*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سندھ کی تقسیم پر کربلا کو بھول جانےکی دھمکی*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
سندھ کی تقسیم پر کربلا کو بھول جانےکی دھمکی دینے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں مگر اس سے پہلے میں اپنے سیاسی پنڈتوں سے کہنا چاہتا ھوں کہ سندھ کی تقسیم نہیں ھو رہی ھے صرف انتظامی معاملات میں تبدیلی ھورہی ھے کراچی حیدرآباد وغیرہ کو اٹھا کر ہندوستان نہیں لے جا رہے ہیں اور سندھ نام سے قبل جنوبی کا اضافہ ھو رہا ھے یعنی جنوبی سندھ اور سندھ میں تین صوبوں کی بات چل رہی ھے تو پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے صرف یہ کہنا چاہتا ھوں کہ تینوں صوبوں میں الیکشن جیتیں اور حکومت بنائیں میں اپنے اصل پوائنٹ کی طرف آتا ھوں کہ سندھ میں مزید صوبوں کی تشکیل کی مخالفتوں کے پیچھے کا سب سے بڑا راز صرف اور صرف گریٹر سندھو دیش کا قیام ھے اگر اس طرف ھمارے اداروں نے توجہ نہیں دی تو عنقریب سندھ بھی بلوچستان جیسے حالات سے گزرے گا اب پاکستان کو بچانا صرف پاکستان آرمی یا اسٹبلشمنٹ کا کام نہیں ھے آپ پاکستان کی ہر قوم کا فرض ھے کہ سندھو دیش جیسے فتنہ کا مقابلہ کریں مگر یہاں پی ٹی آئی کی پالیسی کی تعریف کرنا بھی ضروری ھے کہ کم از کم صوبوں کے معاملے میں پی ٹی آئی عوامی امنگوں کے مطابق بات کررہی ھے جبکہ جماعت اسلامی کا کردار بھی صوبہ کے معاملے میں قابل تعریف ھے خیر سندھو دیش کے فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم کو ایک ھونا پڑے گا مزید صوبوں کی تقسیم ان کی موت ھوگی اب ملک کو تورنے کی بات کو اب ھمیشہ کے لئے دفن کرنا ھوگا۔۔۔۔ ڈاکٹر سلیم حیدر چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک (ایم آئی ٹی) کے اس بیان پر کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے قلم اٹھاتے ہوئے اس موضوع کو بڑھایا وہ لکھتے ہیں کہ جناب ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب یہی بات میں بھی ان شرپسندوں اور جاہلوں کو سمجھانے کی کوشش کررھا ھوں جو مقصد سے ہٹ کر غلط بیانی کرکے اقوام میں ایکبار پھر یہ انتہا پسند سندھو دیش کے بھارتی نواز را کے کارندے اور ایجنٹ منافق اور مفادپرست ٹولے نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ھے ان میں ایم کیو ایم کے بھی کچھ مفادپرست شامل ہیں جو انتظامی امور کے بجائے سندھ کے ٹکڑے کی بات کرتے ہیں۔ سندھ کو تو اسی وقت دو ٹکڑے کردیا گیا تھا جب کوٹہ سسٹم لاگو کیا گیا اس عمل کو بھی اب ستر اسی سال ھونے کو ہیں، ایک دیہی سندھ، دوسرا شہری سندھ، انکے ہی مطابق اب ریاست پاکستان نے کراچی کے علاوہ جنوبی سندھ اور شمالی سندھ انتظامی سطح پر طے کیا گیا ھے رہی بات پاکستان بنے کے بعد کی تو کراچی وفاق کے ماتحت تھا اور کراچی پاکستان کا دارلخلافہ بھی تھا جو صدر ایوب نے اپنی خواہش کے مطابق آمرانہ حکم پر پاکستان کے دارلخلافہ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا پھر کراچی کو سندھ کے حوالہ کردیا۔ ان انتہا پسند سندھ دیش والوں نے اپنی نااہلی، ناقابلیت، بدنیتی، بددیانتی، چوری چکاری، لوٹ مار، کرپشن، بدعنوانی، لاقانونیت گو کہ ہر وہ راستہ اپنایا جو تباہی و بربادی کا باعث بنتا ھے اور اپنے بداعمالوں کے سبب پوری کو قوم بدنام کرنے رسوا کرنے میں انہی سندھ دیش پاکستان مخالف بھارتی حمایتیوں نے کیا سندھی قوم کو علم و فنون شعور و تہذیب سے دور رکھنے کیلئے ہمیشہ نفرت کے بیج کو ہوا دیتے رھے یہ بھول گئے کہ سب سے بڑی ذات اقدس اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ کی ھے جو نفرت عصبیت لسانیت حق تلفی کو قطعی پسند نہیں فرماتا اور انہیں ظالمین کی صف میں لاکھڑا کرتا ھے اور انہیں دونوں جہاں کی ذلت و رسوائی میں مبتلا کردیتا ھے۔ جناب ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب یہ سندھو دیش والے اس قدر ڈرے اور خوفزدہ ہیں کہ اگر کوٹہ سسٹم کی زنجیریں کھول دی گئیں تو انہیں محنت کرنی پڑے گی، حلال رزق کمانا اور کھانا پڑیگا، قانون کا سامنا اور حق تلفیوں کو روکنا پڑیگا۔ خود کو بادشاہی تخت سے زمین پر اور اپنی حیثیت کے مطابق جینا پڑیگا۔ جناب ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب ایک لاکھ سندھی جمع کرلیں تو ان میں قلیل تعداد ایسی ہوگی کہ جو ایمان یافتہ مسلمان ھوں بقیہ دنیا پرست، مادیت پرست، نفس پرست، اور لادین ہی ملیں گے لیکن کئی ایسے بھی ہونکے جنکے نام کیساتھ بڑے بڑے القابات ملیں گے۔ تہمت پرستی، الزام تراشی، بہتان گیری، ان میں کثیر تعداد میں ملے گی۔ علمی مظارہ ہو یا علمی دلیل یا پھر علمی تحقیق اس سے کوسوں دور نظر آئیں گے سوائے ان سندھیوں کے جو ان انتہاء پسند سندھو دیش کے نظریات سے دور رہتے ہیں وہ مہذب قابل ذہین اور دیندار و ایماندار اور سچ و حق کیساتھ رہتے ہیں۔ جناب ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب افسوس سے کہنا اور لکھنا پڑھتا ھے کہ من حیث القوم ھم سب میں دین محمدی ﷺ سے وہ لگاؤ، رغبت، محبت، بےچینی، اور کیفیت نہیں رہی جو آج سے پچاس ساٹھ سال قبل دیکھی جاتی تھی۔ وقت کے گزرنے کیساتھ ساتھ نفرت، عصبیت، اقربہ پروری، تعصب، حق تلفی، بدتہذیبی، بداخلاقی، بےعلمی، لاشعوری، زناکاری، شراب نوشی، رشوت ستانی، سود خوری، جھوٹ، منافقت، فاسق پن اور ظلم و بربریت میں معاشرتی، معاشی و اقتصادی، تجارتی و انتظامی اور قانونی سطح پر بڑھتی ہی دیکھی اور تو اور آئین و دستور میں اس قدر ملاوٹ اور تبدیلیاں کردی گئی ھیں کہ اب آئین و دستور چوں چوں کا مربہ بن گیا ھے۔ پاکستانی آئین و دستور کو مکمل ہی اب بدلنا ھوگا تبدیل کرنا ھوگا اور اسے مکمل قرآن و سنت کے مطابق تیار کرکے ملک میں رائج کرنا اب وقت کی شدید ضرورت ھے کیونکہ آج کا آئین و دستور جاگیردار، چوہدری، سرمایہ کار، سردار اور ہر بڑے دولت مند طبقہ کے مفادات کے تحت ڈھل چکا ھے جس میں عام عوام ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق سب سے نچلی ذات شودر دلیت بن چکے ہیں، پاکستانی پارلیمینٹیرین نے عوام کو اپنا شودر دلیت بنادیا ھے جنکی زندگی صرف اور صرف ان اشرفیاؤں و ایلیٹ طبقہ کے عیش و عشرت کا سامان بہم پہنچانے کیلئے ٹیکس پر ٹیکس جائز و ناجائز کی ادائیگی لازمی کرنی ھے۔ جناب ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب میں کوئی سیاستدان نہیں جو سیاسی انداز سے لکھوں آپ جانتے ہیں کہ میں ایک صحافی ہوں اور سچ و حق کی نگاہ سے دیکھنے کی حتمی الامکان کوشش کرتا ھوں تاکہ نتائج درست اور صحیح میسر آسکیں کسی کی خواہش پر نہیں۔ بس آخر میں یہی کہونگا کہ پورے پاکستان میں کہیں صوبے نہیں بن رھے بلکہ انتظامی امور میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں جو سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کی عوام نے اس انتظامی امور کی تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کرلیا ھے مگر سندھ کے انتہاء پسند سندھو دیش اور انکے ہم خیال جماعت، گروہ، تنظیم اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کررھے اب یہ ممکن ھے کہ سندھ کے پڑھے لکھے باشعور سندھی ادبی علمی محقق ہی ان انتہاء پسند نفرت پھیلانے والوں کو سمجھا سکیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سندھ بھر میں نفرت، عصبیت، لسانیت کی آگ کون لگا رھا ھے اور دین محمدی ﷺ کی مخالفت سرے عام کون کررھا ھے، قرآن و احایث سے بھی سرے عام منحرف کون ہورھا ھے اگر یہ انتہا پسند سندھ دیش والے مسلمان سندھی ہیں تو آئیں مناظرہ کریں کہ اسلام حقوق کے متعلق کیا حکم دیتا ھے؟؟ کیا کوٹہ سسٹم حق تلفی نہیں ؟؟ کیا شفارش رشوت بخشش پرسنٹیج حرام نہیں ؟؟؟ کیا شراب نوشی سمیت تمام نشئے حرام نہیں ؟؟ کیا زکواة و خیرات صدقات و عطیات کو ناجائز استعمال کرنا حرام نہیں؟؟ جان لو جو حرام کھاتا ھے وہی حرامی کہلاتا ھے۔ خدارا ہوش کی ناخن لو، دین پر آؤ، دنیا پرستی میں غرق نہ ہو، ورنہ ایمان نہیں اور دین نہیں تو خدا کی قسم پھر کچھ بھی نہیں۔ عالم اسلام اور پاکستان بھر کے تمام علماء مشائخ، پیر عظام، اسلامی اسکالرز، ڈاکٹرز، محققین، شیخ الحدیث اور مفتیان کرام ہر مسالک کو جمع کیا جائے اور فتویٰ و آخری فیصلہ لیا جائے صرف چند سوالات ایسے کئے جائیں جن سے حالات کا لب لباب اور حل مل سکے جیسے دین اسلام کا نظام پورے ملک میں قائم کیا جائے۔ دوئم پاکستان کو ضرورت کے مطابق یونٹ / ڈویژن یا چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کردیا جائے کیونکہ یہ نظام جمہوریت دین محمدی ﷺ کے مکمل برخلاف ھے تیسرا اقوام کے حقوق میں انصاف بہم کرنے کیلئے تشکیل نو کی ضرورت ھے۔ کیا اسلام ہمیں اس بابت اجازت دیتا ھے ہاں یا ناں؟؟ تو پھر ہمیں دین کی روشنی میں تمام اقوام کے حقوق مساوی ادا کرنے کیلئے کونسا طریقہ کار اپنانے کی اجازت ھے۔ اس مشترکہ کانفرنس سے صحیح درست جواب مل سکے گا جس پر آئمہ کرائم کثرت سے متفق ہوں اسے تحریری شکل میں لاکر سب کے دستخط و مہر لگوادی جائے تاکہ پھر کوئی فتنہ انگیزی و شرپسندی نہ کرسکے اور اگر کسی نے کیا تو ریاست اسکے خلاف سخت سے سخت انداز میں نمٹے کیونکہ وہ دین محمدی ﷺ کا مجرم ہوگا۔ شکریہ