سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات مسترد
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت خود بیرون ملک دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کی خفیہ کارروائیوں کے واضح شواہد موجود ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب ہریش پروٹھانی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادو کی گرفتاری پاکستان میں بھارت کی خفیہ کارروائیوں کا زندہ ثبوت ہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہ کر کے وہ یو این چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ کوئٹہ ٹرین بم دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی مثال قرار دیا اور ساتھ ہی بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف جاری امتیازی سلوک، مساجد کی مسماری اور اسلامو فوبیا پر مبنی اقدامات پر بھی عالمی برادری کے سامنے کڑی تنقید کی۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]