12

*نماز اشراق، نماز چاشت اور نماز اوابین کے فضائل رکعت کی مسنون تعداد اور ادائیگی کے طریقہ*

*نماز اشراق، نماز چاشت اور نماز اوابین کے فضائل رکعت کی مسنون تعداد اور ادائیگی کے طریقہ*

جمعہ 19 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
دن کے مختلف اوقات میں ادا کی جانے والی نفلی نمازیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، گناہوں کی معافی اور روزمرہ کی زندگی میں برکت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان نفلی عبادات میں نمازِ اشراق، نمازِ چاشت اور نمازِ اوابین کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسلمان ان عظیم فضائل سے محروم رہتے ہیں۔ ذیل میں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ان نمازوں کے فضائل، رکعات اور ادائیگی کا طریقہ تفصیلاً بیان کیا جا رہا ہے۔

*بھائیو اور بہنو!*
*یہ نفلی نمازیں روزانہ باقاعدہ ادا کیجئے اور انشاءاللہ جنت کے حقدار بنیں*

*نمازِ اشراق اور نمازِ چاشت (صلوۃ الضحیٰ)*
شرعی اور علمی اعتبار سے یہ دونوں نمازیں دن چڑھے کی نماز یعنی صلوۃ الضحیٰ کا حصہ ہیں۔ اشراق اس کا بالکل ابتدائی وقت ہے اور چاشت اس کا مستحب وقت ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق چاشت کی اس نماز کو ہی اصل میں نمازِ اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز) کہا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں دھوپ کی تیزی سے جلنے لگیں۔
فضائل:
جامع ترمذی کی روایت کے مطابق جو شخص فجر کی نماز باجماعت ادا کرے، پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، اور پھر دو رکعت نماز (اشراق) پڑھے، تو اسے ایک مکمل حج اور عمرے کا ثواب ملتا ہے۔
صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور ہر جوڑ پر روزانہ ایک صدقہ لازم ہے۔ چاشت کی دو رکعتیں انسان کی طرف سے ان تمام جوڑوں کا صدقہ ادا کر دیتی ہیں۔
رکعات کی تعداد:
چاشت اور اشراق کی کم از کم تعداد دو رکعات ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی چار رکعات پڑھتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا اس سے زیادہ بھی پڑھتے تھے۔
فتحِ مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعات پڑھنا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا انسان اپنی سہولت کے مطابق دو، چار، آٹھ یا بارہ رکعات پڑھ سکتا ہے، تاہم چار رکعات پڑھنا بہترین اور مسنون عمل ہے۔
ادائیگی کا طریقہ اور وقت:
سلانوالی اور سرگودھا کے وقت کے مطابق، جب فجر کے بعد سورج طلوع ہو جائے تو اس کے ٹھیک بیس منٹ بعد مکروہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔ اس وقت دو یا چار رکعت اشراق کی نیت سے عام نفل نماز کی طرح ادا کی جائیں۔
اگر کوئی شخص اس وقت نہ پڑھ سکے، تو صبح نو سے گیارہ بجے کے درمیان جب دھوپ تیز ہو جائے، وہ چاشت کی نیت سے دو دو رکعت کر کے یہ نماز ادا کر سکتا ہے۔ اس میں قرأت کی کوئی خاص سورت مقرر نہیں ہے، جو سورت یاد ہو پڑھی جا سکتی ہے۔
مغرب کے بعد کی نماز (عرفِ عام میں نمازِ اوابین)
مغرب کے فرض اور سنتوں کے بعد نوافل ادا کرنا سلف صالحین کا مستقل معمول رہا ہے، جسے عوامی عرف میں نمازِ اوابین کے نام سے جانا جاتا ہے۔
فضائل:
سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات اس طرح ادا کرے کہ ان کے درمیان کوئی بری بات زبان سے نہ نکالے، تو اسے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اگرچہ اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن فضائلِ اعمال اور مغرب و عشاء کے درمیانی وقت کو عبادت میں گزارنے کی فضیلت قرآن و سنت سے عام اصولوں کے تحت ثابت ہے۔
رکعات کی تعداد اور طریقہ:
اس نماز کی مسنون تعداد چھ رکعات ہے۔ اسے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مغرب کے فرض اور مؤکدہ سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد، دو دو رکعت کی نیت کر کے تین سلام کے ساتھ چھ رکعات نفل ادا کی جائیں۔ ان نوافل میں بھی قرآنِ کریم کی کوئی بھی سورت پڑھی جا سکتی ہے۔
خلاصہ:
دینِ اسلام نے عبادات میں مسلمانوں کے لیے بڑی وسعت اور آسانی رکھی ہے۔ اگر کوئی شخص وقت کی کمی کا شکار ہو تو وہ روزانہ صبح کے وقت کم از کم دو یا چار رکعت چاشت (اوابین) پڑھنے کا معمول بنا لے، تو وہ دن بھر کے صدقے اور حج و عمرے کے ثواب کا حقدار بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں سنتوں اور نوافل کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں