دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی قربانیاں اور امیدیں
از غنی محمود قصوری
زمینی لحظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں کشیدگی اور دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں بلکہ
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑیں سابقہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں
اس دوران مختلف دہشت گرد گروہوں نے ریاست پاکستان، سیکیورٹی فورسز، پولیس، عام شہریوں اور خود بلوچ عوام کو بھی نشانہ بنایا
میرا ذاتی مؤقف یہ ہے کہ بلوچستان کی اصل جنگ بلوچ اور پنجابی کی نہیں بلکہ پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستانیوں ہی کا ہوا ہے
یہ بات سچ ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف بلوچستان ہی معدنیات رکھتا ہے؟ کیا پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل موجود نہیں؟ یقیناً موجود ہیں
اور پاکستان کا ہر صوبہ اس ملک کی دولت ہے اور ہر خطہ اس سرزمین کا برابر کا حصہ ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل سے پوری قوم مستفید ہوا جائے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہے اور ایسا تبھی ہو سکتا جب اس صوبے،خطے میں امن ہو گا جب بدامنی ہوگی تو نا تو معدنیات نکالے جا سکتے اور نا ہی وہاں کی عوام ترقی کر سکتی
گزشتہ چند دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردوں کی جانب سے فورسز پر بڑے حملے کئے گئے جن میں پاک فوج اور پولیس کے کئی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا
ان واقعات نے پوری قوم کو غمزدہ کیا لیکن یہ مایوسی کا وقت نہیں بلکہ اتحاد، صبر اور استقامت کا وقت ہے
دشمن ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ پاکستانی عوام کے حوصلے پست ہوں یاد رکھیں مگر قومیں آزمائشوں سے ہی مضبوط بنتی ہیں نا کہ نا امیدی مایوسی سے
میں ذاتی طور پر جب کسی فوجی کی شہادت کی خبر سنتا ہوں تو دل یقیناً افسردہ ہوتا ہے
مگر یہ افسوس وقتی ہوتا ہے اس لئے کہ اس بات پر احساسِ فخر بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لئے فوجی نے وردی پہنی اور اپنا حلف نامہ اٹھایا تھا آج وہ اپنے اس حلف پر پورا اترتا ہے جو اس نے وطن کے دفاع کے لیے اٹھایا تھا
شہادت صرف ایک فرد کی قربانی نہیں بلکہ پوری قوم کی سلامتی کی ضمانت ہوتی ہے
ایک فوجی شہید ہوتا ہے تو اس کی جگہ لینے کے لیے کئی نوجوان تیار کھڑے ہوتے ہیں
پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام سے نہ چندہ مانگتے ہیں، نہ بندہ مانگتے ہیں۔ وہ صرف قوم کی دعائیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے طلبگار ہوتے ہیں یہی جذبہ انہیں ہر مشکل میں ثابت قدم رکھتا ہے
میری رائے میں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بیرونی عناصر کے کردار پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے
پاکستان کا سرکاری مؤقف بھی متعدد مواقع پر یہ رہا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار محفوظ ٹھکانے اور سہولتیں حاصل رہی ہیں اسی تناظر میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی عوامل پر بھی بحث ہوتی رہی ہے تاہم ایسے معاملات کی حتمی نوعیت کا تعین ریاستی ادارے اور قابلِ اعتماد شواہد ہی کر سکتے ہیں مگر پاکستان نے ثابت کیا کہ افغانستان اور ایران میں یہ لوگ پناہ لیتے تھے اب ایران میں ان کی پناہ لینا ناممکن ہے جبکہ افغانستان ان کی نرسری ہے
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کئے جائیں پاکستان نے ماضی میں مختلف ادوار میں مذاکرات کی کوششیں بھی کیں،لیکن جب دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی تو ریاست کو دوبارہ طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرنا پڑا
اسی لیے بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ جہاں مذاکرات ممکن ہوں وہاں ضرور ہونے چاہییں لیکن جو گروہ مسلسل ہتھیار اٹھائے رکھیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے
ماضی میں جنرل ضیاء الحق نے بھی بلوچ علیحدگی پسند جماعتوں سے مذاکرات کئے تاہم وقت نے دکھایا آخر کار انہوں نے خود ہی مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر ہتھیار کا راستہ چنا
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں
بھارت کو خالصتان، مقبوضہ کشمیر اور منی پور جیسے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے جبکہ افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ، شورش اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور لاکھوں افغان شہری مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ سال تک ایک کروڑ کے قریب رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ افغانی پاکستان میں 4 دہائیوں سے رہ رہے ہیں جن میں سے محض چند لاکھ ہی بمشکل واپس گئے ہیں
دنیا کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ ملکامریکہ کو بھی دہشت گردی اور داخلی سیکیورٹی کے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا جس کا عملی مظاہرہ دنیا نے 9/11 کو دیکھا اور اس کے بعد چند برس پہلے لوگوں نے دیکھا کہ دنیا کی طاقتور ترین امریکی فوج کے ٹینک اسی امریکہ میں چھین کر دہشت گردوں نے سڑکوں پر دوڑائے تھے تب مجبوراً امریکہ کو ان لوگوں کو بہت رحمانہ طریقے سے کچلنا پڑا تھا
تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ امریکہ جیسے دنیا کے طاقتور ترین ملک میں اس کی فضائیہ اور فوج کے سامنے تین مسافر طیارے اغواء کرکے پوری دنیا کی نظروں کے سامنے ٹوین ٹاورز سے ٹکرائے جس میں لگ بھگ 3300 لوگ مارے گئے اور دنیاکی مضبوط ترین امریکی فوج کچھ نا کر سکی مذید یہ کہ ان میں سے ایک طیارہ اپنے 40 مسافروں اور 4 ہائی جیکروں سمیت خود ہی پنسلوانیا میں مار گرانا پڑا تاکہ باقیوں کو بچایا جا سکے
جبکہ برطانیہ نے کئی برس تک آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) کی مسلح کارروائیوں کے خلاف جدوجہد کی اور اپنے ہزاروں فوجی قربان کئے
تاریخ ہمیںں یہی بتاتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے میں وقت لگتا ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور مسلسل قومی عزم درکار ہوتا ہے
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں
ایک وقت تھا جب مساجد، امام بارگاہیں، مزارات، بازار اور عوامی مقامات خودکش حملوں کی زد میں رہتے تھے آج حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں اب عوام کی بجائے محض سیکیورٹی فورسز پر ہی حملے ہو رہے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا بلکہ یہ ان ہزاروں شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کیں ہیں
آج جب بھی کوئی سپاہی یا پولیس اہلکار شہید ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا بلکہ پوری قوم غمگین ہوتی ہے ان ماؤں کو سلام جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن کے نام کیا ان باپوں کو سلام جنہوں نے اپنے لختِ جگر کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا قبول کیا
ان بیویوں اور بچوں کو سلام جنہوں نے اپنے سہارے کھو کر بھی پاکستان کے وقار کو سربلند رکھا ہوا ہے
ان حالات میں کچھ لوگ مایوس ہو کر مختلف باتیں کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ
ہمیں اختلافِ رائے کا حق ضرور ہے لیکن ایک بات پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں
اکیلی فوج ہی نہیں لڑ سکتی مقابلہ ہم نے بھی کرنا ہے ان دہشتگردوں کا سوشل میڈیا پر بھی اور ان کے پراپیگنڈے کو ناکام بنانا ہے ہرجگہ کیونکہ مایوسی کفر ہے
ویسے جب وہ دہشت گرد اگر مایوس نہیں تو پھر ہم مایوس کیوں ہیں؟
پاکستان کا امن، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو ہمیشہ امن کا گہوارہ بنائے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے زخمیوں کو صحت عطا کرے اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کو ہر محاذ پر کامیابی عطا فرمائے
اسلام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
افواجِ پاکستان زندہ باد