اسلام میں توبہ اور شفاعت رحمت کے دروازے ہیں، مگر انہیں گناہ کا “لائسنس” سمجھ لینا خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔
جمعہ 15 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام میں توبہ اور شفاعت رحمت کے دروازے ہیں، مگر انہیں گناہ کا “لائسنس” سمجھ لینا خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔
لوگ گناہ کیوں نہیں چھوڑتے اصل وجہ توبہ اور شفاعت کے غلط تصور ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ:
گناہ کو معمولی سمجھ لیتے ہیں پھر “اللہ غفور الرحیم ہے” کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں،
یا پیر، عرس، شفاعت اور ظاہری عبادات کے سہارے مسلسل نافرمانی کرتے رہتے ہیں۔ قرآن و سنت اس طرزِ فکر کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔
1۔ جان بوجھ کر گناہ پر قائم رہنا خطرناک دھوکہ ہے
جو شخص:
زنا، دھوکہ، فحاشی، سود،
ظلم، یا قحبہ گری جیسے کبیرہ گناہوں پر مسلسل قائم رہے،
اور ساتھ یہ سوچے کہ:
“آخر میں توبہ کر لوں گا، پیر بچا لے گا، شفاعت ہو جائے گی”
تو وہ حقیقت میں اللہ کی رحمت سے کھیل رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
ترجمہ؛
“کیا یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہو گئے ہیں؟ اللہ کی پکڑ سے وہی بے خوف ہوتے ہیں جو خسارے والے ہیں۔”
اور فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔
ترجمہ:
“جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”
2۔ توبہ کی حقیقت کیا ہے؟
توبہ صرف زبان سے: “استغفر اللہ” کہہ دینے کا نام نہیں۔
سچی توبہ کے لیے:
گناہ فوراً چھوڑنا،
دل سے ٹوٹ جانا،
آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ،
اور جہاں حقوق العباد ہوں وہاں تلافی کرنا ضروری ہے۔
جو شخص:
رات کو گناہ کرے، صبح توبہ، پھر دوبارہ وہی کاروبار، پھر دوبارہ “توبہ”
تو یہ اللہ کے ساتھ مذاق کے قریب معاملہ بن جاتا ہے، نہ کہ حقیقی توبہ۔
بعض سلف فرماتے تھے: “گناہ پر قائم رہتے ہوئے استغفار کرنا خود ایک اور گناہ ہے۔”
3۔ شفاعت کا غلط تصور
شفاعت کا مطلب یہ نہیں کہ:
علماء ااور پیر مریدوں کو جنت کے پاس بانٹیں گے، یا کوئی بزرگ اللہ کے فیصلے کو بدل دے گا۔
قرآن صاف کہتا ہے:
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
“کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟”
شفاعت:
اللہ کے اذن سے ہوگی،
اور ان لوگوں کے لیے ہوگی جن میں ایمان و توحید کی اصل باقی ہوگی۔
جو لوگ شفاعت کو “گناہ کی انشورنس پالیسی” بنا لیتے ہیں، وہ سخت دھوکے میں ہیں۔
4۔ زنا اور فحاشی معمولی جرم نہیں۔
اسلام نے زنا کو اتنا سنگین جرم قرار دیا کہ:
نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا، خلوت سے روکا، بے حیائی کے راستے بند کیے،
اور شرعی حد مقرر کی۔
قرآن میں ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
“زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ کھلی بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔”
لہٰذا جو لوگ زنا، فحاشی یا قحبہ گری کو کاروبار بنا کر پھر مذہبی رسومات سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرتے ہیں، وہ خطرناک دھوکے میں ہیں۔
5۔ دنیاوی قانون اور اللہ کا قانون
دنیاوی عدالت جرم پر سزا دیتی ہے۔
اسلامی شریعت بھی حدود و تعزیرات رکھتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ:
دنیا صرف ظاہر دیکھتی ہے،
جبکہ اللہ ظاہر و باطن دونوں جانتا ہے۔
اگر کوئی دنیا میں سزا سے بچ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں بھی بچ جائے گا۔
بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن:
مظلوم کو اس کا حق دلایا جائے گا، حتیٰ کہ جانوروں کے درمیان بھی انصاف ہوگا۔
6۔ علماء کی ذمہ داری
اگر کوئی عالم:
گناہ کو ہلکا بنا کر پیش کرے،
یا لوگوں کو بے خوف کرے،
یا “پیر بچا لیں گے” جیسے تصورات پھیلائے، تو وہ خود بھی سخت جواب دہ ہے۔
اصل دین:
خوفِ خدا، توبہ، تقویٰ، حیا،
اور اصلاحِ نفس سکھاتا ہے۔
7۔ صحیح توازن کیا ہے؟
اسلام نہ خوارج کی طرح مایوسی سکھاتا ہے، اور نہ بے لگام “سب معاف ہے” والا نظریہ۔
صحیح عقیدہ یہ ہے:
گناہ بہت خطرناک ہے،
اللہ کی پکڑ سخت ہے،
حقوق العباد کا حساب ہوگا،
لیکن جو شخص واقعی ٹوٹ کر رجوع کرے، اللہ اس کی معافی بھی فرما سکتا ہے۔
قرآن میں خوف بھی ہے اور امید بھی:
نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ
“میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں، اور میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے۔”
یہی متوازن اسلام ہے۔
نہ دیکھ دیر گیری اسکی
کہ سخت ہے گرفت اسکی
الدعاء
یا اللہ تعالی اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333