*عالمِ مشرق کا جنیوا اور قانونِ استبدال: امتِ مسلمہ کی تقدیر بدلنے کا لمحۂ موجود*
اتوار 28 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
امت واحدہ کا قرآنی تصور
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس امت کو جغرافیائی، نسلی یا لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے ایک ایسی وحدت قرار دیا ہے جس کی جڑیں کلمہ توحید اور رسالت میں پیوست ہیں۔ سورہ الانبیاء کی آیت 92 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔
لیکن تاریخ کے مختلف ادوار کی طرح آج بھی امت مسلمہ ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف عالمی استکباری قوتیں یعنی یہود و نصاریٰ اور ان کے حواری مسلمانوں کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں، اور دوسری طرف مسلم حکمرانوں کی اکثریت مصلحت پسندی اور بزدلی کا شکار ہے۔ ایسے میں قرآن و حدیث کا ایک آفاقی قانون حرکت میں آتا ہے، جسے قانون استبدال یعنی قوموں کی تبدیلی کا قانون کہا جاتا ہے۔
1۔ سورہ محمد اور سنت الٰہی: قانون استبدال کیا ہے؟
جب دین کے دعویدار اپنے فرائض، نصرت دین اور مظلوموں کی حمایت سے منہ موڑتے ہیں، تو اللہ کا دین کسی کا محتاج نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سورہ محمد کی آخری آیت یعنی آیت 38 میں ایک آفاقی اور سخت تنبیہ فرماتا ہے کہ اور اگر تم دین سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نافرمان اور بخل کرنے والے نہیں ہوں گے۔
اسی طرح سورہ المائدہ کی آیت 54 میں ارشاد ہے کہ عنقریب اللہ ایسی قوم کو لائے گا جس سے اللہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے، جو مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
موجودہ دور میں عرب حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور فلسطین کے مظلوموں سے منہ موڑنا، اس قرآنی آیت کی واضح ترین تصدیق ہے کہ انہوں نے ذمہ داری سے منہ پھیرا، تو اللہ نے نصرت کا اعزاز ان سے چھین لیا۔
2۔ عجم کا تاریخی کردار اور فکر اقبال کی روشنی میں تہران کا مرکز بننا
جب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی قوم ہوگی جو عربوں کے منہ پھیرنے پر ان کی جگہ لے گی؟ تو آپ ﷺ نے واضح اشارہ فرمایا۔ صحیح مسلم، صحیح بخاری اور مشکوۃ المصابیح کی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہوتا، تو ان کی قوم میں سے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کر لیتے یعنی یہ حدیث صحیح بخاری میں 4897 اور صحیح مسلم میں 2546 نمبر پر موجود ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ علم دین، فقہ اور حدیث کی تدوین میں ائمہ عجم نے یہ حق ادا کیا، اور آج عسکری و سیاسی میدان میں بھی اہل فارس یعنی ایران نے عالمی استکبار کے سامنے ڈٹ کر اور فلسطین کی عملی نصرت کر کے ثابت کیا ہے کہ غیرت ایمانی عجم میں زندہ ہے۔
یہی وہ تاریخی اور سیاسی حقیقت تھی جس کی پیش گوئی اور خواہش حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے اپنے اس لازوال شعر میں کر دی تھی کہ
تہران ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
اقبال نے جنیوا کا ذکر اس لیے کیا تھا کیونکہ اس دور میں جنیوا عالمی سیاست اور لیگ آف نیشنز کا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں دنیا کے فیصلے ہوتے تھے۔ اقبال کی خواہش تھی کہ مسلم امہ اور بالخصوص مشرق کے فیصلے مغرب کے بجائے تہران کی دھرتی سے ہوں اور مسلم بلاک اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے۔ آج جب ہم ایران کو عالمی استکبار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے دیکھتے ہیں، تو لگتا ہے کہ اقبال کی وہ خواہش اب تعبیر کا روپ دھار رہی ہے اور عالم مشرق کا سیاسی و عسکری محور مغرب کی غلامی سے آزاد ہو رہا ہے۔
3۔ مسلکی دیواروں کا خاتمہ: اساسی مشترکات پر اتحاد کی ضرورت
آج کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے امت کو شیعت اور سنیت کی فروعی بحثوں سے بالاتر ہونا پڑے گا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین بنیادی عقائد بالکل مشترک ہیں۔ دونوں کا خدا ایک، رسول ایک اور کلمہ ایک ہے۔ دونوں کی کتاب یعنی قرآن مجید ایک ہے، جس میں ایک نقطے کا بھی فرق نہیں ہے۔ دونوں کے ہاں نماز، روزہ، حج اور زکوۃ جیسے ارکان اسلام فرض ہیں۔ اصول دین میں یکسانیت کے بعد فروعات پر لڑنا دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب کرنا ہے۔
غزہ کے حالیہ معرکے نے اس مسلکی خلیج کو ہمیشہ کے لیے پاٹ دیا ہے۔ جب ایران نے غزہ کے مظلوم سنی مسلمانوں اور حماس کے مجاہدین کی پشت پناہی کے لیے اپنے مفادات، معیشت اور جانوں کی قربانی دی، تو دنیا پر ثابت ہو گیا کہ اسلام میں کلمے کا رشتہ ہر رشتے سے بڑا ہے۔
4۔ مشترکہ ایمانی محاذ: ایران، پاکستان، حوثی اور فلسطینی
موجودہ دور کا معرکہ کسی ایک فرد یا ایک ملک کا نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ ایمانی محاذ بن چکا ہے جس میں ہر غیور مسلم قوت اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔
پہلا اہم کردار فلسطین کے مجاہدین یعنی حماس اور عزالدین القسام کا ہے جنہوں نے اپنے خون اور گھروں کی قربانی دے کر صیہونیت کے ناقابل شکست ہونے کے بت کو پاش پاش کیا۔
دوسرا اہم کردار ایران کا ہے جس نے تمام تر عالمی پابندیوں اور خطرات کے باوجود اسرائیل پر براہ راست میزائل حملے کیے اور امریکہ کے غرور کو توڑ کر تہران کو غیور مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز بنا دیا۔
تیسرا اہم کردار یمن کے حوثی یعنی انصار اللہ کا ہے جنہوں نے سمندری حدود میں صیہونی معیشت کا گلا گھونٹ کر جرات کی نئی تاریخ رقم کی۔
چوتھا اہم کردار پاکستان کا دفاعی اور اسٹریٹجک پس منظر ہے جو امت مسلمہ کی واحد جوہری طاقت ہے اور جس کا وجود دشمنوں کے دلوں میں لرزہ طاری رکھتا ہے۔
جب یہ تمام قوتیں یکجا ہوتی ہیں، تو کفر پسپا ہوتا ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر آنا پڑتا ہے۔
حاصل کلام اور اپیل: وقت کی پکار
اب وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ بیدار ہو جائے۔ اب وقت رنگ، نسل، وطن اور مسلک کے دائروں سے نکل کر صرف مسلمان بننے کا ہے۔ اگر ہم آج بھی خانوں میں بٹے رہے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ایران، پاکستان، یمن اور فلسطین کے مجاہدین نے مل کر باطل کے خلاف جو دیوار قائم کی ہے، اور تہران جس طرح عالم مشرق کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کا قانون استبدال حرکت میں آ چکا ہے۔ اعزاز اسی کا ہوگا جو اس مشترکہ ایمانی محاذ کا حصہ بنے گا۔ آئیے تفرقوں کو مٹائیں، اپنی مشترکات پر اکٹھے ہوں اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کفر کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیت 103 میں ارشاد ہے کہ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔
الدعاء:
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333