*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سندھ کی یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں ڈوب گئیں، کوئی پوچھنے والا نہیں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
میرے انتہائی مخلص سینئر جرنلسٹ اور مہربان دوست فرحان رضا سے سندھ کی تعلیمی تباہی کے بارے میں تبادلہ خیال ھوا تو انھوں نے حقیقت عیاں کردی انکی تحقیق و معلومات کی روشنی میں گزشتہ اٹھارہ سالوں اور بلخصوص اٹھارہ ویں ترامیم کے بعد جو پاکستان پیپلز پارٹی انکے وزیر تعلیم اور وزیراعلیٰ کی نااہلی ناکارکردگی ناکامی کے سبب سندھ بھر کا تعلیمی نظام تباہ و برباد ہوگیا، نقل اور پرچہ آؤٹ کی روایت بلند ترین طح پر ہہنچ گئی، اندرون سندھ کی تعلیم کا یہ حال بنادیا ھے گویا گدھوں پر کتابیں لاد دی گئی ھوں کیونکہ انہیں یہ معلوم ھے کہ کوٹہ سسٹم سے انہیں اندرون سندھ بھر کی یونیورسٹیوں میں بآسانی داخلہ مل جائیگا اور پھر سندھ پبلک سروس کمیشن حیدرآباد میں تو ہے ہی کمیشن افسر بن جائیں گے رہی بات سندھ بھر کی تو اہلیت قابلیت ذہانت سے ہمیں کیا لینا دینا جبتک کوٹہ سسٹم ھے بے فکری سے سرکاری مراعات و تعیش لوٹتے رھو انہیں اسی بات کا ڈر ھے کہ اگر کوٹہ سسٹم ختم ہوگیا تو ان نااہلوں جاہلوں ناکاروں کو کوئی بھی چپڑاسی نہ رکھے گا جب بھی سندھ کی سدھار کی آواز بلند ہونے لگتی ھے یہ بلیک میلنگ کا سہارا لیتے ہوئے سندھو دیش کا نعرہ بلند کرتے ہیں جس پر اسٹبلشمنٹ بآسانی بلیک میل ہوکر چپ سادھ لیتی ھے اور سوچتی ھے سندھ ہی تو تباہ ہورھا ھے پنجاب تو نہیں یہاں صوبائیت کی بات نہیں بلکہ ملک و ریاست کی بات ھے پاس پڑوس میں آگ لگ جائے تو اس کا براہ راست اثر پڑتا ھے اس لئے اسٹبلشمنٹ کو بناء بلیک میل آئے پاکستان اور ریاست کا سوچنا ھوگا۔ خیر میں بات کررھا تھا کہ پاکستا پیپلز پارٹی نے اپنے اٹھارہ سالہ دور میں سندھ بھر کے تعلیمی درسگاہوں کو تباہی کے اس نہج پر پہنچادیا جو ایک جاہل گنوار ہی کرسکتا ھے۔ میں جاوید صدیقی اور سید فرحان رضا جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل سنہ انیس سو نوے اکیانوے میں ہوئے اس وقت سیاسی کشمکش جھگڑے فساد ضرور تھے لیکن تعلیمی ماحول اور درس و تدریس کا سلسلہ بہترین چل رھا تھا اور جامعہ کراچی بین الاقوامی سطح پر بہترین ریکنگ پر موجود تھی لیکن پھر دو ہزار آٹھ سے جامعہ کراچی سمیت سندھ بھر کی جامعات کو جس قدر پاکستان پیپلز پارٹی نے تباہ کرنا شروع کیا آج ھم کہاں کھڑے ہیں یہی بات اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کرونگا۔ معزز قارئین کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ سنہ دو ہزار چھبیس عیسوی شائع ہوگئی، پاکستان کی اٹھارہ یونیورسٹیاں فہرست میں ہیں۔ سندھ کی؟ صرف ایک جامعہ کراچی اور وہ بھی ایک سو ایک سے بارہ سو کے درمیان بمشکل جگہ بناسکی ہے اور یہ کارنامہ گذشتہ پندرہ سال میں ہوا ورنہ سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی سے سنہ دو ہزار بارہ عیسوی کے درمیان پہلے کراچی یونیورسٹی کی رینکنگ چھ سو کے قریب تھی جبکہ باقی پورا سندھ یونیورسٹیز کی رینکنگ کے عالمی نقشے پر موجود ہی نہیں۔
*جامعہ کراچی:* جامعہ کراچی کے زوال کی سیڑھیوں کا ایک جائزہ لیتےہیں تو رینک سنہ دو ہزار بارہ میں کیو سی چھ سو ایک، سنہ دو ہزار چودہ تا سنہ دو ہزار سترہ میں کیو سی سات سو ایک، سنہ دو ہزار اٹھارہ میں کیو سی آٹھ سو تا ایک ہزار، سنہ دو ہزار تیئس میں کراچی یونیورسٹی کی تاریخی پستی کیو سی بارہ سو ایک سے چودہ سو تک اور اب سنہ دو ہزار چھبیس میں کیو سی ایک ہزار ایک تا بارہ سو تک ھے۔ اسے آپ حکومت سندھ کی کراچی سے دشمنی نا سمجھئے تو پھر کیا سمجھیں گے۔ تعلیم سے دشمنی میں یہ پورے سندھ کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سندھ میں کراچی یونیورسٹی کیسے بچ گئی یہ تو شاید اللہ بہتر جانتا ہے ورنہ سندھ یونیورسٹی جامشور ہو یا نوابشاہ کی یونیورسٹی ان کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے۔
*جامعہ سندھ جامشورو:* ایشیاء میں بھی پیچھے یہ یونیورسٹی عالمی فہرست میں تو ہے ہی نہیں جبکہ ایشیاء کی درجہ بندی میں بھی اس کا حال دیکھیں: سنہ دو ہزار انیس عیسوی میں ایشیا رینک: چار سو ایک سےچچار سو پچاس پر رہی، سنہ دو ہزار تیئس عیسوی میں چھ سو اکیاون سے سات سو تک جبکہ سنہ دو ہزار چھبیس عیسوی میں آٹھ سو اکیاون سے نو سو تک رہی۔ صرف سات سالوں میں ایشیائی درجہ بندی میں تقریباً چار سو پچاس درجے کی گراوٹ۔ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا کی درجنوں یونیورسٹیاں آج جامعہ سندھ سے آگے ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت بالآخر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی میں سندھ کی تمام یونیورسٹیز کا اختیار مل گیا تھا۔ اس کے بعد جو سندھ یونیورسٹی کا حال ہوا ہے وہ ان اعداد و شمار نے بتادیا۔ ویسے یہ وہ وزیراعلیٰ ہے جو این ای ڈی کا پڑھا ہوا ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی اور زیبسٹ عالمی نقشے سے غائب ہوچکی ہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، شہید بے نظیرآباد پیپلز پارٹی کے دور میں سنہ دو ہزار بارہ عیسوی میں قائم کی گئی، یہ انتے سال گزرنے کے بعد کسی بھی بڑی عالمی درجہ بندی میں شامل نہیں۔ تحقیقی کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ پاکستان میں ایک سو باون ویں اور عالمی سطح پر تقریباً بارہ ہزار ویں نمبر پر ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ زیبسٹ پاکستان کی عالمی رینکنگ ڈھونڈ سکیں لیکن نا ملی۔ اگر کسی صاحب کے پاس ہو تو ہمیں شیئر کردیں، ذمہ دار صرف سندھ حکومت نہیں۔ اس میں بڑی ذمہ داری ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہے۔ اٹھارہ سالوں سے کھربوں روپے اس کمیشن پر خرچ ہوچکے لیکن اس کی پرفارمنس کا حال یہ ہے کہ ملک کی ایک بھی یونیورسٹی عالمی رینکنگ میں پہلے سو میں نہیں آسکی۔ پرائیوٹ یونیورسٹیز کا تو حال بیان کرنا ممکن نہیں لیکن سرکاری یونیورسٹیز کا حال یہ ہے کہ ایچ ای سی کے کتنے قوانین پر عمل ہوتا ہے اس کی ایک رپورٹ تک جاری کرنے سے عاجز ہے۔ جب سنہ دو ہزار دو عیسوی میں یہ ادارہ قائم کیا گیا تو اعلان کیا گیا تھا کہ یہ پاکستانی یونیورسٹیز کو عالمی معیار کے بنانے کیلئے کام کریگا۔ کئی چیئرمین آئے، افسری جھاڑی اور چلے گئے۔ موجودہ ستارہ امتیاز بھی افسر ہیں اعلی افسر ہیں۔ نتیجہ ہر سال پاکستانی یونیورسٹیز کی رینکنگ کم ہورہی ہے لیکن صاحب ایچ ای سی کے بابوؤں کو تنخواہ، مراعات اور ڈگری کے لئے لمبی فیسیں لگانے کا اختیار تو ملا ہوا ہے نا۔۔
*ایچ ای سی کی بنیادی خرابیاں :*
پیسوں کی غیر منصفانہ تقسیم ۔ تعصب کا الزام اور تحقیقی فنڈنگ کا بڑا حصہ اسلام آباد اور لاہور کے وفاقی اداروں کو جاتا ہے۔ سندھ کی یونیورسٹیاں صوبائی انحصار اور وفاقی لاتعلقی کی دوہری مار میں پستی ہیں۔
اور پی پی پی کو تو دلچسپی نہیں تو ان کی بلا سے۔ ایچ ای سی پر سندھ کے حلقے الزام لگاتے ہیں کہ یہ اس وقت ایک لسانی تعصب کا ادارہ بن چکا ہے۔
*پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی:*
کیو ایس رینکنگ میں فی استاد تحقیقی حوالہ جات اہم پیمانہ ہے۔ سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی معیار کے پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد افسوسناک حد تک کم ہے۔ ایچ ای سی کے پی ایچ ڈی پروگراموں کا فائدہ بیشتر اسلام آباد کو ہوا۔
*بین الاقوامی اشتراک کا فقدان*
رینکنگ کا سطحی علاج، سندھ ایچ ای سی نے دی امپیکٹ رینکنگ میں یونیورسٹیوں کی تعداد سولہ سے بڑھا کر چوالیس کردی اور اسے عالمی کامیابی قرار دیدیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اصل تحقیقی معیار نہیں، صرف اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف پر رپورٹنگ کی تربیت ہے۔ عوام کو گمراہ کرنا بند کریں۔
*احتساب کا مکمل فقدان*
یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی وائس چانسلروں کی تقرریاں میرٹ سے نہیں، بلکہ سیاسی تعلق سے ہوتی ہیں۔ رینکنگ میں گراوٹ کے لئے آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ ایچ ای سی آنکھیں بند رکھتا ہے۔ کوئی اس ناکام ادارے سے سوال نہیں کرتا، ہمارے پرائم ٹائم اینکرز پوڈ کاسٹرز کا تعلیم سے لگتا ہے لینا دینا ہی نہیں اسی لئے اس موضوع پر سوال نہیں اٹھاتے۔ شاہزیب خانزادہ ہو یا منصور علی خان، حامد میر ہو یا وسیم بادامی، عاصمہ شیرازی ہوں، یا روف کلاسرا، ہوں یا عامر متین، نسیم زہرا ہوں یا کامران خان، یا پھر ڈاکٹر شاھد مسعود نام گنتے جائیں ۔۔ کس کس کو دلچسپی ہے تعلیم سے؟ ورنہ اس ملک میں ایچ ای سی اور انٹر میٹرک بورڈز سے بڑی خبر نہیں پھر سب شکوہ کرتے ہیں کہ بچے ایسے کیوں ہیں لیکن پھر بات وہیں آجاتی ہے نا پیپلز پارٹی کی نا ن لیگ کی نا کسی اور جماعت کی چاہے وہ ایم کیو ایم کیوں نا ہو کسی کے مرکزی قائدین کے بچے پاکستان میں پڑھتے کب ہیں۔یہ کیمبرج اسکول سے پڑھ کر پوش علاقوں کے کالجوں سے اے لیول نکال کر امریکا، برطانیہ، یورپ روانہ یہی حال پاکستانی بیوروکریسی اور اعلیٰ فوجی بیوروکریسی کا ہے۔ سب نے مستقبل امریکا اور برطانیہ مٰیں دیکھ رکھا ہے تو پاکستانی یونیورسٹییز کالجز کا حال تباہ ہوتا ہے تو ہو۔۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ حالات کے تناظر میں ایک پروفیشنل تعلیم حاصل کرنا متوسط طبقہ کیلئے ناممکن بن چکا ھے۔ ایک سرکاری ملازم ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے رشوت نہ لے تو کیا کرے اصل قصوروار اس ملک اور ریاست کی تباہی و بربادی کے اشرفیہ ایلیٹ سول و عسکری بیوروکرٹس، سیاستدان ، مذہبی علماء و دینی رہنما یہ سب تباہی کے مجرم اور قصوروار ہیں رہی پچیس کروڑ عوام مرے تو مرے ہمیں جینا اور عیش کرنا ھے گویا یہاں نظام کی بدترین شکل ھے نظام کی تبدیلی ناگزیر نظام وہی جو آپ ﷺ نے ہمیں چودہ سو سال قبل دیا۔ ہمارے قلم کی نوک بھی ٹوٹ چکی مگر ان بدبختوں پر ذرا بھی اثر نہیں ہوتا جیسے انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی مجھے تو یگتا ھے کہ اللہ ان سب کو یکجا پکڑ کر سزا دیگا آخر مظلوم کی آہیں فریاد عرش تک پہنچ ہی جاتی ہیںمیں اس بیروزگاری میں چار بچوں کو پروفیشنل تعلیم دے رھا ھوں کہ انکا مستقبل تابناک بن سکے سر سے اونچا قرض ھے اللہ سے ہی توکل ھے کہ اللہ پاکستان میں تعلیم کو کاروبار جو بن گیا ھے ختم کردے اور تمام ظالموں جابروں کو نسل سمیت نیست و نابود کردے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔ !!