3

*سیرت خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ* منگل 16 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*سیرت خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ*

منگل 16 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت اور زندگی تاریخ اسلام کا ایک ایسا روشن باب ہے جس نے دنیا کے سیاسی، سماجی اور عدالتی نظام پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ آپ اسلام کے دوسرے خلیفہ، عدل و انصاف کے پیکر اور ایک عظیم مدبر تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبول اسلام
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مکہ کے معزز قبیلے قریش کی شاخ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ عام الفیل کے تقریباً تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار مکہ کے ان چند افراد میں ہوتا تھا جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے، اور اپنی بہادری، خطابت اور سپہ گری کی وجہ سے پبلک ڈیلنگ اور سفارت کاری کے امور میں ماہر مانے جاتے تھے۔
ابتدا میں آپ اسلام کے شدید مخالفین میں شامل تھے، لیکن نبوت کے چھٹے سال اپنی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید کی استقامت اور سورہ طہ کی آیات مبارکہ سن کر آپ کا دل پگھل گیا اور آپ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی تقویت ملی اور انہوں نے پہلی بار بیت اللہ میں باجماعت نماز ادا کی، اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو “فاروق” یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والے کا لقب دیا۔
دور خلافت اور فتوحات
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سن 13 ہجری میں آپ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپ کا دس سالہ دور خلافت اسلامی تاریخ کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ اس مختصر عرصے میں اسلامی ریاست ایک عالمی طاقت بن کر ابھری۔ آپ کے دور میں قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتیں زیر نگیں ہوئیں اور عراق، شام، مصر، ایران اور بیت المقدس سمیت وسیع وعریض علاقے اسلامی قلمرو میں شامل ہوئے۔ بیت المقدس کی فتح کے وقت آپ کی سادگی اور عدل کو دیکھ کر وہاں کے غیر مسلم بھی حیران رہ گئے۔
انتظامی اصلاحات اور مجددانہ کارنامے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صرف فاتح ہی نہیں بلکہ ایک بے مثل منتظم بھی تھے۔ آپ نے ایک وسیع ریاست کو چلانے کے لیے جدید انتظامی اصول وضع کیے جو آج بھی دنیا کے مروجہ قوانین کی بنیاد ہیں۔ آپ کے چند نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:
ریاست کو صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کیا اور وہاں باقاعدہ گورنرز اور قاضی مقرر کیے۔
عدالتوں کو انتظامیہ سے الگ کر کے عدلیہ کا آزاد نظام قائم کیا۔
باقاعدہ بیت المال (فنانس ڈیپارٹمنٹ) قائم کیا اور ہر شہری کا وظیفہ مقرر کیا۔
فوج کا مستقل محکمہ قائم کیا، چھاؤنیاں بنائیں اور سپاہیوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
قمری ہجری کیلنڈر کا آغاز کیا جو آج تک مسلمانوں کا سرکاری تقویم ہے۔
پولیس کا نظام، راتوں کو گشت کا طریقہ اور ڈاک کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا۔
زراعت کی ترقی کے لیے نہریں کھدوائیں اور آبپاشی کا نظام بہتر کیا۔
عدل و انصاف اور خوف خدا
عمر فاروق اور عدل و انصاف لازم و ملزوم بن چکے تھے۔ آپ کی نظر میں شاہ و گدا اور اپنے و بیگانے سب برابر تھے۔ آپ کا یہ قول تاریخ کا حصہ ہے کہ “اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا حساب عمر سے لیا جائے گا”۔
آپ راتوں کو بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ عوام کے احوال سے واقف ہو سکیں۔ ایک مرتبہ گشت کے دوران جب ایک غریب خاندان کو بھوکا پایا تو بیت المال سے خود اپنے کندھے پر آٹے کی بوری اٹھا کر ان کے گھر پہنچائی۔ آپ کی زندگی انتہائی سادہ تھی، لباس پر کئی پیوند لگے ہوتے تھے اور بیت المال سے صرف اتنا ہی وظیفہ لیتے تھے جس سے ایک عام انسان کا گزر بسر ہو سکے۔
شہادت
ذوالحجہ سن 23 ہجری میں ایک مجوسی غلام ابو لولو فیروز نے نماز فجر کے دوران آپ پر خنجر سے قاتلانہ حملہ کیا۔ آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام کو جام شہادت نوش فرما گئے۔ آپ کو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
خلاصہ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اقتدار اور طاقت کو ذاتی عیش و عشرت کے بجائے خلق خدا کی خدمت اور انصاف کے قیام کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کی قائم کردہ اصلاحات اور حکمرانی کے اصول آج بھی دنیا بھر کے رہبروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمارے وطن عزیز کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا حکمران عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں