46

حماس کے ہتھیاراور غزہ کا مستقبل تحریر:اللہ نواز خان

حماس کے ہتھیاراور غزہ کا مستقبل
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
غزہ اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی۔جنگ نے غزہ کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔رپورٹس کے مطابق بہترہزار(72000)سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور لاکھوں زخمی ہوئے ہیں۔لاکھوں افراد بےگھری کا عذاب برداشت کر رہے ہیں۔غزہ میں نظام زندگی بہت متاثر ہوا ہے۔جنگ بندی کے معاہدے ہوئے لیکن مکمل طور پر جنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا۔اب عارضی جنگ بندی ہے لیکن پھر بھی اسرائیل کےغزہ پر حملے جاری ہیں۔2025 میں جنگ بندی کے جشن منائے گئے لیکن ابھی تک جنگ بندی کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔آٹھ مئی 2026 کو فضائی حملے میں نو(9) فلسطینی شہید اورانتالیس (39)زخمی ہو گئے۔صورتحال اب بھی سنگین ہے اور فلسطینی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔عارضی معاہدوں کے باوجود بھی اسرائیل کی طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں۔حملوں کی ذمہ داری دونوں فریق ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں،لیکن غزہ کی کمزور صورتحال کے باعث یہ سمجھنا آسان ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کون کر رہاہے؟بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں،لیکن بدترصورت حال کی وجہ سے لوٹنا مشکل ہے۔تباہ شدہ گھر رہائش کے قابل نہیں رہے،لیکن فلسطینی اپنے گھروں کی جگہ پرٹینٹس لگا کر بھی رہائش رکھنا چاہتے ہیں۔پانی،خوراک،بجلی،ادویات سمیت تمام ضروریات کی قلت ہے۔امدادی سامان فلسطینیوں تک پہنچنا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔اسرائیل اب جنگ بندی اپنی شرائط کے مطابق کرنا چاہتا ہے۔اسرائیل سب سے بڑا یہ مطالبہ یہ کر رہا ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے۔نیزیہ بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ سیاسی اور اقتصادی نظام بھی اسرائیل کے کنٹرول میں ہو۔اصل میں حماس کا مکمل خاتمہ اسرائیل کے مشن میں ہے۔حماس اگر غیر مسلح ہوتی ہے تو اس کا نقصان بہت زیادہ ہوگا۔
حماس ایک عوامی تنظیم ہے اور فلسطینیوں کا تحفظ کر رہی ہے۔اسرائیل کی طرف سے وارننگ دی گئی ہے کہ اگر حماس غیرمسلح نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔2026 کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی۔حماس نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔کچھ دن پہلے حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تنظیم غیر مسلح ہونے سے متعلق منصوبے کو مسترد کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز دینا اسرائیل کی ایک خطرناک سازش ہے،جس کا مقصد وہ حاصل کرنا ہے جو عسکری طور پر حاصل نہیں کر سکا۔ابو عبیدہ کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ وہ کسی صورت میں ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے مقصد میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس سے زبردستی ہتھیار لیے جائیں گے۔حماس کا موقف ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔حماس ایک مزاحمتی تحریک بھی ہے اور اسرائیل کے ساتھ کافی عرصہ سے برسر پیکار ہے۔حماس اگر ہتھیار ڈال دیتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اسرائیل کا غزہ پر مکمل کنٹرول ہو گیا ہے۔یہ تو واضح ہے کہ زیادہ عرصے تک جنگ لڑنے کے بعد بھی حماس اپنی مضبوطی ثابت کر رہی ہے۔اسرائیل ایک فریق کے طور پر حماس کو تسلیم کر رہا ہے۔حماس کی طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ کس صورت میں بھی غیر مسلح نہیں ہوگی۔اب اگر مکمل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو حماس غزہ کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتی ہے۔حماس انتظامی امور،سیکورٹی مسائل،کرنسی سمیت دیگر مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے کیونکہ اس جماعت کو عوامی حمایت حاصل ہے۔کچھ فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ ہتھیار ڈال دینےچاہیے تاکہ امن آسکے۔برسوں سے جاری رہنے والی جنگ سے بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے،لیکن اگر اسرائیل کاغیرمسلح ہونےکامطالبہ تسلیم کر لیا جاتا ہے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ہتھیار ڈالنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک ختم ہو جائے گی کیونکہ صرف حماس ہی مزاحمت کر رہی ہے۔وارننگ دی گئی ہے کہ ہتھیارنہ ڈالنےکی صورت میں رفح کراسنگ،امدادی ٹرکس اور تعمیر نو سب متاثر ہوں گے۔جنگ بندی اگر مکمل بھی ہوتی ہے تو غزہ کی تعمیر نو کے لیے کافی سرمائے کی ضرورت ہوگی۔غزہ کی بحالی کےلیے ضروری ہے کہ مکمل طور پر جنگ کا خاتمہ ہو جائے۔عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ جنگ بندہو جائے۔
اسرائیل کی طرف سے بڑے فوجی آپریشن کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،لیکن حماس نے دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ویسےبھی جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی کیونکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں دھماکے سنائی دے رہے ہیں۔اگر جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے تو بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو جائے گا۔لاکھوں انسان ہلاک ہو سکتے ہیں۔غزہ جنگ کوئی علاقائی تنازع نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔نسل انسانی کو بچانے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی ضروری ہے۔اپنی سلامتی کے لیے ہتھیار رکھنا حماس کا حق ہے اور اس حق سے محروم رکھنا ظلم ہے۔غزہ میں اسپتال، تعلیمی ادارے،عبادت گاہیں،بینک اور دیگر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، ان کی فوری تعمیر ضروری ہوگی۔مسلسل بمباری،نقل مکانی اور قتل عام وغیرہ نے فلسطینیوں پر نفسیاتی اثرات بھی ڈالے ہیں،جس کی وجہ سے ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل بڑھ گئے ہیں،ان کا علاج بھی ضروری ہے۔اسلامی ریاستیں فوری طور پرغزہ کو فنڈز بھی مہیا کریں تاکہ غزہ کی تعمیر نو فوری طور پر شروع ہو سکے۔دنیا بھر کی بہت سی یونیورسٹیوں اورتعلیمی درسگاہوں میں احتجاج بھی ہوئے ہیں اور یہ احتجاج ثابت کرتے ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد امن چاہتے ہیں۔اگر جنگ کا اختتام نہ ہوا تو بہت سے نوجوانوں اور بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو آنے والی نسلیں کس مستقبل کا سامنا کریں گی؟امن ہی واحد راستہ ہے جو انے والی نسلوں کو ایک بہترین مستقبل دے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں