نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) سندھ کی سرزمین صدیوں سے اپنی تہذیب، ثقافت، مہمان نوازی اور روایتی ذائقوں کی وجہ سے پہچانی جاتی رہی ہے۔ شدید گرمی والے اس خطے میں لوگوں نے موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے مختلف ٹھنڈے مشروبات ایجاد کیے، جن میں لسی، فالودہ، گڑ کا شربت اور تھادھل خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی روایتی مشروبات میں سے ایک “تھادھل” کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی شناخت دینے والے نواب شاہ کے معروف حکیم، عالمِ دین اور سماجی شخصیت حکیم مولوی محمد معاذ پیرزادو تھے، جنہوں نے اس قدیم سندھی مشروب کو “معاذ تھادھل” کے نام سے متعارف کرا کے اسے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں ایک منفرد مقام دلایا۔
تھادھل دراصل سندھ کا ایک قدیم اور روایتی مشروب ہے، جو خشک میوہ جات، مختلف مصالحوں، بادام، خشخاش، سونف، الائچی اور دیگر قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس مشروب کو تیار کرنا ایک محنت طلب عمل سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کے اجزا کو ہاتھوں سے پیسا جاتا اور خاص طریقے سے تیار کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تھادھل زیادہ تر گھریلو سطح یا چند مخصوص دکانوں تک محدود تھا۔ تاہم حکیم محمد معاذ پیرزادو نے اپنی طبی مہارت، بصیرت اور جدت پسندی سے اس روایتی مشروب کو بوتل بند شکل میں متعارف کرایا، جس کے بعد “معاذ تھادھل” عوام میں بے حد مقبول ہوتا چلا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ “معاذ تھادھل” نے نہ صرف سندھ بھر میں شہرت حاصل کی بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں تک اپنی پہچان بنائی۔ شدید گرمی میں ٹھنڈک اور توانائی فراہم کرنے والا یہ مشروب “مشروبِ مہران” کے نام سے بھی معروف ہوا اور روح افزا، نورس اور دیگر معروف شربتوں کے مقابل اپنی الگ شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ بیرونِ ملک مقیم سندھیوں میں بھی اس مشروب کی خاص مقبولیت پائی جاتی ہے، جہاں اسے سندھ کی ثقافت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
حکیم مولوی محمد معاذ پیرزادو کا تعلق ضلع شہید بینظیر آباد (نواب شاہ) کے علاقے سکرنڈ سے تھا۔ وہ 1896 میں گاؤں قتال شاہ کے قریب چھتن شاہ میں ایک محنت کش خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی محمد عارف پیرزادو نہایت سادہ اور محنتی انسان تھے۔ حکیم محمد معاذ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے معلم آخوند ولی ڈنو سے حاصل کی، بعد ازاں وہ پیر جھنڈے کے معروف دینی مدرسے “دارالرشاد” میں داخل ہوئے جہاں برصغیر کے عظیم انقلابی عالم مولانا عبیداللہ سندھی کی شاگردی میں فارسی، عربی اور سندھی زبانوں کی تعلیم حاصل کی۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے ان کی ذہانت اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان پر خصوصی توجہ دی۔ روایت کے مطابق ان کا اصل نام محمد پناہ پیرزادو تھا، مگر مولانا عبیداللہ سندھی نے انہیں “محمد معاذ” کا نام دیا اور انہیں اپنے قریبی شاگردوں میں شامل کیا۔ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے استاد کے مشورے پر انہوں نے طب و حکمت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لکھنؤ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے چار سالہ طبی سند حاصل کی۔ بعد ازاں دہلی میں برصغیر کے عظیم حکیم حکیم اجمل خان دہلوی کے طبیہ کالج میں بطور استاد خدمات انجام دیں، جو ان کی علمی اور طبی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
1917 میں وہ سندھ واپس آئے اور کراچی کے علاقے کھارادر میں اپنا مطب قائم کیا۔ اس دوران وہ تحریکِ خلافت میں بھی سرگرم رہے۔ برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے باعث 1921 میں ان کا مطب بند کر دیا گیا اور انہیں ایک سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ رہائی کے بعد انہوں نے ٹنڈو آدم میں حکمت کا کام شروع کیا مگر وہاں بھی حکومتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر وہ نواب شاہ منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے مستقل رہائش اختیار کی اور “معاذ دواخانہ” کی بنیاد رکھی، جو آج بھی ان کی یاد اور خدمات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
حکیم مولوی محمد معاذ پیرزادو صرف ایک طبیب ہی نہیں بلکہ نہایت دردمند، غریب پرور اور انسان دوست شخصیت بھی تھے۔ وہ غریب اور نادار مریضوں کا مفت علاج کرتے، یتیم بچوں کی کفالت کرتے اور ان کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ دینی تعلیم کے فروغ میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ نواب شاہ کا معروف مدرسہ “تفہیم القرآن”، جو 1953 میں قائم ہوا، اس کے قیام میں بھی ان کی نمایاں خدمات شامل ہیں۔
انہوں نے طب و حکمت کے میدان میں کئی ادویات، شربت اور معجون تیار کیں، مگر ان کی سب سے بڑی پہچان “تھادھل” بنی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے حکیم محمد منیر پیرزادو نے اس مشروب کو “معاذ تھادھل” کے نام سے باقاعدہ برانڈ کی شکل دی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سندھ بھر میں مقبولیت حاصل کر لی۔ آج بھی گرمیوں کے موسم میں “معاذ تھادھل” کو سندھ کی روایتی ثقافت، محبت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
حکیم مولوی محمد معاذ پیرزادو ایک صاحبِ علم شخصیت تھے۔ انہوں نے “بیاضِ حکمت” کے نام سے طب پر ایک کتاب بھی تحریر کی، جو تاحال قلمی نسخے کی صورت میں ان کے خاندان کے پاس محفوظ بتائی جاتی ہے۔ ان کی زندگی علم، خدمت، جدوجہد اور انسان دوستی کا ایک روشن باب تھی۔
اس عظیم عالمِ دین، حکیم، سماجی رہنما اور “معاذ تھادھل” کے موجد حکیم مولوی محمد معاذ پیرزادو کا انتقال 15 مئی 1970 کو ہوا۔ انہیں نواب شاہ کے تاریخی “حاجی نصیر قبرستان” میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی سندھ کے لوگ انہیں نہ صرف ایک کامیاب حکیم بلکہ اپنی ثقافت کو نئی پہچان دینے والی عظیم شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔