عنوان. آخری بس کا انتظار اور نیلما ناہید درانی
تبصرہ نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
یہ آخری بس کا انتظار بھی ناں،بڑا اذیت ناک اور جان لیوا ہوتا ہے،آخری بس تو مشین ہے نہ دل نہ دماغ بس اک روبوٹ کی طرح کسی اور کے طے کردہ پروگرام پہ بگٹٹ بھاگی پھرتی ہے ہاں آخری بس کے منتظر پل پل جیتے ہیں،پل پل مرتے ہیں،موسموں کی شدت مسافر کو سولی پہ لٹکا دیتی ہے،آخری بس کا انتظار بھی اتنا ہی جان لیوا ہوتا ہے جتنا آخری بس کے چھوٹ جانے کا………….
لیکن نیلما ناہید درانی جی کے افسانوں کا مجموعہ آخری بس کا انتظار الجھن نہیں سلجھن ہے،بہت سے انہونے سوالوں کا جواب ہے،یہ افسانوی مجموعہ نیلما جی کی انیسویں تصنیف ہے. اکتیس افسانوں پہ مشتمل اس افسانوی مجموعے کو سنگ میل پبلی کیشنز نے شایع کیا ہے،نیلما جی نے کتاب کا انتساب مستنصر حسین ٹارڑ،عطاء الحق قاسمی،سلمی اعوان،نیلم احمد بشیر اور لاہور شہر کے عصر حاضر کے تمام قلمکاروں کے نام کیا ہے،دوسرا انتساب نیلما جی نے اپنے نانا نانی اور دادا دادی کے نام کیا ہے. آخری بس کا انتظار ،اس افسانوی مجموعے کا پہلا افسانہ ہے اس افسانے میں آخری بس کے منتظر شیرین اور ایرج سے زیادہ مجھے حسین جو کہ ایک پزا ریسٹورنٹ میں ملازم ہے کی انسانی ہمدردی کے جذبے نے ہر جذبے سے زیادہ متاثر کیا. مراد کی خوشبو ایک فلسطینی مہاجر مراد کی کہانی ہے جو اپنے وطن سے اپنی پسندیدہ خوشبو کے ساتھ اپنے دل کو بہلانے کے جتن کرتا ہے. اجنبی اداسی کرونای زمانے کی یاد دلاتی ہے. ہنگری کا مارک آلنے سے گرا ہوا وہ چڑی کا بوٹ جو ساری عمر سکون کی تلاش میں بھٹکتا ہی رہتا ہے.ادھورے خواب میں جب عامر چٹا گانگ سے اپنے بیٹے کے مستقبل کو سنوارنے سعودی عرب آتا ہے اور چوری کے الزام میں بایاں ہاتھ کٹوا کر وطن واپس آ جاتا ہے تو انسانی بے بسی پہ دل خون کے آنسو روتا ہے. کالا پاجامہ میں رانیا کالے پاجامے کی حسرت پوری تو کر لیتی ہے پر کالا پاجامہ ایک دفعہ پہن کر ہی چوری ہو جاتا ہے.روٹ پرمٹ امرتسر کی بیوہ عورت اقبال دائ کی زندگی کی کشمکش کی رام کہانی ہے. ہراک خواہش پہ دم نکلے،شیما اور کریم کے mismatch Afghanee couple کی کہانی ہے جو بہتر مستقبل کی کھوج میں سویڈن پہنچ کر انتہای اندوہناک انجام سے دوچار ہو جاتے ہیں.آسیب زدہ ،آسیب کا شکار لڑکی شاکرہ کی کہانی ہے جو والدین کی عدم توجہ سے محرومیوں کا شکار ہے.کراے کے غنڈے اس ڈراونی حقیقت کو آشکارا کرتے ہیں کہ کراے کے غنڈے حصول زر کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں.اغوا کار کی خود کشی مجھے سیریل کلر جاوید اقبال کی یاد دلا گیی
موت کا سفر میں بلجییم کی کرسٹینا خوابوں کے آنچل کو اوڑھ کے لمحوں میں موت کا سفر طے کر جاتی ہے..عشق نا پچھے دین دھرم ہندوڈاکٹر کمار کی مسلمان گلابو سے ناکام محبت کی داستان ہے.بے گھر مسا فر ایک انجان لڑکے کی زندگانی کی بڑی جیل سے چھوٹی جیل میں منتقلی کی دوہای ہے.الہ دین کا جن موجودہ دور کا ماڈرن جن ہےجو بھوک کی شدت میں الہ دین کے بچے کھانا شروع کر دیتا ہے.امتحاں کیسے کیسے میں شوہر کی جسمانی اور ذہنی زیادتیوں کا شکار رابعہ
اپنی محرومیوں کے راگالاپتی ہوئ دکھائ دیتی ہے. یک طرفہ محبت میں محبت کے ہاتھوں مات کھانے والی آمنہ جب جذباتی ہیجان کے جان لیوا مراحل سے اپنی سہیلی کی وجہ سے بچ جاتی ہے ،ایک ایسے دوست کی تمنا کے ساتھ افسانہ اختتام پذیر ہوتا ہے کہ کاش انسب لوگوں کو کوئ ایسا دوست میسر ہں جاۓ جو ایک کمزور لمحے میں اپنے ہاتھوں ہیاپنی جان گنوا لیتے ہیں.وراثت میں ،وراثت ہتھیانے کے لیے بڑے بھای،چھوٹے سوتیلے بھائ کو جان ہی سے مار دیتے ہیں.امیر بھکاری میں ایک ماں اپنے پردیس جانے والے بیٹے کو صدقہ خیرات کی تاکید کرتی ہے اور وہ جس بھکاری کو صدقہ خیرات کرتا رہتا ہے وہ اتنا امیر ہوتا ہے کہ اس کے پاس گاڑی ہوتی ہے اورصدقہ دینے والے کے پاس صرف ایک سایئکل. ساڑھی کی فرمایئش میں غریب کی بیٹی روبینہ،اپنے باپ شبیر سے اپنے سکول کی الوداعی پارٹی میں سرخ سلک کی ساڑھی کی فرمایش کے پورا نہ ہونے کے اندیشے سے ہی باپ کی جیپ سے نیند کی گولیاں کھاکر ابدی نیند سو جاتی ہے، باپ خون بیچ کے ،بیٹی کے لیے سرخ سلک کی ساڑھی خریدتا ہے اورمحلے والے کہتے ہیں ضرور کسی لڑکے کا چکر ہو گا ورنہ جوان لڑکی یوں زہر نہ کھاتی? نگا ہیں ایک ہیجڑے نگاہیں کی بے بسی کی کہانی ہے. خوبصورت اس مصرعے کی ترجمان ہے وہی سہاگن جسا پیا چاہے. چاے خانہ میں دو تہذیبوں کے طرز معاشرت کے مابین واضح فرق کا بیان ہے سویڈش عورت جسے اپنا بواے فرینڈ بتاتی ہے وہ بواے فرینڈ اس عورت کو اپنی بیوی بتاتا ہے. سویڈن کے لوگ نہ ہی جھوٹ بولتے ہیں اور نہ ہی چوری کرتے ہیں. شاعر کا خواب ایک طنزیہ افسانچہ ہے. کڑا اور گہرا طنز خواب دیکھنے اور تعبیر دینے والے دونوں چلے گیے،نیلما جی کہتی ہیں اب اس ملک میں مسلمان رہتے ہیں اور اپنی ہی مسجدوں میں نماز پڑھنے والوں کوخود کش حملے کر کے مار دیتے ہیں. عالم ارواح سے عالم برزخ تک ان پانچ منازل کی کہانی ہے جو ہر انسان کی زندگی کے مراحل گردانے جاتے ہیں. مکافات میں فلم انڈسٹری کے شاعر اور ادیب بھاییوں کے برے کرتو توں کا خمیازہ ان کی بہن غزالہ کو اپنی عزت گنوا کر دینا پڑتا ہے.زندگی بے اماں میں نماز روزے کی پابند ،با پردہ ،سیدانی متی باجی جو ننگے سر والیوں پہ غراتی ہے..
کنجریوں کی طرح ننگے سر پھرتی ہو… اور پھر وہی متی باجی پیر صاحب کے آستانے پہ بچہ لینے کے لیے بے لباس ہو جاٹی ہے. یہ المیہ صدیوں سے ہے.اور روزحشر تک یونہی چلنا ہے. سدا نہ ماپے حسن جوانی میں رانی کی جوانی اور حسن کو بڑھاپا کھا جاتا ہے اور وہ ایک چڑیل ہی دکھتی ہے. آخری بس کا انتظار کے سیکنڈ لاسٹ افسانے کا نام عالیہ بھٹ اور لیتو کا ملک کیک میں لییہ کے وکیل کی چار سالہ بیٹی ببلی سے زیادتی کا بدنما داغ اس کی ساری زندکی کو برباد کر دیتا ہے.اور اس ببلی کےمقابلے میں بالی وڈ کی صف اول کی ہیروین عالیہ بھٹ سے کر کے معاشرے کے دوغلے پن کو قلم کیا ہے اور آخری افسانہ بے نیازی سی بے نیازی اس بات کی ترجمان ہے کہ یک طرفہ محبت عاشق کی موت ہے.
مجھے ان لوگوں پہ بڑی حیرت ہوتی ہے جو اتنی ساری مصروفیات کے ہوتے ہوے بھی ہزار ہزار صفحات کی کتابیں ایک دن میں پڑھ کر ان پہ صفحات کے صفحات تبصرے کرتے بھی ہیں،پڑھتے بھی ہیں اور چھپواتے بھی ہیں. مجھے تو نیلما جی کی کتابآخری بس کاانتظار کے ایک سو اٹھایس صفحات پہ محیط اکتیس افسانوں کوپڑھنے میں مجھے پورے دس دن لگ گیے اور مجھے لگا جیسے نیلما جی نے اس ایک کتاب کے توسط سے پوری دنیا کے غم،دکھ سکھ اور خوشیاں اور واقعات کو چھہٹے چھوٹے افسانوں کی شکل میں ادبی دنیا کے حوالے کر دیا ہو ،زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزارنے والی نیلما آج کل لندن میں مقیم ہیں ،بظاہر کامیاب عورت ہیں، ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں میری ادبی استاد ہیں انکی کتاب پڑھنا ایک سعادت اور ایک جہان کی سیر جیسا تھا. کتاب سے عشق کرنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے.
تبصرہ نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی آزاد صحافت مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے، 3 مئی ہمیں سچ کی اہمیت یاد دلاتا ہے: محسن سجاد اتراء ایڈووکیٹ
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) شدید لوڈشیڈنگ اور پانی کا بحران، شہری شدید اذیت میں مبتلا
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سول ڈیفنس سکھر کے زیر اہتمام “فتح معرکۂ حق بنیان المرصوص” کے حوالے سے افواجِ پاکستان سے اظہارِ
سکھر( بیورو چیف سید ۔صیر حسین زیدی )سول ڈیفنس سکھر کے زیر اہتمام “فتح معرکۂ حق بنیان
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)مہران یونیورسٹی کی طالبہ سوبھ خاصخیلی کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔