کمال مولا مسجد کیس اور بھارتی عدالتی نظام
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
انڈیا میں مسلمانوں کی حالت زار کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں۔انڈیا سیکولر ہونے کا دعویدار ہے لیکن حقائق کچھ اور ہیں۔مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر بھی ظلم ستم کیے جاتے ہیں اور عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔مسلمانوں کی کئی مساجد کو شہید کیا گیا ہے اور مقبروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔سب سے بڑی مثال بابری مسجد کی ہے۔بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر شروع کر دی گئی۔بابری مسجد کی شہادت میں حکومت اور عدلیہ نے تعاون کیا۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ ابھی بھی جاری ہے۔اب بھی کئی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مسلمانوں کی مساجد کے علاوہ دیگر اقلیتیوں کی عبادت گاہیں بھی خطرے سے دوچار ہو چکی ہیں۔حال ہی میں ایک اور تاریخی مسجد کو شہید کر کے مندر بنایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔یہ مسجد کمال مولا مسجد کہلاتی ہے۔اس مسجد کو 1305 میں مولانا کمال الدین چشتی نے تعمیر کرنا شروع کیا اور اس کی تکمیل 1360 میں ہوئی۔اب یہ مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دی گئی ہے اور یہ فیصلہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا ہے۔اس مسجد کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ یہاں پہلے سرسوتی دیوی کا مندر تھا اور اس مندر کی جگہ پر مسجد تعمیر کی گئی۔یہ واضح ہے کہ ہندوؤں کا یہ دعوی جھوٹا ہے کہ یہاں پہلے کوئی مندر تھا۔1904 میں بھی ہندوؤں کی طرف سے دعوی کیا گیا تھا کہ یہاں ایک مندر تھا۔اب ہندو زبردستی مسلمانوں سے مسجد چھین رہے ہیں اور افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ایسا عدلیہ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ماضی میں ایک فیصلہ ہوا تھا کہ منگل کے دن ہندو اس مسجد میں پوجا کریں گے اور جمعہ کی نماز مسلمان ادا کریں گے۔یہ فیصلہ مسلمانوں نے مجبورا تسلیم کیا تھا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔اب مکمل طور پر نماز کی ادائیگی بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہاں پوجا کی جائے گی۔مسجد میں پوجا سےمسلمانوں کو کتنی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہوگی،اس کا تصور کرنا بھی بہت ہی مشکل ہے۔یہ کہا گیا کہ مسجد کےمتبادل جگہ دی جائے گی۔اسی طرح مساجد یا دیگر عبادت گاہوں پر بھی قبضہ کیاجا سکتا ہے۔عالمی برادری کو مطمئن کرنے کے لیےکہا جا سکتا ہے کہ متبادل جگہ دی جا رہی ہے۔کچھ عرصے کے بعد ان متبادل جگہوں کو بھی کنٹرول میں لیا جائے گا۔ان اعمال سے واضح ہوتا ہے کہ انڈیا صرف نام کا سیکولر ہے،لیکن ہندو ازم کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ہندو صرف عبادت گاہوں پر قبضے نہیں کر رہے بلکہ مذہب کی جبری تبدیلی بھی کر رہے ہیں۔کمزور اقلیتیں ہندوؤں کے ظلم سہنے پر مجبور ہیں۔ہندو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے کاروباروں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کمال مولا مسجد کو سرسوتی کے مندر قرار دینے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کوانڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ نے تاریخی حقائق ،شواہد اور خود محکمہ اثار قدیمہ کے سابقہ موقف کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہاکہ”یہ فیصلہ تاریخی شواہد،تاریخی اور ریونیو ریکارڈ،نوآبادیاتی دور کے ریکارڈ اور صدیوں پر محیط مسلم عبادت کے تسلسل کے برخلاف ہے۔اس کے علاوہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کی رو سے بھی براہ راست متصادم ہے”جماعت اسلامی نے بھی اس غیر منصفانہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاہے۔جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے مطابق،” یہ فیصلہ عدالتی نظام کی ساکھ، اقلیتی حقوق اور ملک کے سیکولر ڈھانچہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔”ہائی کورٹ کے جج جسٹس سجیت نارائن پرساد اور جسٹس سنجے پرساد کے ڈویژن بینچ نے واضح کیا کہ اب اس احاطے کے اندر پوجا کی جائے گی اور نماز کی اجازت نہیں۔عدالت کے اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے جانبداری کی گئی۔انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ترجمان کے مطابق،محکمہ آثارقدیمہ کا سابقہ موقف بھی اس جگہ کی مشترکہ مذہبی حیثیت کو تسلیم کرتا تھا۔یہاں منگل کو ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دی گئی اور مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کے ادائیگی کی اجازت پہلے سے ہی تھی۔ترجمان کے مطابق Act1991 بھارت کا اہم قانون ہے جو کسی بھی عبادت گاہ(مسجد،مندر، گردوارہ،چرچ وغیرہ) کی مذہبی نوعیت کو تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔اس ایکٹ کے مطابق،آزادی کے وقت جو مذہبی حیثیت تھی،اس کو برقرار رکھنا کہ فرقہ وارانہ تنازعات نہ ہوں۔مسلم فریق کے موقف کے مطابق،ریونیو ریکارڈ میں بھی عمارت کو مسجد تسلیم کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نےیہ فیصلہ آثار قدیمہ کے محکمہ اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کی بنیاد پر دیا ہے۔اس رپورٹ پر واضح اعتراضات موجود ہیں۔سروے رپورٹ کے بعد عدالت میں جو ثبوت پیش کیے گئے،وہ بہت ہی مشکوک تھے۔سروے کے دوران کھدائی کی جو ویڈیو بنائی گئی تھی،وہ بھی مشکوک تھی۔یہ دعوی کیا گیا کہ مسجد کی تعمیر میں مندر کی باقیات ملی ہیں۔بورڈ کے ترجمان کے مطابق”کہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرون وسطی کی بہت سی اسلامی عمارتوں میں قدیم تعمیراتی مواد دوبارہ استعمال کیا گیا ہے. صرف مندر کے آثار مل جانا، مسجد کی صدیوں پر مبنی حیثیت کو قانونی طور پر ختم نہیں کرتا”کھدائی کے دوران جو فن پارے ملے ہیں وہ بھی قدیم نہیں لگتے،بلکہ ان کی چمک بتاتی ہے کہ وہ نئے زمانے کے ہیں۔اس کے علاوہ کچھ ایسا مواد ملا ہے جو پرانے زمانے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ہندو دعوی کرتے ہیں کہ اس مسجد سے قبل یہاں مندر تھا،لیکن جو مواد مل رہا ہے وہ زیادہ قدیم نہیں لگتا۔یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مسجد میں جان بوجھ کر کچھ چیزیں دفنا دی گئی ہوں تاکہ موقف مضبوط ہو۔ہندوؤں کو منگل کے دن عبادت کی اجازت ملی ہوئی تھی اس وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ویسے بھی ہندو کسی بھی وقت کوئی چیز مسجد کے صحن میں دفن کر سکتے تھے۔بورڈ اپنی قانونی جنگ لڑ رہا ہے،لیکن امید نہیں کہ مسجد واپس مل جائے۔بابری مسجد کا فیصلہ بھی دے دیا گیا تھا اور اب بھی مشکل ہے کہ کمال مولا مسجد مسلمانوں کو دوبارہ مل جائے۔مسلمانوں کا دعوی مضبوط ہے کہ یہ صدیوں پرانی مسجد مسلمانوں نے تعمیر کی تھی اور اس جگہ سرسوتی کا مندر نہیں تھا۔مسلمان دعوے میں سچے ہونے کے باوجود بھی ہار رہے ہیں کیونکہ حکومت ہندوؤں کی ہے۔بھارت میں مسلمانوں کی کوششیں اپنی جگہ لیکن بین الاقوامی برادری بھی انڈیا پر دباؤ ڈالے کہ مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو بھی مذہبی آزادی دی جائے۔سعودی عرب،یو اے ای،پاکستان،قطرسمیت تمام اسلامی ممالک انڈیا کو وارننگ دیں کہ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے۔ماضی میں بابری مسجد سمیت کئی مساجد کو شہید کیا گیا ہے،اب مولا کمال مسجد کے علاوہ دیگر مساجد کو بھی شہید کیا جا رہا ہے۔یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ مستقبل میں مزید عبادت گاہوں کو تباہ کیا جائے گا۔انڈیا کے مسلمانوں کو متحد ہو کر ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف ایکشن لینا ہوگا ورنہ بہت زیادہ دیر ہو جائے گی۔
پی پی 83 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں سردار ظفر خان بلوچ کی بلا مقابلہ کامیابی نے سیاسی روایات بدل ڈالیں
ہارون آباد: فیصل مسجد ہاؤسنگ کالونی میں عظیم الشان تعزیتی ریفرنس و محفلِ میلاد النبی ﷺ منعقد ہارون آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) گزشتہ روز فیصل مسجد
ھارون آباد میں نمبر دار کنونشن، کپاس کی بروقت کاشت اور کسان کارڈ ریکوری تیز کرنے کی ہدایت
سرگودھا: وزیر اعلیٰ پنجاب کا جعلی سیکیورٹی چیکنگ افسر گرفتار، مطلوب اشتہاری نکلا
🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑