33

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے محسن نقوی کی

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے محسن نقوی کی اِس بات پر بڑی حیرانگی و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ھے کہ محسن نقوی ایک پڑھے لکھے سلجھے انسان ہونے کے باوجود اس قدر نامعقول بیان دیں گے کہ سسٹم چل نہیں رھا، سسٹم میں بے پناہ خامیاں اور نقائص موجود ہیں۔ انہیں کوئی بتائے کہ یہ آپکا موجودہ جمہوری سسٹم قائداعظم محمد علی جناح کی ایمبولیس کو خراب ھونے سے ہی شروع ھوا تھا اور پھر اپنی ناکارگردگی نااہلی بےایمانی بددیانتی لوٹ مار خیانت رشوت ستانی بداخلاقی کردار کشی لاقانونیت عدم استحکام عدم تعاون غنڈہ گردی بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ کمیشن نوازی، حق تلفی اقربہ پروری سفارش سود کاری شراب نوشی زناکاری سمیت ہر وہ فعل جو قرآن و احایث میں سخت ممانعت آئی ہیں انہیں جبراً نافذ کیا گیا۔ پھر اس غلیظ پلید نظام نے مافیاء کو جنم دیا اس قدر مافیاء کی افزائش کی گئی کہ معاشرہ تو معاشرہ ریاست کے چلنے کیلئے بھی جگہ نہیں مل سکی۔ یاد رکھئے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو میں شھید کہونگا کیونکہ آپ کا ناحق قتل کیا گیا ھے اگر صاف و شفاف تحقیقیات ہوتی تو قائداعظم محمد علی جناح نوابزادہ لیاقت علی خان ؒ اور فاطمہ جناح ؒ یہ تینوں شخصیات ہماری تاریخ میں شھید لکھی جاتیں لیکن افسوس دو کو زہر اور ایک کو گولی سے مار دیا۔ محسن نقوی کو بتائیں کہ آپ کے اسی سسٹم نے اپنے سامنے کھڑی ہر رکاوٹ کو پیس ڈالا اسی سسٹم نے لیاقت علی خان کو شھید اور مادر ملت فاطمہ جناح کو بھی روند ڈالا تھا۔ اس سسٹم کے سہولتکار کون کون تھے تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو سول و عسکری نوکر شاہی طبقہ، سیاستدان و تاجران طبقہ اور تو اور مذہبی طبقہ کثیر تعداد میں اسی سسٹم کا حامی اور مددگار رھا، بات یہیں ختم نہیں ہوتی تاریخِ پاکستان کے اوراق میں ان کی نسلوں کے کارنامے بھی موجود ہیں۔ اس بدترین سسٹم نے سازشی ٹولوں کی افزائش جاری رکھی منافقین کو سراہا گیا انکے سہلولتکاروں نے غداری تو ایک طرف تباہی و بربادی کی کوئی کسر نہ چھوڑی اور آج جو عوام کا جینا محال ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی خود عوام بھی ھے جو انکے پیچھے نعروں، وعدوں اور جھوٹے خوابوں پر یقین در یقین کرتی چلی آئی اب تو اس عوام کا حال یہ ھے کہ ایک بریانی کی پلیٹ کے خاطر جلسہ و جلوس میں شریک ھوجاتے ہیں اور اپنا ضمیر فروشی کرتے احساس شرم بھی محسوس نہیں کرتے ایسی بیغیرت، بےحس، جاہل، جانور عوام پر جوتے پڑنا ہی بہتر ھے۔ لعنت ھو ایسی عوام پر جو دنیا پرستی اور مادیت پرستی میں انسان اور انسانیت کو فراموش کرکے وحشی بدترین جانور بن جائے۔ کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا کہ یورپ، آسٹریلیاء، امریکہ اور بیشتر ایشیائی ممالک و دیگر براعظموں کے رہنے والوں نے کلمہ تو نہیں پڑھا لیکن اپنے اپنے ممالک میں اسلامی روایات، قانون، ضابطوں کو رائج کرکے پابندی سے استوار کیا۔ ایشاء میں چین جاپان ممالک خاص اپنی انسانی اخلاقی ادوار میں مشہور ہیں یہی وجہ ھے کہ یہاں پرسکون، پرامن، محفوظ، ترقی یافتہ، خوشحال ماحول و معاشرہ موجود ھے۔ ان ممالک میں مجرم کا قد کاٹ درجہ و مرتبہ دولت و غربت قطعاً نہیں دیکھا جاتا اگر جرم ثابت ہوجائے تو فوراً اس ملک کے قانون کے مطابق سزا دیدی جاتی ھے۔ قلیل سزا میں کم از کم عمر قید وگرنہ کثیر سزا میں پھانسی دی جاتی ھے یہی سبب ھے کہ ان ممالک میں وزیراعظم و صدر و بادشاہ کے عہدے سے ایک عام شہری پر برابر مساوی قانون عائد ہوتا ھے سب جزا و سزا کے مساوی عمل رکھتے ہیں۔ ان غیر مسلم ممالک کے باشندے جب کلمہ پڑھتے ہیں تو بہترین مسلمان ہوتے ہیں کیونکہ وہ مسالک کے جھوٹے، فریبی، منافق، چندہ، عطیہ، مالی مدد بٹورنے والے گڑھے میں پھنسنے کے بجائے خالصتاً دین محمدی ﷺ پر کارفرما رہتے ہیں۔ وہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کا خود تحقیقی مطالعہ کرتے ہیں تاکہ دین کو حقیقی طور پر سمجھ سکیں۔ چند سو سال ھوا چاہتے ہیں ان مسالک کو جو یہود و نصاریٰ نے اپنے مزموم عزائم کے تحت لارنس آف عربیہ کے ذریعے پھیلایا تھ، لارنس آف عربیہ جو کہ ایک کٹر یہودی تھا مسلمان عالم بنکر مسلمانوں کے درمیان آپس میں مسلک کی تفریق، مسلکی نفرت، مسلکی ترویج و فروغ، اور آپس میں تفرقہ نفرت اور تعصب کو پھیلایا تاکہ مسلنان ایک نہ ہوسکیں اور مسلکی لڑائی میں الجھ کر رہ جائیں ان مسلمانوں سے جھاد کا جذبہ زائل کردیا جائے تاکہ یہ مسلمان اور انکی نسلیں گمراہی میں بھٹکتی رہیں، چلے تازیئے تبلیغ سفر پر رہیں اپنے معاملات کی طرف نہ دیکھیں اگر دیکھ لیا تو ہر ایک حقوق العباد کو بھی درست کرنے میں لگ جائیگا اس طرح ان میں ایمان جان سکتا ھے انہیں عبادت میں لگائے رکھو کیونکہ ابلیس نے بھی بے پناہ عبادت کی تھی لیکن انسان کو اشرف کا مقام حقوق العباد کی تکمیل سے ملا ھے جو اس مسلمانوں کو اس طرف آنے نہ دو۔ یاد رھے کہ دینِ محمدی ﷺ کا علم حاصل کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض لازم ھے جسے ہمارے پاکستان و ہندوستان، افغانستان و ایران اور عراق و سعودی عرب و عرب امارات میں صرف اور صرف مولوی ملاؤں پیر و مرشد پر لاد کر اپنی ذمہداری سے آزاد سمجھتے ہیں لیکن دینِ محمدی ﷺ اس عمل کی سختی سے نفی کرتا ھے۔ علامہ اقبال ؒ نے تمام مولوی ملاؤں اور جعلی پیر و فقیروں کی دکانیں بند کرتے ہوئے قرآن پاک و احادیث کے مفہوم کو اپنے چند شعر کے سطور میں اس طرح واضع کیا آپ فرماتے ہیں کہ : سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا ، لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا؛ کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا چلو دیر آست درست آید کے محاورے کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ھم بھی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو دین محمدی ﷺ کے تمام تر قوانین کو مکمل لاگو اور رائج کرنا ہوگا تاکہ بہترین معاشرہ بن سکے۔ یاد رکھئے آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں ہر طرح کی تفریق کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور مقتدروں کو پابند کیا کہ وہ اللہ کے نظام کو سختی سے رائج کریں تاکہ اللہ کی نصرت و کامیابی داخل ہوسکے۔ خیر دیکھتے ہیں کہ انکے ارادے مثمم ہیں کہ نہیں یا ہمیشہ کیطرح اسٹبلشمنٹ سیاستدانوں کی طرح جھوٹ سے اور منافقت سے کام لیتی ھے کہ نہیں یا واقعی خالص اللہ سبحان تعالیٰ اور رسولِ خدا ﷺ کی رضا کیلئے یا پھر اس گندے ابلیسی، شیطانی و دجالی نظام سے جھاد کرتے ہیں کہ نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ بس میں مصطفیٰ ﷺ کے قائم کردہ نظام کا انتظار کررھا ھوں اور د ُعا کررھا ھوں کہ باعمل سچا مومن اس پاکستان کی کمان سنبھالنے والا اللہ سبحان تعالیٰ اپنے حبیب محمد ﷺ و اہلبیت مطہرات کے طفیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔۔۔ !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں