اولاد کی تربیت: والدین کی خاموشی، معاشرے کی تباہی
✍️ فیصل جنجوعہ
تعلیمی تجزیہ نگار
ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرے، اچھے عہدے پر فائز ہو اور زندگی میں کامیاب ہو۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جس پر ہم بہت کم غور کرتے ہیں: کیا ہمارا بچہ صرف تعلیم حاصل کر رہا ہے، یا ایک بہتر انسان بھی بن رہا ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بچے صرف کتابوں سے نہیں سیکھتے، بلکہ اپنے استاد، تعلیمی ماحول اور روزمرہ کے رویوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی تعلیمی ماحول میں تشدد، نفرت، تعصب، تنگ نظری، دوسروں کی تذلیل یا اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنے کا رجحان پروان چڑھے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے کردار اور پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔
تعلیم کا مقصد کسی خاص سوچ کو زبردستی مسلط کرنا نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، اخلاق سنوارنا، سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھانا ہے۔ وہ تعلیم جو انسان کو برداشت، انصاف اور رحم نہ سکھا سکے، اپنے اصل مقصد سے دور ہو جاتی ہے۔بدقسمتی سے بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری مکمل طور پر تعلیمی اداروں کے سپرد کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ وہ فیس ادا کرنے کو اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھ لیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے پہلے اور سب سے اہم معلم ہوتے ہیں۔ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ ان کے بچے کیا سیکھ رہے ہیں، کس ماحول میں پرورش پا رہے ہیں، اور ان کے اندر کون سی اقدار پروان چڑھ رہی ہیں۔یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ اسکول ہو یا مدرسہ، کسی ایک نظام یا تمام اداروں کے بارے میں عمومی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ ہمارے ملک میں ہزاروں ایسے تعلیمی ادارے اور اساتذہ موجود ہیں جو دیانت، اعتدال، محبت، کردار سازی اور انسان دوستی کے ساتھ نئی نسل کی تربیت کر رہے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ادارہ بچوں میں مثبت اقدار، تنقیدی سوچ، قانون کا احترام اور باہمی رواداری کو فروغ دے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل ایک محفوظ، پرامن اور مہذب معاشرہ تعمیر کرے تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے تینوں اس ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی غفلت پوری زنجیر کو کمزور کر سکتی ہے۔
یاد رکھیے، بچے وہی بنتے ہیں جو وہ مسلسل دیکھتے، سنتے اور سیکھتے ہیں۔ اگر ہم انہیں احترام، انصاف، برداشت اور انسانیت سکھائیں گے تو وہ امن کے معمار بنیں گے، اور اگر ان کی تربیت میں ان اقدار کو نظرانداز کریں گے تو اس کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتے گا۔
اپنے بچوں کو صرف کسی تعلیمی ادارے کے حوالے نہ کریں، بلکہ ان کی تعلیم، تربیت، سوچ اور کردار پر مسلسل نظر رکھیں۔ یہی باشعور والدین کی پہچان اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔