*ذوالحجہ کے پہلے دس ایام کی فضیلت قرآن و سنت، احادیث نبوی ﷺ اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں*
اتوار 17 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام میں بعض اوقات اور دن ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ انہی مبارک ایام میں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن شامل ہیں۔ یہ دن عبادت، ذکرِ الٰہی، توبہ، قربانی، حج اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کے عظیم دن ہیں۔ قرآن و سنت میں ان ایام کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
1۔ قرآن مجید میں ذوالحجہ کے دس دن:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ
“قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔”( الفجر: 1-2)
اکثر مفسرین مثلاً عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن زبیر اور امام ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
2۔ نیک اعمال کے لیے سب سے افضل دن۔
محمد ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی بھی دن میں نیک عمل کرنا ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔”
صحابہؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟”
فرمایا:
“جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔(بخاری)
یہ حدیث ان دنوں کی غیر معمولی عظمت کو ظاہر کرتی ہے کہ عام نیکی بھی ان ایام میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
3۔ ذکرِ الٰہی کی کثرت کا حکم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ
ترجمہ:
“اور وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام کثرت سے یاد کریں۔”
(سورۃ الحج: 28)
اکثر مفسرین کے مطابق “ایامِ معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
اسی لیے صحابہ کرامؓ ان دنوں میں:
تکبیرات، تہلیل، تسبیح،
اور تحمید کی کثرت کیا کرتے تھے۔
4۔ آثارِ صحابہؓ
عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ بازاروں میں نکل کر بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے:
“اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ”
لوگ بھی ان کی تکبیر سن کر تکبیر کہنا شروع کر دیتے تھے۔
5۔ یومِ عرفہ کی فضیلت
ذوالحجہ کی 9 تاریخ یعنی یومِ عرفہ انتہائی عظیم دن ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
(صحیح مسلم)
یہ روزہ حاجیوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کے لیے بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
6۔ قربانی اور سنتِ ابراہیمی۔
ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو عید الاضحیٰ منائی جاتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی عظیم قربانی کی یادگار ہے۔
نبی کریم ﷺ نے قربانی کو عظیم عبادت قرار دیا اور خود ہر سال قربانی فرمائی۔
7۔ قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔”
(صحیح مسلم)
یہ حکم یکم ذوالحجہ سے قربانی کرنے تک رہتا ہے۔
ان مبارک دنوں میں کرنے کے اہم اعمال:
1۔ نمازوں کی پابندی
فرائض کے ساتھ نوافل اور تہجد کا اہتمام۔
2۔ کثرتِ ذکر
سبحان اللہ
الحمد للہ
لا إلہ إلا اللہ
اللہ اکبر
3۔ قرآن مجید کی تلاوت
4۔ روزے رکھنا
خصوصاً 9 ذوالحجہ کا روزہ۔
5۔ صدقہ و خیرات
6۔ توبہ و استغفار
7۔ قربانی کا اہتمام
خلاصہ:
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت عظیم اور بابرکت ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے ان دنوں کی قسم کھائی، نبی کریم ﷺ نے انہیں دنیا کے افضل ترین دن قرار دیا، اور صحابہ کرامؓ ان میں عبادات اور ذکرِ الٰہی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ:
ان دنوں کی قدر کرے،
گناہوں سے بچے،
عبادت میں اضافہ کرے،
اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مبارک ایام کی صحیح قدر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333