*ہمارا اصل گھر جنت ہے اور ہم آخر کار جنت میں ہی جائیں گے*
پیر 15 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
ہمارے بابا آدم جنت سے زمین پر اتارے گئے تھے یہ دنیا ہمارے لئے امتحان گاہ ہے اگر ہم اپنے امتحان میں کامیاب ہوئے تو ہمیں اپنے آبائی گھر جنت میں ہی جانا ہے
ان شاءاللہ۔
ہم اس زمین کے کیڑے نہیں بلکہ جنت کے شہزادے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بائیولوجی کے مطابق انسان اس زمین کا باشندہ نہیں ہے؟ یہ سننے میں کسی سائنس فکشن مووی کی کہانی لگتا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ امریکی سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور نے اپنی ریسرچ میں دعویٰ کیا ہے کہ انسان کسی اور سیارے پر بنا اور یہاں پھینک دیا گیا۔
سب سے پہلی دلیل: کمر کا درد۔ زمین کی گریویٹی ہمارے لیے بہت زیادہ ہے۔ جانوروں کو کمر کا درد نہیں ہوتا کیونکہ وہ زمین کے لیے ڈیزائنڈ ہیں، لیکن انسان کا ڈھانچہ کم گریویٹی والی جگہ کے لیے بنا ہے۔
دوسری دلیل: سورج۔ ہم واحد مخلوق ہیں جو دھوپ میں جھلس جاتے ہیں جبکہ باقی جانوروں کو کچھ نہیں ہوتا۔
تیسری دلیل: مشکل پیدائش۔ انسان کا سر اتنا بڑا ہے کہ پیدائش ماں کے لیے جان لیوا ہوتی ہے، جو جانوروں میں نہیں ہوتا۔ سائنس کہتی ہے کہ ہم یہاں کے ماحول میں فٹ نہیں بیٹھتے، ہم یہاں کے قیدی ہیں۔
سائنسدان آج حیران ہیں لیکن 1400 سال پہلے قرآن نے ہمارا اصلی ایڈریس بتا دیا تھا۔ جی ہاں، ہم واقعی ایلینز ہیں کیونکہ ہمارا اصل گھر زمین نہیں بلکہ جنت ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں بنایا گیا اور پھر زمین پر اتارا گیا۔ اللہ نے فرمایا “اہبطوا” یعنی یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ یہ لفظ ثابت کرتا ہے کہ ہم اوپر سے آئے ہیں۔
ہماری کمر کا درد اس لیے ہے کہ ہم جنت کی ہلکی گریویٹی کے عادی تھے۔ یہ بھاری زمین ہمیں بوجھ لگتی ہے۔ ہماری جلد اتنی نازک کیوں ہے؟ کیونکہ جنت میں ہمیں دھوپ کی تپیش برداشت نہیں کرنی پڑتی تھی۔
سب سے بڑا ثبوت آپ کی نفسیات ہے۔ انسان کو یہاں کبھی مکمل سکون نہیں ملتا۔ ہم ہمیشہ پرفیکٹ خوشی ڈھونڈتے ہیں جو یہاں ہے ہی نہیں کیونکہ وہ ہمارے پرانے گھر کی یاد ہے۔ جسے ہم ڈپریشن یا بے چینی کہتے ہیں، وہ دراصل ہماری روح کی ہوم سکنس (وطن کی یاد) ہے۔
جانور کچا کھاتے ہیں، زمین پر سوتے ہیں۔ ہم کپڑے پہنتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں، گھر بناتے ہیں۔ ہم زمین پر نیچرل نہیں رہتے بلکہ اپنی الگ دنیا بنا کر رہتے ہیں۔ یہ دنیا ہمارا گھر نہیں بلکہ ایک امتحان گاہ ہے اور کوئی بھی اسٹوڈنٹ امتحان گاہ میں دل نہیں لگاتا۔
سائنس آج کہہ رہی ہے کہ ہم کہیں اور سے آئے ہیں اور نہیں ہوگا۔ ہم یہاں صرف کچھ دن کے مسافر ہیں، ہمارا ریٹرن ٹکٹ کنفرم ہے۔ واپس وہیں جانا ہے جہاں سے آئے تھے، بس شرط یہ ہے کہ پیپر اچھا حل کرنا ہے۔
اس لیے دنیا کی تکلیفوں پر نہ روئیں۔ مسافروں کو ہوٹل کی تکلیفوں سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی اصلیت پہچانیں، آپ زمین کے کیڑے نہیں، جنت کے شہزادے ہیں۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333