9

*کرپٹ ترین سسٹم کے ساتھ نہ چلنے کی سزا*

*کرپٹ ترین سسٹم کے ساتھ نہ چلنے کی سزا*

*سابق چیف انجینئر کو ریٹائرمنٹ سے 3 سال قبل ہی گھر بٹھادیا گیا*

*بلدیہ عظمی کراچی کے سابق چیف انجینئر ظفر مجاہد بلوچ نے حقائق سے پردہ اٹھادیا*

*ڈیڑھ ارب لاگت کی 75 ترقیاتی اسکیموں میں 30 فیصد غیر قانونی پریمیم شامل کرنے پر آواز اٹھائی جس پر KMC کے 3 بڑے ناراض ہوگئے، چیف انجینئر ظفر مجاہد بلوچ*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : حق و سچ کی سزا، کے ایم سی مکمل کرپشن میں مبتلا*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

پاکستان کے فیلڈ مارشل سمیت جملہ جنرلز و کور کمانڈرز سمیت اسٹبلشمنٹ کو اب سنجیدگی کا عملی مظاہرہ پیش کرنا اشد ضروری بن چکا ھے پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے اور عوام کو جینے کق سہارا میسر ھونے کیلئے کیونکہ آپ ہی کے لائے گئے بدکردار، باغی و غدار، سیاستدان و حکمرانوں نے ملک پاکستان کو تباہ و برباد اور تہس و نہس کر ڈالا ھے۔ اب ملک پاکستان میں اہلیت، قابلیت، ذہانت، شرافت، انسانیت، ایمانداری، دیانتداری، خلوص اور حب الوطنی کا جنازہ بڑی دھوم سے نکل رھا ہے۔۔۔۔ معزز قارئین !! کرپٹ ترین سسٹم کے ساتھ نہ چلنے کی سزا یہ دی گئی کہ سابق چیف انجینئر کو ریٹائرمنٹ سے تین سال قبل ہی گھر بٹھادیا گیا۔ بلدیہ عظمی کراچی کے سابق چیف انجینئر ظفر مجاہد بلوچ نے حقائق سے پردہ اٹھادیا۔ ڈیڑھ ارب لاگت کی پچھہتر ترقیاتی اسکیموں میں تیس فیصد غیر قانونی پریمیم شامل کرنے پر آواز اٹھائی جس پر کے ایم سی کے تین بڑے ناراض ہوگئے، کے ایم سی کے سابق چیف انجیئر ظفر مجاہد بلوچ کی آب بیتی نے سب کھول دیا آج میں انکی عیاں کردہ راز اپنے کالم کی زینت بنا رھا ھوں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی یعنی کے ایم سی میں تعینات رہنے والے سابق انجینئر ظفر مجاہد بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ریٹائرمنٹ سے تین سال قبل ہی مبینہ طور پر سسٹم کے ساتھ نہ چلنے کی پاداش میں گھر بٹھادیا گیا جس کی بنیادی وجہ مبینہ غیر قانونی کام کرنے سے انکار تھا، معرکہ حق کے موقع پر اپنی ریٹائرمنٹ کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے پر اس حوالے سے انہوں نے اپنے تفصیلی بیان میں تمام تفصیلات تحریر کرتے ہوئے جو انکشاف کئے ہیں وہ من وعن معزز قارئین کی نظر پیش کئے جارہے ہیں۔اتفاق سے معرکہ حق کا دن اور میری ریٹائرمنٹ کا دن ایک ہی ہے یعنی نو مئی سنہ دو ہزار پچیس عیسوی، دن، مہینے، سال، گزرتے جارہے ہیں، وقت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، آج مجھے سروس سے ریٹائر ہوئے تقریبا ایک سال مکمل ہوگیا ہے میں پچھلے سال نو مئی کو ریٹائر ہوا تھا، لیکن یہ ایک سال کیسے گزرا بالکل بھی پتہ نہیں لگا، کیونکہ مجھے ریٹائرمنٹ سے تقریبا تین سال پہلے ہی عملی طور پر بغیر کسی اسائمنٹ کے گھر پہ بٹھا دیا گیا یہ کہہ کر کہ آپ ہمارے سسٹم کیساتھ نہیں چل سکتے اس لئے ہم آپ کو کوئی کام، ذمہ داری، یا اسائمنٹ نہیں دے سکتے، وجوہات اس کی بادی النظر میں بہت ساری تھیں، کیونکہ وہ جس طرح سے چاہتے تھے یا چلانا چاہ رہے تھے میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا اور نہ ہی غیر قانونی کام کرسکتا تھا، پھر اسی بات کی انہوں نے مجھے سزا دی اور ایک کامن الزام لگا کر کہا کہ آپ فلاں سیاسی پارٹی کیلئے کام کرتے ہیں اور ان ہی کہ کہنے پر آپ میرے کام خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، جب کہ یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد تھا، میری نظر میں مجھے صرف ایک وجہ سے ہٹایا گیا اور گھر پہ بٹھایا گیا کہ میں نے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا اور وہ غیر قانونی کام یہ تھا کہ تقریبا پچھہتر اسکیمیں دو کروڑ روپے والی جنکی کل لاگت ڈیڑھ ارب روپے بنتی تھی ان میں دانستہ طور پر اسٹیمیٹ کی رقم میں تیس فیصد پریمئیم جمع کرکے جو رقم بنتی تھی اسکا ٹینڈر طلب کیا گیا تھا جو کہ سراسر ورکس رولز کی خلاف ورزی تھی، لیکن میرے اوپر جو تین بڑے حضرات تھے وہ یہ چاہتے تھے کہ میں انہیں بلا چوں و چرا کئے ہوئے دستخط کردوں اور ورک آرڈر جاری کردوں، اس گھمبیر صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور زور زبردستی کے پریشر کو ریلیز کرنے کیلئے میں نے سیپرا کو ایک لیٹر لکھ دیا اور ان سے درخواست کی کہ مجھے قوانین کی روشنی میں مزید بتائیں اور ہدایات دیں کہ اس صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اور آیا کہ اسٹیمیٹ کی رقم میں تیس فیصد جمع کرکے اس رقم کا ٹینڈر طلب کرنا درست عمل ہے یا خلاف قوانین و قواعد ہے؟ یاد رہے کہ مذکورہ پچھہتر اسکیموں کے ٹینڈرز جن کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے بنتی تھی میرے عہدے کا چارج لینے سے قبل ہی اخبارات میں اشتہار کیلئے بھیجے جا چکے تھے۔ چند دنوں کے بعد سیپرا نے میرے سوالات کے قوانین و قواعد کی روشنی میں جوابات دیتے ہوئے ایک لیٹر لکھا اور کہا کہ یہ بلکل قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور مذکورہ تمام ٹینڈرز کینسل کرکے ری انوائیٹ کئے جائیں۔ سیپرا کا جواب آجانے کے بعد میں نے ایک دفعہ پھر اپنے تین عدد بڑے حضرات و عہدیداروں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس بات پر بھی سخت غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا کہ میں نے ان سے پوچھے بغیر سیپرا کو لیٹر کیوں لکھا؟ بہرحال سیپرا کا لیٹر مل جانے کے بعد میں نے مذکورہ پچھہتر اسکیموں کے ٹینڈرز کینسل کردئیے اور پھر یہی وجہ بنی کہ مجھے ریٹائرمنٹ سے تین سال قبل ہی ریٹائر کرکے گھر پہ بٹھادیا اور اس طرح سے ان حضرات نے اپنی ٹھرک نکالی، کیونکہ قانونی طور پر اس کے علاوہ یہ مذکورہ تین بڑے حضرات میرے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بحرحال تین سال وہ اور اب ایک سال یہ بھی گزر گیا یعنی کل ملا کر چار سال گزر گئے سروس سے عملی طور پر ریٹائر ہوئے، لیکن شکر الحمداللہ، دل و دماغ بڑے مطمئن ہیں۔ شکر الحمداللہ اور جن تین بڑے حضرات نے اپنے اختیارات کا ناجائز اور غیرقانونی فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے جبرا گھر پہ بٹھایا اور کسی بھی قسم کی کوئی اسائمنٹ نہیں دی تھی اور میرے ساتھ نا انصافی کی اور محض اپنی انا اور ٹھرک مٹانے کیلئے مجھے سائیڈ لائین کیا وہ آج بھی مطمئن نہیں ہیں اور پریشان حال ہیں، حالانکہ میں نے تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا کیونکہ اللہ تو سب دیکھ رہا ہے اور وہ سب جانتا بھی ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! بین الاقوامی بدنام زمانہ آصف علی زرداری نے اٹھاتہ ویں ترامیم ہی اسی لئے کی تیں کہ جرائم کرپشن اور لوٹ مار کو قانونی چھتری مل سکے سہارا میسر آجائے یاد رھے کہ اٹھارہ ویں ترامیم کے بعد ہر صوبے نے کرپشن کے دریچے کھول دیئے لیکن اس میں سب سے زیافہ سبقت لے جانے والا صوبہ سندھ ہی ھے۔ لوکل گورنمنٹ ے سندھ گورنمنٹ تک حد نگاہ وسیع تر ہر شعبہ ہر ادارہ ہر محکمہ اور ہر وزارت میں لامتناہی کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانی، لاقانونیت اور ملک دشمنی و غداری کے عوامل تواتر سے آزادانہ غاصبانہ عمل پزیر ہیں یہی وجہ ھے کہ بدکار و بدکردار پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مدلم لیگ نون، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اٹھارہ ویں ترامیم کو ختم کرنے کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اٹھارہ ویں ترامیم میں حصہ دار ان سیاسی جماعتوں کیساتھ پاکستان تحریک انصاف سمیت ہر چھوٹی بڑی سیات جماعت نے ووٹ دیکر قانون پاس کروایا تھا تاکہ سب ملکر لوٹ مار میں اپنا حصہ مقرر کروا سکیں۔ آج چیف انجینئر ظفر مجاہد بلوچ سمیت ہر ایماندار دیانتدار سچا مخل محب الوطن بےبس لاچار کمزور نظر آرھا ھے کیونکہ سیشن کورٹ، سٹی کورٹ ہو یا ہائیکورٹ یا پھر سپریم کورٹ سب کے سب اس سیای مافیاء کے سہولتکار و دست راز بنے ہوئے ہیں اب پاکستان اور صوبوں کی بقاء اٹھارہ ویں ترامیم کے خاتمے سے مشروط ھے ۔۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں