*سانحہ کربلا کا حقیقی پس منظر، واقعات اور دربارِ یزید تک کی تفصیل*
جمعہ 26 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
سانحہ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ المناک اور دلدوز واقعہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ محض دو شخصیتوں یا دو خاندانوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اسلامی نظامِ خلافت، سیاسی اقدار اور حق و باطل کے اصولوں کا ایک عظیم معرکہ تھا۔ اس واقعے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی طرف داری سے بالا تر ہو کر، مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کے پس منظر، اصل محرکات اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔
واقعے کا پس منظر اور بنیادی وجوہات:
اس سانحے کی بنیاد اس وقت پڑی جب سن ساٹھ ہجری میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد نامزد کر دیا تھا۔ یہ نامزدگی اسلامی تاریخ میں ایک بالکل نیا موڑ تھی، کیونکہ اس سے پہلے خلافت کا نظام شوریٰ، مصلحت اور امت کے مقتدر لوگوں کے مشورے سے طے ہوتا تھا، جیسا کہ خلفائے راشدین کے دور میں ہوا۔ یزید کی ولی عہدی سے خلافت کا نظام ملوکیت یعنی خاندانی بادشاہت میں تبدیل ہو رہا تھا، جس پر امت کے کبار صحابہ کو شدید تحفظات تھے۔
امیر معاویہ کی وفات کے بعد جب یزید نے اقتدار سنبھالا، تو اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ وہ خاص طور پر سیدنا حسین بن علی، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اس کی بیعت لیں۔ عبداللہ بن عمر نے امت کے انتشار سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کی، جبکہ عبداللہ بن زبیر مکہ چلے گئے۔ نواسہ رسول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت سے صاف انکار کر دیا۔ آپ کا یہ انکار ذاتی اقتدار کے لیے نہیں تھا، بلکہ آپ کا موقف یہ تھا کہ یزید کا کردار اور اس کی نامزدگی کا طریقہ کار اسلامی خلافت کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اور اگر اس وقت خاموشی اختیار کر لی گئی تو دین کا سیاسی نظام ہمیشہ کے لیے مسخ ہو جائے گا۔ بیعت سے انکار کے بعد امام حسین مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔
اہلِ کوفہ کے خطوط اور مکہ سے روانگی:
جب اہلِ کوفہ کو معلوم ہوا کہ امام حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا ہے اور وہ مکہ میں ہیں، تو انہوں نے آپ کو سینکڑوں خطوط لکھے۔ ان خطوط میں کوفیوں نے لکھا کہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے، آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم یزید کی حکومت سے بیزار ہیں اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ کی قیادت میں حق کا ساتھ دیں گے۔
امام حسین نے کوفہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا۔ جب مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے، تو کوفہ کے ہزاروں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر امام حسین کے لیے بیعت کی اور شہر کا ماحول بظاہر امام حسین کے حق میں نظر آیا۔ حضرت مسلم بن عقیل نے مکہ میں امام حسین کو خط لکھ دیا کہ یہاں کے حالات سازگار ہیں، آپ فوراً کوفہ تشریف لے آئیں۔
دوسری طرف، یزید کو جب کوفہ کے حالات کی خبر ملی، تو اس نے بصرہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بھی بنا کر وہاں بھیجا اور سخت کارروائی کا حکم دیا۔ عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ پہنچتے ہی ظلم و ستم اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا۔ اس نے کوفہ کے بڑے سرداروں کو ڈرایا اور لالچ دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو کوفی چند گھنٹے پہلے تک حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے، وہ آہستہ آہستہ ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ حضرت مسلم بن عقیل کو اکیلا پا کر گرفتار کر لیا گیا اور انہیں نہایت بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
ادھر مکہ میں، حضرت مسلم بن عقیل کا مثبت خط ملنے کے بعد، امام حسین نے کوفہ روانگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ مکہ میں موجود جلیل القدر صحابہ، جیسے عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور محمد بن الحنفیہ نے امام حسین کو کوفہ جانے سے شدید روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں، انہوں نے پہلے آپ کے والد حضرت علی اور بھائی حضرت حسن کے ساتھ بھی بے وفائی کی تھی، اس لیے ان پر بھروسہ نہ کیا جائے۔ لیکن امام حسین چونکہ مکہ سے روانہ ہو چکے تھے اور حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر انہیں راستے میں ملی، اس وقت تک معاملہ بہت آگے بڑھ چکا تھا اور مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے اپنے بھائی کے خون کا قصاص لینے کا عزم ظاہر کیا، چنانچہ امام حسین نے اپنا سفر جاری رکھا۔
کربلا میں آمد اور محاصرہ
امام حسین کا قافلہ، جس میں ان کے اہل خانہ، خواتین اور بچے شامل تھے، جب عراق کی حدود میں داخل ہوا، تو عبیداللہ بن زیاد کے بھیجے ہوئے ایک لشکر نے، جس کی قیادت حر بن یزید تمیمی کر رہا تھا، امام کے قافلے کو روک لیا۔ حر نے امام کو کوفہ جانے سے روک دیا اور مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے راستے پر چلیں جو نہ مدینہ جاتا ہو اور نہ کوفہ۔ بالاخر دو محرم اکسٹھ ہجری کو امام حسین کا قافلہ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں خیمہ زن ہو گیا۔
کچھ ہی دنوں میں عبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کی قیادت میں ایک بہت بڑا لشکر کربلا بھیجا۔ عمر بن سعد نے امام حسین کے سامنے یزید کی بیعت کی شرط رکھی۔ تاریخی روایات کے مطابق،
حضرت امام حسین علیہ سلام نے امت کو جنگ اور خون خرابے سے بچانے کے لیے عمر بن سعد کے سامنے تین منصفانہ شرطیں رکھیں:
1- پہلی یہ کہ مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے،
2- دوسری یہ کہ مجھے سلطنتِ اسلامیہ کی کسی سرحد پر بھیج دیا جائے جہاں میں عام مسلمانوں کی طرح رہوں۔
3- تیسری یہ کہ میرا راستہ چھوڑ دیا جائے تاکہ میں خود دمشق جا کر یزید سے براہِ راست بات کر لوں۔
عمر بن سعد ان شرائط پر راضی تھا اور اس نے عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھا کہ معاملہ امن سے حل ہو سکتا ہے۔ لیکن عبیداللہ بن زیاد کا مشیر شمر بن ذی الجوشن آڑے آیا۔ اس نے ابنِ زیاد کو اکسایا کہ حسین کو بغیر بیعت اور سر تسلیم خم کیے جانے نہ دیا جائے۔ ابنِ زیاد نے حکم دیا کہ یا تو حسین ابنِ زیاد کے ہاتھ پر بیعت کریں یا پھر جنگ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی سات محرم سے امام حسین کے قافلے پر پانی بند کر دیا گیا، جس سے بچے اور خواتین پیاس سے بلکنے لگے۔
واقعہ کربلا اور شہادت
امام حسین نے کسی بھی قیمت پر اس ذلت آمیز بیعت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جو حق کے اصولوں کے خلاف تھی۔ نو محرم کی شام کو یزیدی لشکر نے حملے کی تیاری کی، لیکن امام حسین نے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں۔ دس محرم کی صبح، جسے یومِ عاشورہ کہا جاتا ہے، معرکہ حق و باطل شروع ہوا۔
امام حسین علیہ سلام کے پاس صرف بہتر جانثار تھے
جبکہ سامنے ہزاروں کا مسلح لشکر تھا:
جنگ شروع ہوئی تو امام حسین کے ساتھیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنا شروع کیے۔ ایک ایک کر کے امام کے انصار، اور پھر اہل بیتِ رسول کے نوجوان، جن میں حضرت علی اکبر، حضرت قاسم، اور امام کے شیر خوار بچے علی اصغر شامل تھے، پیاس کی حالت میں بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ حضرت عباس بن علی، جو غازی عباس کے نام سے جانے جاتے ہیں، جب بچوں کے لیے پانی لانے دریا پر گئے تو ان کے دونوں ہاتھ قلم کر دیے گئے اور وہ بھی شہید ہو گئے۔
آخر میں امام حسین میدان میں اکیلے رہ گئے۔ آپ نے تنہا دشمن کے لشکر کا مقابلہ کیا، آپ کے جسم مبارک پر درجنوں زخم آئے۔
شہادت حضرت امام حسین علیہ سلام:
اس حالت میں بھی آپ نے نماز ادا کی اور سجدے کی حالت میں شمر بن ذی الجوشن اور دیگر ظالموں نے آپ کا سر مبارک جسم سے جدا کر دیا۔ یہ تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب نواسہ رسول کا خون خاکِ کربلا پر بہایا گیا۔ یزیدی لشکر نے نہ صرف شہداء کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا بلکہ امام کے خیموں کو آگ لگا دی اور خاندانِ نبوت کی خواتین کو قیدی بنا لیا۔
دربارِ یزید تک کا سفر:
شہادت کے بعد، عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر امام حسین کا سر مبارک اور اہل بیت کی اسیر خواتین، جن میں سیدہ زینب بنتِ علی اور امام حسین کے بیمار صاحبزادے امام زین العابدین شامل تھے، پہلے کوفہ میں ابنِ زیاد کے دربار میں پیش کیے گئے۔ ابنِ زیاد نے بدتمیزی اور تکبر کا مظاہرہ کیا، جس پر سیدہ زینب نے خطبہ دیتے ہوئے اس کے ظلم کو بے نقاب کیا۔
اس کے بعد اس قیدی قافلے اور شہداء کے سروں کو دمشق میں یزید کے دربار میں بھیجا گیا۔ جب امام حسین کا سر مبارک یزید کے سامنے ایک طشت میں رکھا گیا، تو تاریخی روایات کے مطابق یزید نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی سے امام کے لبوں کو چھوا۔ اس موقع پر دربار میں موجود ایک صحابی رسول ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے اور انہوں نے یزید کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ اپنی چھڑی ہٹاؤ، خدا کی قسم میں نے بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لبوں کو چومتے ہوئے دیکھا ہے۔
دربارِ یزید میں سیدہ زینب بنتِ علی نے وہ تاریخی اور شاندار خطبہ دیا جس نے یزید کے اقتدار کے محل کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے یزید کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تو چاہے جتنا ظلم کر لے، تو ہماری یاد اور ہمارے مرتبے کو مٹا نہیں سکتا۔ اس خطبے اور مدینہ و دمشق کے حالات بدلنے کے خوف سے یزید کو اندازہ ہوا کہ امام حسین کی شہادت نے لوگوں میں اس کے خلاف شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے یزید نے اس ظلم کی تمام تر ذمہ داری عبیداللہ بن زیاد پر ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر میں ہوتا تو حسین کو قتل نہ کرتا، تاہم اس نے ابنِ زیاد کو کوئی سزا نہیں دی۔ بعد میں یزید نے اہل بیت کی خواتین اور امام زین العابدین کو عزت و احترام کے ساتھ واپس مدینہ منورہ روانہ کرنے کا حکم دیا۔
حاصلِ کلام:
سانحہ کربلا کا غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کسی اقتدار کی جنگ نہیں تھی، بلکہ وہ اصولوں کی بقا کی جنگ تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جب دین کی بنیادوں اور اسلامی اقدار کو خطرہ ہو، تو مصلحت پسندی کے بجائے حق پر ڈٹ جانا ہی اصل بندگی ہے۔ اس واقعے میں قصور اور ظلم صریحاً یزید کی حکومت، عبیداللہ بن زیاد، شمر اور یزیدی لشکر کا تھا جنہوں نے نواسہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی اجازت اسلام تو کیا، انسانیت بھی نہیں دیتی۔ حضرت امام حسین علیہ سلام نے اپنی جان دے کر اسلام کے نظامِ عدل کو زندہ رکھا، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں یزید کا نام ظلم کی علامت بن گیا اور حسین رضی اللہ عنہ کا نام قیامت تک کے لیے حریت، انصاف اور ایمان کا استعارہ بن گیا۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں حق کو سمجھنے اور حق کا ساتھ دینے والا بنا اور ظالم کے ظلم کو اپنے ہاتھ سے روکنے والا بنا اور اے ہمارے رب دنیا میں اسلام بول بالا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333