12 سالہ اقرا کے مبینہ اغوا کے خلاف کھوسو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
12 سالہ اقرا کے مبینہ اغوا کے خلاف کھوسو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
سکھر(بیورورپورٹ)گاؤں حاجی نہال خان کھوسہ آباد لاکھا کے رہائشی کھوسو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے 12 سالہ بچی اقرا کے مبینہ اغوا اور تاحال بازیاب نہ ہونے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر محمد سبحان کھوسو، مسمات حاجناں خاتون، قوت علی کھوسو اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی 12 سالہ بیٹی اقرا صبح کے وقت اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی، تاہم راستے میں عبدالکریم کھوسو، ریاض احمد کھوسو اور فیصل کھوسو نے مبینہ طور پر اسے زبردستی اغوا کرلیا، جس کے بعد سے بچی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی یا ذاتی تنازع نہیں ہے، اس کے باوجود ان کی کمسن بچی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بااثر افراد کی جانب سے بچی کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، جس کے باعث خاندان شدید خوف و پریشانی میں مبتلا ہے۔متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے کے معاملے پر ان کی بچی کو اغوا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع متعلقہ تھانے کو دے کر اغوا کی رپورٹ بھی درج کروائی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی سکھر کو بھی درخواست ارسال کی جاچکی ہے، تاہم تاحال بچی کی بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔مظاہرین نے کہا کہ ایک کمسن بچی کے لاپتا ہونے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے، اس لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بچی کی تلاش اور بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔کھوسو برادری کے مرد و خواتین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ 12 سالہ اقرا کے مبینہ اغوا کا فوری نوٹس لیا جائے، بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر بچی کی فوری بازیابی نہ ہوئی تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔