*قربانی کرنے والے کے لیے یکم ذوالحجہ سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم*
ہفتہ 16 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن و سنت اور اقوالِ اہلِ علم کی روشنی میں ایک جامع مضمون
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ عبادات کے باب میں بھی شریعت نے ایسے آداب اور احکام بیان فرمائے ہیں جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، قربانی کے جذبے اور شعائرِ اسلام کے احترام کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہی مسائل میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
یہ مسئلہ احادیثِ نبویہ ﷺ سے ثابت ہے اور فقہاء و محدثین نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
قربانی کی عظمت:
اللہ تعالیٰ نے قربانی کو اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا:
“اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے۔”
(سورۃ الحج: 36)
اور فرمایا:
“پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔”
(سورۃ الکوثر: 2)
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی، ایثار اور سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے کا نام ہے۔
اصل حدیث
اس مسئلے کی بنیادی دلیل ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔”
ایک روایت میں ہے:
“وہ اپنے بال اور اپنی کھال میں سے کسی چیز کو نہ چھیڑے۔”
(یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے)
حکم کی نوعیت: واجب یا مستحب؟
علماء کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
1۔ جمہور علماء کی رائے
اکثر فقہاء مثلاً احناف، شوافع اور مالکیہ کے نزدیک:
بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے
اگر کسی نے کاٹ لیے تو قربانی ہو جائے گی
اس پر کوئی فدیہ یا کفارہ نہیں۔
ان حضرات کے نزدیک حدیث میں ممانعت تنزیہی ہے یعنی ادب اور فضیلت کے لیے۔
2۔ امام احمدؒ اور بعض اہلِ حدیث کی رائے
امام احمد بن حنبل اور بعض اہلِ علم کے نزدیک:
قربانی کرنے والے پر بال اور ناخن کاٹنا ممنوع ہے
بلا عذر ایسا کرنا گناہ کے قریب ہے کیونکہ حدیث میں صریح ممانعت آئی ہے
یہ رائے حدیث کے ظاہر کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے۔
اس حکم کی حکمتیں:
علماء نے اس حکم کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں:
1۔ قربانی کے ساتھ روحانی مناسبت
حاجی حضرات احرام کی حالت میں بعض چیزوں سے رکے رہتے ہیں۔ قربانی کرنے والا بھی کچھ ظاہری زینت سے رک کر عبادت کی کیفیت اختیار کرتا ہے۔
2۔ مکمل جسم کا جہنم سے آزادی کی دعا۔
بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے جسم کا ہر حصہ قربانی کے ساتھ اللہ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے، اس لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے جسم کے اجزاء کو حتی الامکان باقی رکھے۔
3۔ شعائرِ اسلام کا احترام
یہ عمل بندے کے اندر قربانی کی اہمیت اور اللہ کے حکم کی تعظیم پیدا کرتا ہے۔
کن لوگوں پر یہ حکم ہے؟
یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے:
جو قربانی کا مالک ہو
یا جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو اور قربانی اسی کی نیت سے ہو۔
البتہ:
گھر والوں پر یہ پابندی نہیں
بیوی، بچوں یا دیگر اہلِ خانہ کو بال یا ناخن کاٹنے کی اجازت ہے اگر قربانی صرف گھر کے سربراہ کی طرف سے ہو۔
اگر کسی نے لاعلمی یا بھول سے بال یا ناخن کاٹ لیے؟
اگر کسی نے:
بھول کر، لاعلمی میں
یا مجبوری کی وجہ سے
بال یا ناخن کاٹ لیے تو:
اس کی قربانی درست ہے
اس پر کوئی کفارہ نہیں
البتہ جان بوجھ کر ایسا کرنا مکروہ یا گناہ کے قریب ہے (اختلافِ فقہاء کے مطابق)
کن چیزوں سے بچنا چاہیے؟
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے والے کو چاہیے کہ:
بال نہ کاٹے، ناخن نہ کاٹے
بلا ضرورت جسم کے بال صاف نہ کرے۔
یہ پابندی قربانی ہونے تک رہے گی۔ قربانی کے بعد سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔
کیا یہ حکم حاجی اور غیر حاجی دونوں کے لیے ہے؟
جی ہاں، یہ حکم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو قربانی کرنا چاہتے ہیں، چاہے وہ:
حج پر ہوں یا اپنے وط⁰ میںمقیم ہالبتہ حاجی کے احرام کے الگ احکام بھی ہیں۔
صحابۂ کرام اور سلف کا عمل:
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس حدیث پر عمل کرتے تھے اور ذوالحجہ کے آغاز سے قربانی تک بال اور ناخن نہ کاٹتے تھے۔ سلف صالحین شعائر اللہ کی تعظیم میں بہت محتاط تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔(سورۃ الحج: 32
اعتدال کی ضرورت
اس مسئلے میں دو انتہاؤں سے بچنا چاہیے:
پہلی انتہا:
اس عمل کو معمولی سمجھ کر حدیث کو نظر انداز کرنا۔
دوسری انتہا:
ایسا شخص جس سے غلطی ہو جائے اس کی قربانی کو باطل یا بے فائدہ قرار دینا۔
درست رویہ یہ ہے کہ حدیثِ مبارکہ کا احترام کرتے ہوئے حتی المقدور اس پر عمل کیا جائے۔
خلاصۂ کلام
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے والے کو بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔
جمہور علماء کے نزدیک یہ عمل مستحب مؤکد ہے۔
بعض اہلِ علم کے نزدیک واجب کے قریب ہے۔
اگر کسی نے کاٹ لیے تو قربانی بہرحال درست ہو جائے گی۔ اس حکم کا مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، شعائرِ اسلام کی تعظیم اور قربانی کی روح پیدا کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے، شعائرِ اسلام کی تعظیم کرنے اور اخلاص کے ساتھ قربانی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333