7

*ہنہ اوڑک دہشت گرد حملہ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی دھرنے کے شرکا سے ملاقات، یقین دہانی پر احتجاج ختم*

*ہنہ اوڑک دہشت گرد حملہ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی دھرنے کے شرکا سے ملاقات، یقین دہانی پر احتجاج ختم*

بلوچستان کے علاقے ہنہ اوڑک میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد ائیرپورٹ روڈ پر جاری دھرنا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد ختم کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھرنے میں شریک ہوئے اور احتجاج کرنے والوں کے تحفظات اور مطالبات سنے، انہون نے کہا کہ ہم سے کوئی غلطی ہو گی تو اسے تسلیم کریں گے، وزیراعظم اورفیلڈ مارشل کی موجودگی میں فیصلے ہوئے، جو وعدے کیے بطور وزیر اعلیٰ ان پرعمل درآمد کا پابند ہوں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کومالی امداد، نوکری اور بچوں کو تعلیم دیں گے، سازش کے تحت ریاست کو بدنام کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

واضح رہے کہ 5 جولائی کو ہنّہ اوڑک میں ہوئے حملے میں 4 افراد جاں بحق اور 11 لاپتا ہوئے تھے۔

دوسری جانب مانگی ڈیم حملے میں شہید 14 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، شہدا کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔

شہدا کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک کے مقام پر دھرنا جاری ہے۔

زیارت میں بھی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے باہر متاثرہ خاندانوں کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا، لواحقین نے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

6 جولائی کو کچ مانگی میں 21 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر شہید کیا گیا تھا، جن کی میتیں گزشتہ رات سول اسپتال کوئٹہ لائی گئی تھیں۔

واقعے میں 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ ایک ڈی ایس پی سمیت 8 اہل کار محفوظ رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں