السلام علیکم و رحمہ
جناب مکرمی و محترم برادران اسلام
اللہ آپکی عمر دراز فرمائے۔
برادرانہ گزارش ہے کہ اب ہماری زندگی کا اہم حصہ گزر چکا ہے الحمد للہ بڑا کما لیا کھا لیا بچے پال لئے بس اب تو واپسی کی تیاری کرو!
اللہ تعالی آپ کو اپنے رب کے سامنے بھی کامیاب و کامران فرمائے۔ جیسے دنیا میں آپکو کامیاب کیا۔
آمین یا رب العالمین
یاد رہے کہ جب ہم اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی شفاعت کی درخواست کریں تو کم از کم نبی کریم جیسی شکل تو بنا کر جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم سے ہم اپنی شفاعت کی درخواست کریں اور ہمارے منہ پر داڑھی تک نہ ہو اور اگر نبی کریم نے سوال کر لیا کہ اے میرے امتی دنیا میں میری کون سی بات مانی تھی کہ میں آج تیری شفاعت کرواؤں؟
کیا دنیا میں شکل میرے جیسی بنائی تھی؟
پھر کیا جواب دو گے؟؟؟؟
ایک بات اور یاد دلاتا چلوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اپنی نماز پکی کر لو اور نماز تہجد کا اہتمام بھی فرما لیں۔
ایک بات اور واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آخرت میں ہمارا حساب ہماری آخری عمر سے شروع ہوگا
یہ بھی اس رب کی بے پناہ عنایت ہے کہ حساب بچپن کی طرف سے شروع نہیں ہو گا وگرنہ بڑی غلطیاں پکڑی جاتیں۔
ھذا من فضل ربی
*اسلام میں داڑھی کی شرعی حیثیت کتاب و سنت اور آثار صحابہ کی روشنی*
تمہید:
اسلام میں داڑھی کی حیثیت محض ایک ثقافتی یا معاشرتی علامت نہیں بلکہ کتاب و سنت اور تعاملِ صحابہ کی روشنی میں ایک اہم شرعی شعار کی حیثیت رکھتی ہے۔ جمہور فقہاء (احناف، مالکیہ، حنابلہ اور اکثر شوافع) کے نزدیک داڑھی بڑھانا واجب اور اسے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا ناجائز یا مکروہِ تحریمی قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ مجید سے استدلال
قرآنِ مجید میں داڑھی کا صریح حکم موجود نہیں، لیکن انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنت اور ظاہری شعائر کا ذکر موجود ہے۔
حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قَالَ يَابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي
ترجمہ:
“اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑو۔” — سورۃ طٰہٰ: 94
اس آیت سے معلوم ہوا کہ داڑھی انبیاءِ کرام کا معروف اور معزز شعار تھی۔
احادیثِ نبویہ ﷺ
داڑھی کے بارے میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں جن میں واضح امر (حکم) وارد ہوا ہے۔
1.داڑھی بڑھانے کا حکم
عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ
ترجمہ:
“مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔”(متفق علیہ)
2.فطرت کے اعمال میں داڑھی:
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
قُصُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَى
ترجمہ:
“مونچھیں کم کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔”(مسلم)
ایک روایت میں:
عشر من الفطرة
ترجمہ:
“دس چیزیں فطرت میں سے ہیں…”
ان میں مونچھیں کم کرنا بھی ذکر ہوا۔
فقہاء نے داڑھی کو بھی اسی فطری ہیئت کے تسلسل میں شمار کیا۔
3.مجوسیوں اور کفار کی مخالفت:
نبی ﷺ نے فرمایا:
خَالِفُوا الْمَجُوسَ، وَفِّرُوا اللِّحَى
ترجمہ:
“مجوسیوں کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ۔”(رواہ مسلم)
یہ صرف ظاہری فرق نہیں بلکہ اسلامی شناخت کا اظہار بھی ہے۔
آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم:
صحابۂ کرام کا عملی تعامل اس مسئلے میں بہت اہم ہے۔
1.حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما:
عبد اللہ بن عمر حج یا عمرہ کے بعد اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ ایک مشت سے زائد ہوتا اسے کاٹ دیتے تھے۔ (رواہ بخاری)
اسی اثر سے فقہاءِ احناف و حنابلہ نے “ایک مشت” کی مقدار اخذ کی۔
2.صحابہ میں داڑھی منڈانے کا ثبوت نہیں:
کسی صحیح روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کسی صحابی نے داڑھی منڈائی ہو۔ بلکہ داڑھی رکھنا ان کا عمومی اور معروف عمل تھا۔
ائمہ اربعہ کا موقف:
فقہ حنفی:
امام ابو حنیفہ کے نزدیک داڑھی ایک مشت تک رکھنا واجب ہے اور اس سے کم کرنا ناجائز ہے۔
فقہ مالکی:
امام مالک کے نزدیک داڑھی منڈانا مُثلہ (صورت بگاڑنا) میں داخل ہے۔
فقہ حنبلی:
امام احمد بن حنبل کے نزدیک داڑھی منڈانا حرام ہے۔
فقہ شافعی:
متقدم شوافع میں بھی داڑھی منڈانے کو ناپسند اور خلافِ سنت قرار دیا گیا، اگرچہ بعض متاخرین نے کراہتِ تنزیہی کا قول اختیار کیا۔
داڑھی کی مقدار:
جمہور فقہاء خصوصاً احناف کے نزدیک:
ایک مشت تک داڑھی رکھنا واجب
ایک مشت سے کم کرنا ناجائز یا مکروہِ تحریمی
ایک مشت سے زائد بال کاٹنے کی اجازت
چند اہم وضاحتیں:
1.داڑھی ایمان کا واحد معیار نہیں۔
داڑھی رکھنا سنتِ نبوی ﷺ اور شرعی حکم ہے، لیکن کسی مسلمان کے دیگر اعمال و تقویٰ کو نظر انداز کرکے صرف داڑھی کی بنیاد پر کامل یا ناقص مسلمان کہنا درست نہیں۔
2.بے داڑھی شخص اسلام سے خارج نہیں۔
داڑھی منڈانا گناہ ہو سکتا ہے، مگر اس سے کوئی شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
3.حکمت
انبیاء کی سنت
مرد و عورت میں ظاہری فرق
اسلامی شناخت:
فطرت کے مطابق ہیئت
حرف آخر:
کتاب و سنت، آثارِ صحابہ اور جمہور فقہاء کی روشنی میں:
داڑھی رکھنا رسول اللہ ﷺ کی مؤکد اور دائمی سنت ہے۔
جمہور فقہاء کے نزدیک داڑھی بڑھانا واجب ہے۔
بلا عذر داڑھی منڈانا ناجائز یا سخت مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
صحابۂ کرام کا تعامل بھی اسی پر تھا۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں سنت نبوی پر من و عن عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
وما علینا الا البلاغ المبین
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔۔۔
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
0092300860 4333