7

*​کسبِ حرام اور اس کے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات* جمعرات 18 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*​کسبِ حرام اور اس کے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات*

جمعرات 18 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

بہنو اور بھائیو! بھول میں نہ رہنا۔ یہ دنیا عارضی ہے اور یہاں کی گئی ایک ایک پائی کا حساب ہمیں اپنے رب کے حضور دینا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کو اس بات کی کچھ پروا نہیں ہوتی کہ انہوں نے مال کہاں سے کمایا ہے اور کن ذرائع سے حاصل کیا ہے۔ انسانی نفس کی حرص کا یہ عالم ہے کہ بس کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا ہو جائے، چاہے وہ مال چوری کا ہو، رشوت کا ہو، کسی کا حق مار کر حاصل کیا گیا ہو، سود سے ہو، یتیم کا مال ہو، زکوٰۃ کی رقم ہو، یا جھوٹ، فریب اور دھوکے سے حاصل کیا گیا ہو۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام کی روشنی میں حرام کمائی کے ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
حرام مال سے صدقہ اور خیرات کی شرعی حیثیت
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید حرام طریقے سے پیسہ کما کر اس میں سے کچھ حصہ مسجد، مدرسے یا غریبوں کو دے کر وہ گناہوں سے پاک ہو جائیں گے۔ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ حرام مال سے کیا گیا صدقہ ہرگز قبول نہیں ہوتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے حرام کا مال جمع کیا یعنی کمایا، پھر اس سے صدقہ کر دیا تو اس کو صدقہ کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اس پر اس حرام مال کمانے کا وبال ہوگا۔
حوالہ جات کے لیے دیکھیئے: صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 3216 اور 3367۔ صحیح الموارد، حدیث نمبر 665 اور 693۔ الترغیب والترہیب، جلد 2 صفحہ 8، جلد 3 صفحہ 18، جلد 2 صفحہ 65۔ صحیح الترغیب، حدیث نمبر 752، 880 اور 1719۔

حرام خور کا انجام اور جہنم کی آگ:

حرام کمائی سے بننے والا جسم اللہ تعالیٰ کو قبول نہیں ہے۔ ایسا جسم جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ جسم جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گا جو کہ حرام کمائی سے پروان چڑھا ہو۔ اس حدیث کی تصدیق صحیح الترغیب کی حدیث نمبر 1719 سے بھی ہوتی ہے۔
قبولیت دعا سے محرومی
جس شخص کی کمائی حرام کی ہو اس کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ آج کل ہماری دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ رزق حلال کا نہ ہونا بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام کے درمیان ایک ایسے شخص کا نقشہ کھینچا جو کہ لمبا سفر کر کے بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیا۔ اس کے سر کے بال گرد و غبار سے اٹے ہوئے تھے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر دعائیں کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور حرام مال اس کی غذا ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول کی جائے! یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی تفصیلاً موجود ہے۔
بیت اللہ جیسے بابرکت مقام میں اور حج جیسے عظیم موقع پر ایک شخص خانہ کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر ہی کیوں نہ دعا کرے، اس کی دعا اس وقت تک قبول نہ ہو گی جب تک کہ اس کا رزق حلال نہ ہو۔
آثار صحابہ کی روشنی میں احتیاط
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رزق حلال کے معاملے میں اس قدر حساس تھے کہ شک والی چیز سے بھی دور رہتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نادانی میں اپنے غلام کی لائی ہوئی ایسی چیز کا لقمہ چکھ لیا جو کہ نجومی کی اجرت سے حاصل کی گئی تھی۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فوراً حلق میں انگلی ڈال کر قے کر دی اور وہ لقمہ باہر نکال دیا، کیونکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ جس جسم کی پرورش حرام سے ہو، اس کے لیے آگ ہی بہتر ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔

حاصل کلام:
میرے عزیز بھائیو اور بہنو! حرام مال عارضی طور پر تو زندگی میں آسائشیں لا سکتا ہے، لیکن یہ دل کا سکون چھین لیتا ہے، اولاد کو نافرمان بنا دیتا ہے، گھروں سے برکت ختم کر دیتا ہے اور آخرت میں رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ آئیے اللہ سے صرف اور صرف رزق حلال کا تقاضا کریں۔

الدعا:
یا اللہ تعالی میں تجھ سے رزق حلال کا سوال کرتا ہوں اور رزق حرام سے تیری پناہ مانگتا ہوں،
آمین یا رب العالمین۔

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں