اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر 13 اکتوبر 1940 کو لاہور کے ایک پڑھے لکھے کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں والد لاہور میونسپل کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے ماں باپ کا خواب تھا کہ بیٹی ڈاکٹر بنے گی اسی لیے انہیں کنیئرڈ کالج جیسے بہترین ادارے میں تعلیم دلوائی گئی
لیکن مسرت کے دل میں تو سُر بستے تھے۔ 1951-52 میں انہوں نے ریڈیو پاکستان سے گلوکاری شروع کی پیسے کم تھے شوق زیادہ ایک دن ہمت کر کے فلم ڈائریکٹر انور کمال پاشا کے پاس گئیں کہ مجھے اپنی فلم میں گانے کا موقع دیں پاشا نے انہیں دیکھا اور کہا تم گاؤ گی نہیں تم ہیروئن بنو گی انہوں نے ہی ان کا نام چاندنی رکھا
فلمی سفر جب پردے پر بجلی گرتی تھی
ڈیبیو 1955 میں فلم قاتل سے ایک چھوٹے سے رول سے ہوا
لیکن اصل دھماکہ پنجابی فلم پٹن 1955 سے ہوا جس میں سنتوش کمار کے مقابل لیڈ رول کیا اور راتوں رات سٹار بن گئیں
اس کے بعد تو ہٹ فلموں کی لائن لگ گئی
ماہی منڈا 1956 اور یکے والی 1957 کرتار سنگھ 1959
تقسیم پر بنی تاریخی فلم
شہید 1962 جس کا گانا اس بے وفا کا شہر ہے آج بھی لوگ گنگناتے ہیں
زہرِ عشق 1958 جھومر 1959 جٹی 1958 باغی 1956
ان کے مقابلے میں اس دور کی بڑی ہیروئنز تھیں صبیحہ خانم، نورجہاں نیئر سلطانہ نیلو، بہار بیگم لیکن مسرت نے اپنی معصومیت سے اپنی الگ جگہ بنا لی
ایوارڈز جو گواہی دیتے ہیں
1958 بہترین اداکارہ نگار ایوارڈ فلم زہرِ عشق
1959 بہترین اداکارہ نگار ایوارڈ فلم جھومر
1962 بہترین اداکارہ نگار ایوارڈ فلم شہید
1963 میں جب وہ کیریئر کے بالکل ٹاپ پر تھیں انہوں نے ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور سب کچھ چھوڑ کر کینیڈا شفٹ ہو گئیں لوگ حیران تھے کہ کوئی اتنی شہرت کیسے ٹھکرا سکتا ہے لیکن انہوں نے محبت اور گھر کو ترجیح دی
پھر 80 کی دہائی میں مسرت نے دوسرا جنم لیا گلوکارہ کے طور پر!
1983 میں طارق عزیز شو میں ان کے گانے آئے اور پورا پاکستان دیوانہ ہو گیا
میرا لونگ گواچا شادیوں کا قومی ترانہ بن گیا
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
لتھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا
چٹا ککڑ بنیرے تے
مہندی نی مہندی
آج بھی کوئی مہندی کوئی شادی مسرت کے گانوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی؟
18
اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر 13 اکتوبر 1940 کو لاہور کے ایک پڑھے لکھے کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0









