6

افسانہ عنوان. لباس گریہ

افسانہ
عنوان. لباس گریہ
طوایف نے حقارت سے اس مرد کی طرف دیکھا جو چند لمحے پہلے تک اپنی بیوی کی براییاں کرتے تھک نہیں رہا تھا.
“صاحب” اس نے سگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوے کہا”آپ کی بیوی کیسی ہے صاحب?????
میں نہیں جانتی……….
اور نہ ہی جا ننا چاہتی ہوں… مگر بے وفائ اور بے حیائ کی انتہا آپ ہیں،صاحب! میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور جو شخص اپنی ہی شریک حیات کی باتیں شراب کے نشے میں دھت ہو کے دل کے جلےپھپھولے کوٹھے والیوں کے ساتھ شییر کرتا پھرے،اپنی ہی عزت کو نیلام کرتا پھرے وہ دوسروں کو کیا عزت دے گا????????
مرد نے چونک کر سگریٹ کے مرغولوں میں گم ہوتی ہوی طوایف کو دیکھا………..
زندگی میں پہلی بار کسی نے اسے آیینہ دکھایا تھا..,….
عام طور پہ جب وہ اپنے دوستوں کے سامنے اپنی بیوی کی براییاں کرتا تو وہ نہ صرف اس کی فضول باتوں پہ داد کے ڈونگرے برساتے بلکہ اپنی اپنی بیگمات کی براییاں بھی دل کھول کر بیان کرتے گویا شیطانوں کی محفل پہ جوبن آ جاتا…..کمرے میں صدیوں کی اداسی اور پچھلے پہر کی تھکن چپکے سے اتر آئ….
وہ مضحمل ہو کے اٹھا،اپنا کوٹ اٹھایا اور بے آواز قدموں سے چلتا ہوا سیڑھیاں اترتا چلا گیا……………..
وہ سبق جو اسے کوئ ادارہ،کوئ تنظیم،حتی کہ وقت کی بھٹی بھی سکھا نہ پائ تھی ایک معمولی طوایف کے دو حروف نے اسے سکھا دیا تھا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور جب یہ لباس بیچ چوراہے میں،کوٹھوں پہ اتارا جاتا ہے تو پھر یہ لباس،لباس گریہ بن جاتا ہے،وہ بجھے دل کے ساتھ کوٹھے کی سیڑھیاں اتر آیا،باہر بارش شروع ہو چکی تھی،بوندیں اس کے چہرے پہ پڑ رہی تھیں یا شاید آنسووں کی جھڑی تھی،وہ سوز و حزن کی اس منزل پہ تھا کہ اسے پتا ہی نہ چل سکا کہ حدت آنسووں کی زیادہ تھی یا بارش کی شدت زیادہ تھی. ؀؀؀اس رات اسے پہلی بار احساس ہوا کہ لباس صرف کپڑا یا پردہ نہیں ہوتا……
لباس حیا بھی ہوتا ہے…
لباس وفا بھی ہوتا ہے…
لباس خاموشی بھی ہوتا ہے…
اور جو شخص اپنے ہی ساتھی کی عزت تار تار کر دے وہ خود سب سے بڑی برھنگی کا شکار ہوتا ہے…
بارش تیز ہونے لگی….. شہر کے دامن پہ پڑے گناہوں کے داغ کم ہونے لگے…. داغ دھلنے لگے…. ؀؀مگر اس کے دل پہ ایک داغ تھا…. ندامت کا بہت بڑا دھبہ….
اس کی آنکھوں میں اس کی بیوی کی شبیہ تھی…ایک خوبصورت چہرہ… وہ عورت جو برسوں سے اس کے گھر کی دیواروں کو جوڑے ہوے تھی. جس نے اس کے بچوں کی پرورش کی تھی… جس نے اس کی ناکامیوں کو راز رکھا تھا اور کامیا بیوں کو اپنا فخر بتایا تھا…
اس نے اس بات کو پوری دنیا
کے سامنے ثابت کر دیا تھا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں…
اور آج؀وہی عورت اس کی باتوں سے طوایف کے کوٹھے پہ برہنہ تھی.. مرد کو اپنے آپ سے شدید گھن آئ… اسے اپنے اوپر شدید غصہ آیا اور اپنے آپ سے شدید نفرت بھی محسوس ہوئ….کہاں اس کی بیوی ستی ساوتری اور کہاں وہ اول نمبر کا جھوٹا،دغا باز اور پکا نظر باز …. ؀؀اسے لگا بہتے ہوے آنسووں اور برستی ہوئ بوندوں نے اس کے ضمیر کو بیدار کرنا شروع کر دیا ہو…. اسے محسوس ہوا ،برہنگی صرف جسم کی نہیں ہوتی… کبھی کبھی کردار بھی ننگے ہو جاتے ہیں… کبھی کبھی زبان کے نشتر بھی بدن کو برہنگی کا چولہ پہنا دیتے ہیں….
کبھی کبھی انسان اپنی ہی عزت کو گھر کی چوکھٹ سے اٹھا کر سر بازار رکھ آتا ہے….
اسٹیج پر روشنیوں کا نور تھا.. سٹیج پر روشنیوں کے درمیان ایک چھمک چھلو ٹایپ کی ماڈل نمودار ہوئ،ہال کے تینوں اطراف مخملیں کپڑوں کے تھان کے تھان لٹک رہے تھے اور ماڈل نے لاکھوں روپے کی دو لیریں بدن پہ لٹکا رکھی تھیں یعنی اس کا پورا بدن برہنہ تھا…. ماڈل چھ انچ کی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ اداوں کی بجلیاں گرا رہی تھی…..مرد نے غور سے ماڈل کو دیکھا.. ماڈل کے لباس کی قمت زیادہ تھی اور کپڑا کم…. چاروں طرف واہ واہ کا شور بہت تھا مگر وقار کا دبدبہ کم…. اسے اچانک طوایف کے الفاظ یاد؀آۓ… اسٹیج پر چلتی ہوئ وہ ماڈل اسے ایک جیتی جاگتی علامت محسوس ہوئ جیسے برہنگی نے لباس کا وقار اوڑھ لیاہو یا جیسے دکھ نے مسکراہٹ کا نقاب پہن لیا ہو… اس کے ذہن میں عین اسی وقت اس کی بیوی کا چہرہ ابھرا…. وہ اسی وقت ہال سے باہر نکل آیا…. باہر بارش ہو رہی تھی اسے لگا وفا لباس بھی ہے…..
وفا حیا بھی ہے….
اور
وفا وقار؀بھی ہے..
وہ اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کے قدموں میں معافی کے لیے بیثھ گیا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam naureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں