علم اور بات کرنے کی طاقت
انسان کی اصل پہچان
از قلم: فیصل جنجوعہ
دنیا میں بے شمار طاقتیں موجود ہیں۔ دولت کی طاقت، عہدے کی طاقت، جسمانی قوت کی طاقت اور سیاسی طاقت، مگر ان سب طاقتوں میں جو طاقت سب سے زیادہ دیرپا، مؤثر اور تعمیری ہے وہ علم اور بات کرنے کی طاقت ہے۔ علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے جبکہ گفتگو کی صلاحیت اس شعور کو دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے علم کو اپنا ہتھیار بنایا، وہ ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئیں۔ علم انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتا ہے، سوچ کے نئے دروازے کھولتا ہے اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح بات کرنے کی طاقت بھی ایک غیر معمولی نعمت ہے۔ ایک اچھا مقرر اپنے الفاظ کے ذریعے دلوں کو جیت سکتا ہے، لوگوں کے خیالات بدل سکتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ نرم لہجہ، مؤثر اندازِ گفتگو اور مثبت الفاظ انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک درست وقت پر کہی گئی بات کسی کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
علم اور گفتگو جب ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو ان کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ علم کے بغیر گفتگو بے مقصد اور گفتگو کے بغیر علم محدود ہو جاتا ہے۔ ایک استاد اپنے علم کو الفاظ کے ذریعے شاگردوں تک پہنچاتا ہے، ایک صحافی اپنی تحریر اور گفتگو سے عوام کو آگاہ کرتا ہے اور ایک رہنما اپنی تقریر کے ذریعے قوم کو سمت دیتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے بات کرنے کی طاقت کو مزید وسعت دے دی ہے۔ اب ایک فرد اپنے خیالات چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ علم کی روشنی کے ساتھ ذمہ دارانہ گفتگو کو فروغ دیا جائے تاکہ معاشرے میں برداشت، شعور اور مثبت سوچ پروان چڑھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل طاقت نہ اس کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی اس کے مال و دولت میں، بلکہ اس کے علم اور اس کے الفاظ میں ہے۔ جو شخص علم حاصل کرتا ہے اور اپنے الفاظ کو خیر، سچائی اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی معاشرے میں حقیقی عزت اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ علم روشنی ہے اور گفتگو اس روشنی کو پھیلانے کا ذریعہ۔ جب یہ دونوں طاقتیں مثبت مقصد کے لیے استعمال ہوں تو فرد، معاشرہ اور قوم ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی ہیں۔









