانو تو جب ایک باپ اپنے بچوں کو مسلسل بوکھا دیکھتا ہے اور اس کو بیروزگاری سے تنگ آکر وہ سب کچھ کرسکتا ہے جو کہ اسے پتا ہے یہ حرام ہے پہر بھی وہ کرتاہے چوری قتل خودکشی یا اور کوئی سنگین نوعیت کے گناہ کرنے کوتیار ہو جاتا ہے آخر کیوں سوال؟
خیر بات کرتے ہیں کرشن میگھواڑ کی تو بات یہ ہے کہ یہ ایک کرشن میگھواڑ کی موت نہیں ہوئی بلکہ ایک معاشرتی قتل ہوا ہے جب ہمارے اردگرد ہر جگہ جگہ عطائیت کا بول بالا ہو سماجی برائیاں جیسا منشیات گٹکا دیسی شراب دو نمبر سگریٹوں کی روک تھام نا ہو تو ایسے واقعات تو پہر ہونگے ۔دیسی شراب کی بھٹیاں ہر گاؤں کی زینت بنی ہوئی ہو تو اس طرح کے واقعات تو ہونگے ۔جب شراب پینے والا بھی صبح اوٹھ کر شراب کے خلاف شراب کے خلاف اجتماعی احتجاج کرے شام کو وہی شخص اسی بٹھی کی زینت بنے ہوئے ہو تو پہر ایسے واقعات تو جنم لیں گے سچ یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہوئے بھی سچ کو مکمل طور نظر انداز کرتے ہیں جس کی وجہِ سے وہی اپنے گھروں کی دہلیز پر پہنچ چکا ہوتا ہے تک آنکھ کھلی رہ جاتے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔اس سے حقیقت تحقیق کو جانا بہد ضروری ہے ۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک کو اس سلسلے میں آنا بہت ضروری ہے کہ اصل جو اس طرح کی موات کے اسباب کیا ہیں ۔معاشرے میں بہت سے برائیاں گناہ قتل کے مسائل کا حل ڈھونڈنا بےحد ضروری ہے ۔اس طرح کی نواجوان کی موت ایک سنگین سوالوں کے گھیرے میں گونج رہے ہیں ۔
میری نظر میں زہریلی دیسی شراب گردے جگر کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے کئی موت ہوتی ہیں ۔سب سے پہلے آگر کسی کو روکنا ہے تو اس لانت کو روکنا ہوگا جو کہ سمارو کے آجکل گھر گھر خصوصاً غریب گھرانے میں پل رہا ہے ہر سمارو کے وارڈ محلہ دیہاتوں کی رونقیں بنی ہوئی ہیں ۔۔
روک تھام کے کے لئے اداروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا دی ہیں ۔جب معاشرے میں پینے والوں کی تعداد بہت بڑھ جائے تو ریاست میں بیٹھے وہ بھی ان ان کے ہاتھوں مجبور ہوکر رہ جاتے ہیں ۔۔۔
سؤال یہ نہیں کہ ادارے کچھ نہیں کرتے یا کرنا نہیں چاہتے سوال یہ ہے کہ ان منہ پر تالے ڈالنے کس نے ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔۔ہم سب اس کے قصوروار ہیں ۔سچ پوچھو تو ہم ہی سچ کے اوپر پردہ ڈال دیتے ہیں ۔اپنا گناہ چھپانے کی پوری کوشش کرتے ہیں پہر کیا کریں’جب اپنی طاقت کا حصہ کسی کے حوالے کریں گے تو ایسا ہی ہوگا۔۔
اس لئے اس حقائق کا جانا اور پیش کرنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔