12

جب علم انسانیت سے خالی ہو جائے….. ✍️ فیصل جنجوعہ تعلیمی تجزیہ نگار

جب علم انسانیت سے خالی ہو جائے…..

✍️ فیصل جنجوعہ
تعلیمی تجزیہ نگار

علم انسان کو بلند کرتا ہے، مگر صرف وہ علم جو شعور، اخلاق، تحمل اور انسانیت کے ساتھ ہو۔ اگر علم تکبر، نفرت، تعصب اور خود برتری کے احساس کو پروان چڑھانے لگے تو وہ روشنی کے بجائے تاریکی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ڈگریاں، القابات اور مذہبی یا دنیاوی علوم اس وقت تک قابلِ احترام نہیں ہوتے جب تک وہ انسان کو بہتر انسان نہ بنا دیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انسانیت کو نقصان صرف جہالت نے نہیں پہنچایا، بلکہ ایسے تعلیم یافتہ افراد نے بھی پہنچایا جنہوں نے اپنے علم، مذہبی یا فکری مقام اور اثرورسوخ کو نفرت پھیلانے، معاشرے کو تقسیم کرنے اور دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ مسئلہ علم نہیں، بلکہ علم کے ساتھ جڑی نیت، کردار اور اخلاق ہے۔ ایک عام اَن پڑھ انسان اپنی لاعلمی کی وجہ سے غلطی کر سکتا ہے، مگر اس کے لیے سیکھنے اور بدلنے کا دروازہ اکثر کھلا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی تعلیم یافتہ شخص اپنی معلومات کو غرور، تعصب یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے، تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ لوگ اس کی بات کو علم اور اختیار کی بنیاد پر درست سمجھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر مذہب، جو محبت، عدل، رحم، دیانت اور انسانی احترام کی تعلیم دیتا ہے، اگر اسے نفرت، تشدد یا دوسروں کی تذلیل کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ مذہب کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔ کسی بھی مذہب یا نظریے کا نام لے کر انسانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا، اختلاف کو دشمنی میں بدلنا یا اپنی رائے کو آخری سچ قرار دینا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ اصل عالم وہ نہیں جو صرف کتابیں پڑھ لے، بلکہ وہ ہے جو اختلاف میں بھی اخلاق برقرار رکھے، طاقت ہونے کے باوجود انصاف کرے، اور علم کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔ علم اگر عاجزی پیدا نہ کرے تو وہ ادھورا ہے، اور اگر انسان کو انسان کا احترام نہ سکھائے تو اس کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو زیادہ ڈگریوں سے پہلے زیادہ کردار، زیادہ برداشت، زیادہ مکالمے اور زیادہ انسانیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے تعلیم یافتہ افراد چاہییں جو معاشرے میں پل بنائیں، دیواریں نہیں؛ امید پیدا کریں، نفرت نہیں؛ اور اختلاف کو فساد کے بجائے فہم و مکالمے کا ذریعہ بنائیں۔
علم کی اصل عظمت اس کی مقدار میں نہیں، بلکہ اس کے کردار پر پڑنے والے اثر میں ہے۔ اگر علم انسان کو عاجزی، انصاف اور انسانیت نہ سکھا سکے، تو وہ اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں