*فوتگی کی غیر شرعی رسومات اور معاشرتی بوجھ*
*فوتگی کی غیر شرعی رسومات اور معاشرتی بوجھ*
منگل 14 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا تاکہ ہم جہالت اور ہندوانہ طرزِ زندگی کو چھوڑ کر اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال سکیں۔ لیکن افسوس کہ آج 79 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا جینا اور مرنا سارا ہندو زدہ ہے۔ درست دینی معلومات نہ ہونے، قرآن پر غور نہ کرنے اور اندھی تقلید کی وجہ سے ہم نے فوتگی جیسے غم کے موقع پر بھی ایسی رسمیں اپنا لی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کسی دین کے خلاف نہیں آیا تھا بلکہ جہالت دور کرنے آیا تھا، لیکن آج فوتگی کی جاہلانہ رسومات نے غریب اور سفید پوش خاندانوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
فوتگی کا کھانا اور آثارِ صحابہ:
شادی بیاہ کی طرح فوتگی کے موقع پر بھی ہم نے جاہلانہ اور غیر شرعی رسمیں ایجاد کر لی ہیں، جو کہ شرعی اور اخلاقی طور پر انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔ سنت یہ ہے کہ جس گھر میں فوتگی ہو، محلے دار اور رشتہ دار تین دن تک ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں۔ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایسا معاملہ آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں میت والے گھر پر ہی الٹا سینکڑوں لوگوں کے کھانے کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، اور لوگ اسے نیکی سمجھ کر کھاتے ہیں۔ آثارِ صحابہ میں اس کی سخت ممانعت ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم (صحابہ کرام) میت کے گھر والوں کے ہاں اکٹھے ہونے اور ان کی طرف سے کھانا تیار کروانے کو جاہلیت کے نوحہ (ماتم) میں شمار کرتے تھے۔
یتیم کے مال کی پامالی اور قرآنی حکم:
فوتگی کے بعد جو بڑے پیمانے پر قل، دوجا یا چالیسویں کے نام پر کھانے پکائے جاتے ہیں، ان میں اکثر میت کا مال استعمال ہوتا ہے۔ شریعت کی رو سے میت کے انتقال کے فوراً بعد اس کا تمام مال ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ اگر میت کے ورثاء میں کوئی بھی نابالغ یا یتیم بچہ موجود ہو، تو اس کے مال سے کھانا پکانا اور لوگوں کو کھلانا سخت حرام ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں (سورہ النساء)۔
حاصلِ کلام
معاشرے کو خوشحال اور مالی بوجھ سے آزاد بنانے کا واحد حل یہی ہے کہ ہم ان تمام خود ساختہ، ہندوانہ اور غیر شرعی رسومات کو یکسر مسترد کر دیں اور صرف اسی راستے کو اپنائیں جو صحابہ کرام کا طریقہ تھا۔ فوتگی پر میت کے گھر والوں پر کھانے کا بوجھ ڈالنے کے بجائے سنت کے مطابق ان کی مالی اور اخلاقی دلجوئی کرنی چاہیے تاکہ معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی اور فلاحی بن سکے۔
وما علینا الا البلاغ المبین
الدعاَء
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333