*رشوت کے حرام مال سے حج کی شرعی حیثیت*
بدھ 13 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
رشوت، حرام کمائی، حقوق العباد کی پامالی اور پھر حج و عمرہ کو گناہوں کی “دھلائی” سمجھ لینا ہمارے معاشرے کی ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سارا سال ظلم، رشوت، خیانت اور ناجائز کمائی کرتے رہیں، پھر حج یا عمرہ کر آئیں تو سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ یہ سوچ قرآن و سنت کی روح کے خلاف ہے۔ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حلال رزق، عدل، امانت اور حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی دین ہے۔
رشوت کی شرعی حیثیت
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، اور نہ اسے حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جانتے بوجھتے گناہ کے ساتھ کھا جاؤ۔”
(سورۃ البقرہ: 188)
یہ آیت رشوت، ناجائز سفارش، سرکاری اختیارات کے غلط استعمال اور ظلم کے ذریعے مال کھانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان کے درمیان دلالی کرنے والے پر۔”
(سنن ابی داؤد، ترمذی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رشوت صرف ایک مالی جرم نہیں بلکہ کبیرہ گناہ ہے جس پر لعنت آئی ہے۔
حرام مال سے حج کا حکم:
فقہاء نے واضح لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص حرام مال سے حج کرے تو ظاہری طور پر فرض ادا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا حج اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“بے شک اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
ایک اور روایت میں آیا ہے:
“جب کوئی حرام مال کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے… پھر لبیک کہتا ہے تو آسمان سے آواز آتی ہے:
نہ تیرا لبیک قبول، نہ تیری سعادت؛ تیرا زادِ راہ حرام، تیرا خرچ حرام، اور تیرا حج غیر مقبول ہے۔”
اگرچہ اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن و صحیح احادیث کے مطابق ہے کہ اللہ تعالیٰ حرام کمائی سے کی گئی عبادت کو پسند نہیں فرماتا۔
کیا حج سارے گناہ معاف کر دیتا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے اللہ کے لیے حج کیا، نہ بے حیائی کی اور نہ گناہ کیا، وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث میں “مقبول حج” کی فضیلت بیان ہوئی ہے، لیکن علماء نے وضاحت کی ہے کہ:
یہ بشارت سچے توبہ کرنے والے کے لیے ہے۔
حقوق العباد معاف نہیں ہوتے جب تک حق واپس نہ کیا جائے۔
ظلم، غصب، رشوت اور خیانت کا حساب الگ ہوگا۔
یعنی اگر کسی نے لوگوں کے حقوق کھائے ہیں، رشوت لی ہے، زمینوں میں ظلم کیا ہے، فائلیں روک کر پیسے وصول کیے ہیں، تو صرف حج کر لینے سے وہ حقوق ساقط نہیں ہوتے۔
حقوق العباد کا معاملہ انتہائی سخت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جانتے ہو مفلس کون ہے؟”
صحابہؓ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا… پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی…”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عبادات کے باوجود حقوق العباد کی پامالی انسان کو تباہ کر سکتی ہے۔
رشوت خور کا حج کیوں خطرناک دھوکہ بن جاتا ہے؟
بعض لوگ حج کو “روحانی دھلائی” سمجھ لیتے ہیں:
سارا سال ظلم کرو،
حرام کماؤ،
لوگوں کے کام روک کر پیسے لو،
پھر عمرہ یا حج کر آؤ،
اور سمجھو سب صاف ہوگیا۔
یہ سوچ دراصل توبہ نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ دھوکہ کرنے کی کوشش ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
“وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ ہی انہیں ڈھیل دے رہا ہے۔”
حج کا مقصد دل کی اصلاح، عاجزی، تقویٰ اور گناہوں سے سچی واپسی ہے، نہ کہ گناہوں کا لائسنس۔
سچی توبہ کی شرائط:
اگر کوئی شخص واقعی رشوت اور حرام کمائی سے توبہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے:
1.فوراً حرام کمائی چھوڑ دے۔
2.گزشتہ گناہوں پر سچے دل سے نادم ہو۔
3.آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔
4.لوگوں کے حقوق واپس کرے۔
5.اگر اصل مالک نہ ملے تو اس مال کو صدقہ کرے۔
6.پھر حلال مال سے حج یا عمرہ کرے۔
تب امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
کیا حرام مال صدقہ کرنے سے پاک ہو جاتا ہے؟
نہیں۔
حرام مال کو ثواب کی نیت سے صدقہ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل مقصد خود کو ناجائز مال سے پاک کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس سے اجر حاصل کرنا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
“اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو نیکی سے مٹاتا ہے۔”
حج کا اصل پیغام:
حج صرف احرام پہننے اور طواف کرنے کا نام نہیں۔
حج انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ:
کسی پر ظلم نہ کرو،
کسی کا حق نہ کھاؤ،
تکبر چھوڑ دو،
حلال کھاؤ،
حلال کماؤ،
اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھو۔
اگر حج کے بعد بھی انسان رشوت، دھوکہ اور ظلم نہ چھوڑے تو اسے اپنے حج کی فکر کرنی چاہیے۔
علماءِ امت کی آراء:
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
“حرام مال سے حج کرنے والا گناہگار ہے، اگرچہ فرض ادا ہو جائے۔”
امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا کہ حرام مال سے حج؟
فرمایا:
“ایسا حج مقبول نہیں۔”
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کرتے تھے:
“اللہ نماز اور روزے سے پہلے بندوں کے حقوق کا سوال کرے گا۔
معاشرے کے لیے اہم پیغام
ہمارے معاشرے میں اصل اصلاح اس وقت آئے گی جب:
مسجد کے ساتھ دفتر بھی دیانت دار ہو،
نمازی کے ساتھ تاجر بھی سچا ہو،
حاجی کے ساتھ افسر بھی انصاف کرنے والا ہو۔
ورنہ صرف ظاہری عبادات انسان کو نجات نہیں دے سکتیں۔
خلاصہ:
رشوت لینا اور دینا کبیرہ گناہ ہے۔
حرام مال سے حج کرنا سخت خطرناک عمل ہے۔
ایسا حج ظاہری فرض تو ادا کر سکتا ہے لیکن قبولیت مشکوک ہوتی ہے۔
حج صرف اسی وقت گناہوں کو مٹاتا ہے جب سچی توبہ، حلال کمائی اور حقوق العباد کی ادائیگی ہو۔
لوگوں کے حقوق واپس کیے بغیر محض حج یا عمرہ کر لینا کافی نہیں۔
اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔
الدعاَء:
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق، سچی توبہ، دیانت داری اور حجِ مبرور نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333