مستقبل کی جنگیں: ٹیکنالوجی, تباہی اور اتحاد کی راہ
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
جنگوں کی تاریخ بہت ہی پرانی ہے۔زمانہ قدیم میں بھی انسان جنگیں لڑتے رہے اور اب بھی لڑی جا رہی ہیں نیز مستقبل میں بھی لڑی جاتی رہیں گی۔ماضی میں جنگ ہاتھوں، پتھروں یا ڈنڈوں وغیرہ سے لڑی جاتی تھیں۔بعد میں تلوار و تیر کا استعمال ہونا شروع ہوا۔تیر و تلوار کے بعد بارود کا استعمال ہونا شروع ہو گیا۔اس طرح ترقی کرتے کرتے انسان جدید ہتھیار بنانے کے قابل ہو گیا ہے اور اب جدید ہتھیاروں سے جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔،ایٹم بم،موجودہ دور کی سب سے بڑی ایجاد ہے اور انسانیت کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بہت ہی بڑھ رہا ہے۔ہاتھوں اور ڈنڈوں سے لڑی والی جنگیں کم خطرناک ہوتی تھیں۔تلوارو تیر سے لڑی جانے والی جنگ زیادہ خطرناک ہوئی۔اب خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہےلیکن موجودہ خطرے سے زیادہ مستقبل میں خطرہ بڑھ جائے گا۔مستقبل میں جنگیں زیادہ خطرناک ہو جائیں گی۔مستقبل میں جنگیں سکرین پر لڑی جائیں گی۔ایک کمپیوٹر سکرین اور کی بورڈ کی مدد سے کم وقت میں دشمن کا زیادہ نقصان کیا جا سکے گا۔ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکار نظام انسانوں کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔انے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی پر دارومدار بڑھ جائے گا۔روایتی طریقوں کی بجائے جدید طریقے سے جنگیں لڑی جائیں گی۔مصنوعی ذہانت بھی جنگوں میں استعمال ہوگی اور اس کا استعمال بھی بہت خطرناک ہوگا۔آج کل کے دور میں بھی جہازوں کی بمباری خطرناک ہے،لیکن مستقبل میں اس سے بھی زیادہ خطرناک میزائل استعمال ہوں گے۔مستقبل میں انسانی فوجیوں کے بجائے روبوٹس کے ذریعے بھی جنگیں لڑی جائیں گی۔روبوٹس انسان فوجیوں کی نسبت بہت ہی سستے ہوں گے۔ایک فوجی کو ٹرین کر کے لڑنے کے قابل بنایا جاتا ہے اور ٹریننگ پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ٹریننگ کے بعد فوجی کی رہائش،کھانے پینے اور تنخواہ کی مد میں بہت بڑی رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔اس کے باوجود بھی فوجی ریٹائر ہو جاتا ہےیاجنگ میں قتل یا معذور بھی ہو سکتا ہے۔لازمی طور پر یہ ایک مہنگا سودا ہے لیکن روبوٹ کو ایک دفعہ تیار کر کے اس میں پروگرام انسٹال کر دیے جائیں تو اس کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔روبوٹ کو درست حالت میں رکھنے کے لیے کچھ اخراجات ہو سکتے ہیں لیکن ایک انسانی فوجی کی نسبت پھر بھی بہت ہی سستا ہوگا۔اگر پھر بھی روبوٹ ٹوٹ جائے تو اس کو آسانی سے پھینکا جا سکتا ہے۔مستقبل میں لڑی جانے والی جنگوں میں ایک طرف تو کم نقصان ہوگا لیکن دوسری طرف بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک طاقتور ریاست تھوڑا سا خرچ کر کے کمزور ملک کو آسانی تباہ کر سکے گی۔آواز سے تیز جدید میزائل بھی بہت بڑی تباہی پھیلا سکیں گے۔ایسے میزائل تیار ہو سکتے ہیں جن کو تباہ کرنا مشکل ہوگا اور وہ کم وقت میں زیادہ نقصان کریں گے۔اس وقت امریکہ،چین،روس اور دیگر کئی ممالک جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔مستقبل میں جو ملک جدید حملوں سے اپنا بچاؤ نہیں کر سکے گا وہ ہمیشہ طاقتور ریاستوں کی تابعداری کرنے پر مجبور ہوگا۔
مستقبل میں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ دیگر طریقے بھی بطور ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔مثال کے طور پرآج کل تمام نظام کمپیوٹر پر منتقل ہورہاہے۔فیکٹریاں،بینکس،بجلی،صحت کا شعبہ،لینڈز،مواصلات سمیت تقریبا ہر شعبہ کمپیوٹر پر منتقل ہو گیا ہے اور مستقبل میں اس سے بھی زیادہ جدت ہوگی۔کمپیوٹرز پر سائبر اٹیک کر کے جدید سسٹم کو ناکارہ کیا جا سکےگا۔اب بھی صرف ایک ہیکر کسی بھی ریاست یا ادارے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔مستقبل میں خطرات بڑھ جائیں گے۔خلا کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔کمزور ریاستیں اپنی معلومات کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو جائیں گی۔سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کا سسٹم بھی بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔پابندیاں لگا کر بھی کسی ملک کو تباہ کیا جا سکےگا۔جنگ کی دھمکی دے کر کسی بھی ملک کو مجبور کیا جا سکے گا کہ وہ طاقتور کی تابعداری کرے۔اس کے علاوہ بیماریاں بھی بطور جنگی ہتھیار استعمال ہوں گی۔بیماریوں کے جراثیم کسی بھی ملک پر پھینک کر اس کے شہریوں کو خطرناک بیماریوں میں مبتلا کیا جاسکےگا۔ایسی بیماریاں پھیل جائیں گی جن کا علاج بھی ناممکن ہوگا۔کسی بھی مللک پر بہت زیادہ مصنوعی بارش برسا کر بھی نقصان پہنچایا جا سکےگا۔زیادہ بارش سے سیلابی صورتحال پیدا کردی جائےگی۔فصلوں پر بھی اٹیک کیے جائیں گے۔اس کی مثال اسرائیل کی دی جا سکتی ہے جس نےلبنان کی زرعی زمینوں پر زہریلا کیمیکل سپرے کیا۔مستقبل میں اس سے زیادہ خطرناک سپرے کیے جا سکتے ہیں جس سے بے شمار انسانوں کو کم نقصان کے عوض قتل کیا جا سکے گا۔جس طرح جدید تحقیقات سامنے آرہی ہیں ان سے علم ہوتا ہےکہ مستقبل میں کسی ریاست میں زیادہ درجہ حرات پیدا کر کے بھی نقصان پہنچایا جا سکے گا۔کہیں زیادہ اور کہیں درجہ حرارت بالکل کم کر کے بھی نقصان پہنچایا جا سکےگا۔یہ کہنا درست ہے کہ زیادہ ناقابل برداشت گرمی یا سردی انسانوں اور جانوروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچائےگی۔زلزلوں کے ذریعے بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی زلزلے پیدا کر کے بہت بڑے علاقے کو تباہ کیا جا سکے گا۔مستقبل میں زیادہ خطرات سے بچنے کے لیے کمزور ممالک اتحاد کریں اور ایک دوسرے سے تعاون کی پالیسی اپنائیں۔کمزور ممالک اگر ایک دوسرے کے مخالف رہے تو مستقبل میں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ طاقتوروں کے ہمیشہ غلام رہیں۔ایشیائی ممالک میں اختلافات زیادہ ہیں اور مستقبل میں یہ اختلافات بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اگر متحدہ دفاعی نظام قائم کر دیں تو مستقبل میں بہت بڑے خطروں سے بچا جا سکے گا۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلامی ریاستیں آپس میں ایک دوسرے کی بہت زیادہ مخالف ہیں،اگر اسلامی ریاستیں مکمل اتحاد کرلیں تو مستقبل میں بہت بڑی کامیابی ان کی منتظر ہوگی۔اسلامی ریاستیں علاقائی،لسانی،فقہی اختلافات کا شکار ہیں۔اسلامی ریاستوں میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں ان کو نظر انداز کر کے مستقبل کی طرف بڑھاجاسکتا ہے۔اسلامی ریاستوں اگر متحد ہو جائیں تو ان کا اتحاد عالمی امن کا ضامن بن سکتا ہے۔جدید علوم کا حصول لازمی کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
خطے کی کشیدہ صورتحال، قطری وزیراعظم کا شہبازشریف سے چند روز میں دوسرا رابطہ۔
ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر
نیتو کپور کا رشی کپور کی موت کے بعد نیند کیلئے انجیکشنز لگوانے کا انکشاف۔
مستقبل کی جنگیں: ٹیکنالوجی, تباہی اور اتحاد کی راہ تحریر: اللہ نواز خان
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) چیف آرگنائزر لٹریری اینڈ سپورٹس ایکٹیوٹیز ڈسٹرکٹ خوشاب ملک