10

*سید الاستغفار: تعارف، طریقہ اور فضائل* اتوار 14 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*سید الاستغفار: تعارف، طریقہ اور فضائل*

اتوار 14 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کو استغفار کہا جاتا ہے۔ یوں تو معافی مانگنے کے بہت سے طریقے اور دعائیں ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خاص دعا کو تمام دعاؤں سے افضل اور برتر قرار دیا ہے، جسے “سید الاستغفار” یعنی استغفار کا سردار کہا جاتا ہے۔ یہ دعا اپنے الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت جامع ہے جس میں بندہ اپنے عجز اور اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔
سید الاستغفار کے الفاظ یہ ہیں:
اللہم انت ربی لا الہ الا انت، خلقتنی وانا عبدک، وانا علی عہدک ووعدک ما استطعت، اعوذ بک من شر ما صنعت، ابوء لک بنعمتک علی، وابوء بذنبی فاغفر لی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔

اس کا اردو ترجمہ یہ ہے:
“اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے سامنے ان نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کیں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس تو مجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔”

اس دعا کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے روزانہ صبح اور شام کے اوقات میں پڑھا جائے۔ صبح فجر کی نماز کے بعد اور شام کو عصر یا مغرب کی نماز کے بعد اسے پڑھنا مسنون اعمال میں شمار ہوتا ہے۔ پڑھتے وقت انسان کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور الفاظ کے معنی پر غور کرتے ہوئے سچے دل سے معافی کا طلبگار ہونا چاہیے۔
سید الاستغفار کے فضائل احادیث میں بہت زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یقین کامل کے ساتھ دن کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتیوں میں سے ہے۔ اسی طرح جو شخص رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ یہ دعا پڑھے اور صبح ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ بھی جنتیوں میں سے ہے۔
یہ دعا انسان کے تمام پچھلے گناہوں کو مٹانے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنی کمزوری کا اقرار کرتا ہے اور اللہ کی بخشش پر پورا توکل کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ایک دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ بندے کے لیے جنت کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس عظیم دعا کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں تاکہ سب اس کے فضائل سے فیضیاب ہو سکیں۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں