کیا مہنگائی واقعی کم ہوئی ہے؟
تحریر: اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
حکمرانوں کی جانب سے مہنگائی میں کمی کی دعوے کیے جا رہے ہیں۔خوشنما اعداد وشمار کے ذریعے بتایا جا رہا ہے کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر11.1 فیصد پر آگئی ہے،اس سے قبل مئی میں11.7 فیصد ریکارڈکی گئی۔عالمی بینک کی جانب سے رواں مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو تقریبا3.0 فیصد سے لےکر3.4فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے،تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔اسلام آباد سے ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 13.52 فیصد پر آگئی. یہ بھی کہا گیا ہے کہ 23 اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔اوپر جو اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں،عوام کے لیے بے معنی ہیں۔حکومت کے پیش نظر یہ ہونا چاہیے کہ ایک عام آدمی اپنی گزر بسر کیسے کرتا ہے؟عام آدمی بڑی مشکل سے حالات کا مقابلہ کر رہا ہے۔بجلی کے علاوہ دیگر بلز عام آدمی کی پریشانی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔توانائی کی بڑھتی قیمتیں کروڑوں زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔روپے کی ویلیو مسلسل کم ہو رہی ہے۔صرف بجلی کے بل ادا کرنا عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔حکومت کے دعوے کہ مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے،عوامی سطح پر ان دعووں کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ماضی کی نسبت آمدنی کام ہوئی ہے لیکن اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔آمدنی اور قیمتوں میں واضح فرق کی وجہ سے عوامی بے چینی میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ٹیکسز کی شرح میں اضافہ انتہائی ہولناک ہے۔ہرچیز مسلسل مہنگی ہو رہی ہے۔سبزیاں،دالیں،گھی،چینی سمیت دیگر اشیائےخوردونوش کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔مہنگائی کے علاوہ بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔بین الاقوامی صورتحال اثر انداز ہو رہی ہے لیکن عوام کو جینے کا حق بھی دینا چاہیے۔ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ اس کی گزر بسر کچھ بہتر طریقے سے ہو سکے۔اس کےبچے تعلیم حاصل کر سکیں۔جو مستقل ملازم ہیں یا معاشی طور پر بہتر ہیں، تو وہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔جو افراد روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی دار ہیں،ان کا گزارا انتہائی مشکل سے ہو رہا ہے۔جو مشکل سے گزارا کر رہے ہیں ان کے لیے حکومتی اعدادو شمار مذاق کے مصداق ہیں۔کروڑوں افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔خوراک کے علاوہ صاف پانی بھی میسر نہیں۔کروڑوں افراد بہتر علاج کے لیے ترس رہے ہیں۔پاکستان میں علاج انتہائی مہنگا ہو چکا ہے۔روزگار انتہائی مشکل سے ملتا ہے۔حکومت کوئی ایسی پالیسیاں بنائے،جس سے ملک میں غیر یقینی صورتحال فوری طور پر بہتر ہو سکے۔عام خاندان رات کو اس بے چینی کے ساتھ سوتا ہے کہ صبح کیا کھایا جائے گا؟لوگ بھکاری بن رہے ہیں۔پاکستان میں ہر شعبہ زوال پذیر ہو رہا ہے۔حکمران یہ دعوے کرتے ہیں کہ بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں،لیکن حقائق برعکس ہیں۔ابھی تک ایسا منصوبہ نہیں بنایا جا سکا جس سے ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو سکے۔دعوےکرنے سے حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا۔معاشی صورتحال ابتر ہو رہی ہے،اگر فوری طور پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں حالات بہت ہی بدتر ہو جائیں گے۔
بین الاقوامی صورتحال بھی ملک کی معیشت پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔مشرق وسطی میں پھیلتی کشیدگی اور دیگر علاقوں میں بدترین حالات پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔سیاسی عدم استحکام بھی ملکی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ان مسائل کے باوجود معاشی صورتحال کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔کئی ممالک پاکستان سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں،لیکن وہاں کی معیشت بہت ہی بہتر ہے۔حکومت میں موجود تمام اتحادی مل کر پاکستان کی معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اپوزیشن کے ساتھ بھی مکالمہ کیا جائے۔پاکستان اس وقت واقعی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے،تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر کوئی بہتر صورتحال نکال سکتی ہیں۔حکمرانوں کی مراعات مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں لیکن عام آدمی کے لیے پریشانیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔حکمران اپنی مراعات میں کمی کر کے عوام کو مثبت پیغام دے سکتے ہیں۔انڈسٹری اور زراعت کے شعبہ جات فوری توجہ کے طلبگار ہیں۔مہنگائی جیسے مسئلے کی وجہ سے عوام حکومت سے بدظن ہو رہی ہے۔مہنگائی کی ستائی عوام موجودہ حکمرانوں سے تنگ آ چکی ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان میں موجود سرمایہ کاروں کو بھی چاہیے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔بین الاقوامی طور پر بھی سرمایہ کاروں کو دعوت دی جا سکتی ہے۔سعودی عرب،چین اور دیگر کئی ممالک یا سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں گے۔قرضے بھی پاکستانی عوام کا لہو نچوڑ رہے ہیں۔قرضوں میں کمی لازمی کرنی چاہیے ورنہ معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ سود کی صورت میں چلا جاتا ہے۔پاکستان میں معدنیات کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں معیشت کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہے لیکن انقلابی اقدامات اٹھا کر صورتحال بہتر کی جا سکتی ہے۔قرض حاصل کر کے معیشت کو بہتر نہیں کیاجا سکتا اور نہ قرضے حاصل کرنا کوئی بڑی کامیابی ہے۔قرض کی رقم اور ملکی وسائل کو تعمیری طور پر استعمال کیا جائے تو پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔اب بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ سنبھلا نہ جا سکے۔کوشش سے حالات کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
کیا مہنگائی واقعی کم ہوئی ہے؟ تحریر: اللہ نوازخان
حقوق العباد۔۔۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سردار احمد تبسم گڈانی ۔۔۔۔۔
حقوق العباد۔۔۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سردار احمد تبسم گڈانی ۔۔۔۔۔
ایس ایس پی سمیر نورچنہ کا دبنگ ایکشن،جعل ساز باپ بیٹا ناکام، وراثتی مکان اصل حقداروں کے سپرد نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ایم پی اے سردار ظفر عباس خان بلوچ نے ڈپٹی کمشنر خوشاب ڈاکٹر