پاکستان میں مہنگی ادویات اور بڑھتا ہواصحت کا بحران
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے اور ادویات کی قیمتوں میں بھی بےحد اضافہ ہو گیا ہے۔علاج کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مختلف قسم کی ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا اور بعض ادویات کی241 فیصد کے حساب سے قیمتیں بڑھیں۔صحت کے مسائل پہلے بھی زیادہ تھے،اب ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے صحت کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ایک عام پاکستانی بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہا ہے،بیمار ہونے کی صورت میں وہ علاج نہیں کروا سکتا۔روز بروز بڑھتی ادویات کی قیمتوں کی وجہ سے کروڑوں افراد کی زندگیاں شدید خطرے کا شکار ہو چکی ہیں۔وہ مریض جو مسلسل ادویات استعمال کر رہے ہیں وہ ادویات چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا اور یہ اضافہ بے شمار مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ایک عام بخار کی گولی بھی انتہائی مہنگی ہوگئی ہے اور غریب آدمی ایک معمولی سی گولی بھی خریدنے سے قاصر ہو گیا ہے۔حکومت کا کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے کمپنیاں اپنی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔حکومت کی طرف سے بھی مناسب علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے بیماریوں پر قابو نہیں پایاجاسکتا۔بڑے شہروں میں تو سرکاری اسپتال سہولتوں سے آراستہ ہوتے ہیں لیکن دیہاتوں میں ابتدائی صحت مراکز بھی موجود نہیں۔اگر کوئی بیسک ہیلتھ سینٹر موجود ہے تو وہاں ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اج کل تو بڑے اسپتالوں میں بھی ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کے بارے میں رپورٹس درج ہو رہی ہیں۔پرائیویٹ علاج بہت ہی مہنگا ہے،کیونکہ ادویات کے علاوہ بیماریوں کی تشخیص وغیرہ کرنے کا سامان بھی مہنگا ہے۔دل، شوگر،کینسر،ذہنی بیماریاں،گردوں کے علاوہ دیگر بیماریوں کا علاج عام آدمی نہیں کراسکتا۔علاج نہ کروانے کی وجہ سے اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک اور پاکستان کاموازنہ کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت اموات زیادہ ہوتی ہیں۔جو افراد زندہ رہ جاتے ہیں وہ مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات معمولی سی بیماری کا علاج کرنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور بعض بیماریوں کا فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو مستقبل میں بیماری خطرناک ہو جاتی ہے۔
یہ درست ہے کہ بعض ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اس لیے ہوا کہ مجبوری تھی۔قیمتوں میں اضافے کے لیے مختلف قسم کے جواز بتائے جاتے ہیں۔ایک وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے۔ادویات اور ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال بیرون ملک سے خریدا جاتا ہے اور وہ خریداری ڈالروں میں ہوتی ہے اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے ادویات و خام مال کی خریداری مہنگی ہو جاتی ہے۔ایندھن بھی مہنگا ہے،کیونکہ فیکٹریوں میں ایندھن(بجلی وغیرہ کا) استعمال ہوتا ہے اور ایندھن مہنگاہونے کی وجہ سے ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ادویات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانا بھی مہنگا عمل ہوتا ہے،کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس اضافے کے اثرات ادویات پر بھی پڑے۔خام مال بھی مہنگا مل رہا ہے۔عالمی اثرات کی وجہ سے ادویات کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے،جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے۔حکومتی پالیسیاں بھی اس طرح بنائی گئی ہیں کہ ادویات کی قیمتیں کنٹرول نہیں کی جا سکتیں۔اس کے علاوہ سرکاری طور پر کمپنیوں پر کنٹرول بھی انتہائی کمزور ہے،جس کی وجہ سے کمپنیاں اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کر دیتی ہیں۔کچھ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ادویات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کی اموات بھی بہت زیادہ دیکھنے میں آرہی ہیں۔ایک اور مسئلہ بھی سنگین نوعیت کا ہے اور وہ نقلی ادویات کی فروخت ہے۔نقلی ادویات کی پیکنگ اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اصلی نظرآئیں،لیکن وہ فائدہ کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہیں۔
پاکستان میں صحت کا بحران دن بدن بڑھ رہا ہے۔بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں اور بیماریوں میں اضافہ بہت ہی تشویش ناک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ مہنگا علاج عام پاکستانی کے بس میں نہیں۔حکومت ایسا نظام قائم کرے جس سے ادویات مناسب قیمت میں دستیاب ہوں اور ادویات بھی خالص ہونی چاہیے۔جان بچانے والی ضروری ادویات تو مناسب قیمت پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ اموات میں کمی کی جا سکے۔مختلف قسم کے امراض میں مبتلا افراد ادویات چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں،کیونکہ ادویات کی خریداری نہیں کر سکتے۔ان کے لیے زیادہ مسئلہ بڑھ رہا ہے جو تمام عمر کے لیے ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔صرف ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ ٹیسٹس وغیرہ کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔بعض اوقات شعبہ طب سے وابستہ افراد مہنگے اور غیر ضروری ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں،کیونکہ اس طرح ان کو کمیشن ملتی ہے۔طب کے شعبہ سے وابستہ افراد سے گزارش ہے کہ مریض کی مجبوریوں کو دیکھا جائے اور ایسے ٹیسٹ نہ کروائے جائیں جو غیر ضروری ہوں۔بعض اوقات متعلقہ بیماری کے علاوہ دیگر ادویات بھی تجویز کر دی جاتی ہیں اور اس طرح ایک غریب مریض پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔اگر متعلقہ بیماری کی دوائی تجویز کی جائے تو غریب مریض بھی علاج کرا سکے گا۔
غربت اور مہنگائی کی وجہ سے بعض افراد بیمار ہو جائیں تو وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے،کیونکہ مہنگی دوائی کی خریداری ان کے بس سے باہر ہوتی ہے۔بعض اوقات دیسی ٹوٹکوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے اور اس طرح مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تمام پاکستانیوں کےلیے ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔سرکاری طور پر فری دوائی مہیا کرنا ممکن نہ ہو تو سستی دوائی ہر ایک کی پہنچ میں ہونی چاہیے۔بعض مریض سرجری نہیں کرواتے کیونکہ ان کے پاس رقم نہیں ہوتی۔اگر سرجری کی سہولت مفت دستیاب نہ ہو تو اتنی مہنگی بھی نہ ہو کہ عام آدمی سرجری کرا ہی نہ سکے۔حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے عام ادمی بھی اپنا علاج معالجہ کرا سکے۔
300 یونٹ فری بجلی کے دعوے کرنے والے عوام پر ٹیکسز کا بوجھ کیوں۔محمد فائق شاہ
ڈاکٹر پروفیسر پونم گوندل دنیاےء اردو ادب کی قابل ترین افسانہ نگار شاعرہ اردو ادب کا روشن چراغ مہتاب درخشاں و اردو ادب کی ترجمان
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کی تمام افسانے تحریر اقتباسات فکر کے حامل ہے معاشرتی نظام کے پہلو کو
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) ٹرانسفارمر کی چنگاریوں سے آگ لگنے کا واقعہ مریم روڈ پر ٹرانسفارمر
ٹھٹھہ ۔ رپوٹ عبدالعزیز شیخ پاکستان زندہ باد موومنٹ ٹھٹھہ کے چیٸرمین سید الطاف حسین شاہ شیرازی کے جانب افواج پاکستان کے حق میں