September 1, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہرے دور کا ذِکر جب بھی چھڑے گا، ایک سحر انگیز شخصیت اور بے مثال فنکارہ کا نام ہمیشہ جلی حروف میں چمکے گا اور وہ نام ہے خالدہ ریاست۔

FB_IMG_1788269699256
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہرے دور کا ذِکر جب بھی چھڑے گا، ایک سحر انگیز شخصیت اور بے مثال فنکارہ کا نام ہمیشہ جلی حروف میں چمکے گا اور وہ نام ہے خالدہ ریاست۔

26 اگست 1996ء کو کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں اور کراچی کے سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔ ان کو مداحوں سے بچھڑے تین دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر ان کی لاجواب اداکاری اور سحر انگیز شخصیت آج بھی ٹیلی ویژن کے شائقین کے دلوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

​یکم جنوری 1953ء کو کراچی میں جنم لینے والی خالدہ ریاست نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز لاہور سے کیا۔ 1970ء کے اواخر میں حسینہ معین کے تحریر کردہ اور محسن علی کی ہدایت کاری میں بننے والے ڈرامے “بندش” نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 70ء اور 80ء کی دہائی کے اوائل کا دور ان کے کیریئر کا زریں ترین زمانہ ثابت ہوا، جہاں انہوں نے اپنی ادکاری سے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قالب میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

​خالدہ ریاست کا اصل کمال ان کا منفرد اندازِ تکلم اور مکالمہ نگاری میں جذباتی رچاؤ تھا۔ وہ کردار کی روح کو اپنے وجود میں اتارتی تھیں اور اداکاری میں اس قدر سچائی لاتی تھیں کہ ناظرین مسحور ہو کر رہ جاتے۔ ​1976ء میں جب پی ٹی وی نے رنگین نشریات کا آغاز کیا، تو لاہور مرکز کے پہلے رنگین ڈرامے “پھول والوں کی سیر” (مصنف: اشفاق احمد، پیشکش: محمد نثار حسین) میں وہ آصف رضا میر کے مقابل مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوئیں۔

​ان کے لاجواب ڈراموں کی فہرست طویل ہے جن میں لازوال، مانی، دو کنارے، ایک محبت سو افسانے، نامدار، کھویا ہوا آدمی اور ٹائپسٹ شامل ہیں۔ 90ء کی دہائی کے مشہور طویل ڈرامے “ہاف پلیٹ” میں معین اختر کے ساتھ ان کی اداکاری آج بھی ایک مثال ہے۔ ڈرامہ سیریل “پڑوسی” میں ان کا مزاحیہ روپ شائقین کو بے حد پسند آیا، جبکہ ان کا آخری ڈرامہ طویل دورانیے کا خصوصی کھیل “اب تم جا سکتے ہو” تھا۔

​70ء اور 80ء کی دہائی میں خالدہ ریاست کو روحی بانو اور عظمیٰ گیلانی جیسی عظیم اداکاراؤں کے ساتھ پی ٹی وی کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ محض ایک فنکارہ نہیں تھیں بلکہ اداکاری کا ایک مکتب فکر تھیں، جن کا چہرے کا تاثر، مکالموں کی ادائیگی اور کردار میں رچ بس جانے کا انداز اب ناپید ہو چکا ہے۔ ​خالدہ ریاست کا اسکرین سے رخصت ہونا پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے ایک لازوال باب کا خاتمہ تھا، لیکن ان کی یادیں اور فنکارانہ خدمات ہمیشہ ہمارے ثقافتی ورثے کا درخشندہ حصہ رہیں گی۔

ایوب اسماعیل / Film Walay Drama Chapter فلم والے ڈرامہ چیپٹر

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0