7

*کیا جمعہ مبارک کہنا سنت ہے؟ ایک اہم شرعی وضاحت*

*کیا جمعہ مبارک کہنا سنت ہے؟ ایک اہم شرعی وضاحت*

جمعہ 12 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کل سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر ہر جمعہ کو جمعہ مبارک کے پیغامات، تصاویر اور اسٹیٹس لگانے کا ایک مستقل رواج چل پڑا ہے۔ بہت سے احباب اسے کار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن کیا یہ عمل دین کا حصہ ہے؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

عہد رسالت اور دور صحابہ کا معمول:
قرآن و حدیث میں جمعہ کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن ضرور کہا گیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا تابعین عظام سے جمعہ کے دن مخصوص طور پر ایک دوسرے کو جمعہ مبارک کہنے یا مبارکباد کا تبادلہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اگر یہ کوئی فضیلت کا کام ہوتا تو صحابہ کرام اس پر سب سے پہلے عمل کرتے۔

اہم شرعی اصول:
یاد رکھیے کہ شریعت میں ہر وہ عمل مردود یعنی رد کر دیا جاتا ہے جس کی بنیاد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ ہو۔ ہر اچھا لگنے والا عمل کار ثواب نہیں ہوتا، بلکہ عمل اللہ کے ہاں تب ہی قابل قبول ہے جب وہ مسنون یعنی سنت کے مطابق ہو۔

علماء کرام کا فیصلہ:
اگر اسے محض ایک عام دعا سمجھ کر کبھی کبھار کہہ دیا جائے تو گنجائش ہے، لیکن جب اسے سوشل میڈیا پر ایک لازمی رواج بنا لیا جائے، جس سے عوام یہ سمجھنے لگیں کہ یہ دین کا حصہ ہے، تو یہ عمل غیر مسنون ہونے کی طرف چلا جاتا ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔

اصل مسنون اعمال کیا ہیں؟
جمعہ کے دن پیغامات بھیجنے کے بجائے ان مسنون اعمال پر توجہ دیں جن کا حکم حدیث میں دیا گیا ہے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا، جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنا، غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور جمعہ کے دن قبولیت دعا کی گھڑی میں خوب دعائیں کرنا۔

حاصل کلام:
رواج کی پیروی چھوڑ کر خالص سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنائیے، کیونکہ نجات صرف اور صرف اتباع سنت میں ہے۔
اس پیغام کو آگے شیئر کریں اور اپنے دوستوں کو اس غیر مسنون رواج سے بچانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604334

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں