10

پی پی 83 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں سردار ظفر خان بلوچ کی بلا مقابلہ کامیابی نے سیاسی روایات بدل ڈالیں

پی پی 83 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں سردار ظفر خان بلوچ کی بلا مقابلہ کامیابی نے سیاسی روایات بدل ڈالیں

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

ضلع خوشاب ہمیشہ سے اپنی سیاسی بصیرت، باوقار روایات اور بااثر شخصیات کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے، مگر حالیہ دنوں پی پی 83 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں جو سیاسی منظرنامہ سامنے آیا، اس نے نہ صرف ضلع خوشاب بلکہ پنجاب کی سیاست میں بھی ایک مثبت مثال قائم کر دی ہے۔ سیاسی اختلافات، انتخابی مقابلوں اور گروہی کشمکش کے ماحول میں خوشاب کے سیاستدانوں نے جس بردباری، ظرف اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین اور تاریخ ساز اقدام ہے۔
پی پی 83 خوشاب کی نشست سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار علی حسین خان بلوچ کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ مرحوم سردار علی حسین خان بلوچ اپنی شرافت، عوامی خدمت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ضلع بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی سردار ظفر خان بلوچ اس نشست کے امیدوار تھے۔
سیاسی حلقے اس انتخاب کو ایک سخت مقابلے کے طور پر دیکھ رہے تھے کیونکہ اس میدان میں مختلف سیاسی خاندانوں اور بااثر شخصیات کے امیدوار موجود تھے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات و رکن قومی اسمبلی انجینئر ملک گل اصغر خان بگھور کے بھائی ملک گل داد خان بگھور، سابق رکن قومی اسمبلی ملک محمد احسان اللہ خان ٹوانہ کے حمایت یافتہ سردار رضا خان، مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کے صاحبزادے ملک سعد بشیر اعوان اور سابق سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی بھی اس سیاسی عمل کا حصہ تھے۔
تاہم خوشاب کی سیاسی تاریخ نے اس وقت ایک خوبصورت موڑ لیا جب سابق ایم این اے ملک محمد احسان اللہ خان ٹوانہ اور ایم این اے انجینئر ملک گل اصغر خان بگھور نے وسیع تر سیاسی مفاہمت، خاندانی احترام اور جمہوری روایات کو مقدم رکھتے ہوئے ایک خصوصی نشست میں یہ فیصلہ کیا کہ مرحوم سردار علی حسین خان بلوچ کے بعد اس نشست کے حقیقی حقدار سردار ظفر خان بلوچ ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے اور یوں سردار ظفر خان بلوچ بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ تادم تحریر سردار ظفر خان بلوچ کا بلامقابلہ کامیابی کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری ہوناابھی باقی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی، سیاسی برداشت اور باہمی احترام کی روشن مثال ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں جہاں معمولی اختلافات بھی شدید کشیدگی اختیار کر لیتے ہیں، وہاں خوشاب کے سیاستدانوں نے ثابت کیا کہ سیاست صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ رواداری، شائستگی اور اجتماعی مفاد کا بھی دوسرا نام ہے۔
اس تاریخی سیاسی اتفاقِ رائے میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی بیرسٹر ملک معظم شیر کلو، رکن پنجاب اسمبلی ملک محمد آصف بھاء، سابق ایم پی اے ملک کرم الٰہی بندیال اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے سردار ظفر خان بلوچ کو پارٹی ٹکٹ دلوانے اور سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔
خوشاب کے عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے اس فیصلے کو بے حد سراہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک محمد احسان اللہ خان ٹوانہ اور انجینئر ملک گل اصغر خان بگھور نے جس سیاسی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، اس سے آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی اخلاقیات کی نئی مثال بھی قائم کر دی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں، لیکن جب سیاستدان ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی روایات، خاندانی احترام اور سیاسی استحکام کو ترجیح دیں تو ایسے فیصلے تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جاتے ہیں۔ پی پی 83 خوشاب کا ضمنی انتخاب بھی یقیناً انہی تاریخی واقعات میں شمار ہوگا۔
سردار ظفر خان بلوچ کی بلا مقابلہ کامیابی دراصل صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ خوشاب کی سیاسی بالغ نظری، سیاسی رواداری اور اجتماعی شعور کی فتح ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست میں اسی طرح کی مثبت روایات فروغ پاتی رہیں تو یقیناً سیاسی کشیدگی میں کمی اور جمہوری اقدار میں مضبوطی آئے گی۔
ضلع خوشاب کے سیاستدان آج اس بات پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سیاست کو نفرت، تقسیم اور محاذ آرائی کے بجائے احترام، برداشت اور اتحاد کا ذریعہ بنایا۔ یہی وہ مثبت سوچ ہے جو کسی بھی معاشرے کی سیاسی تاریخ کو عظمت بخشتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں