ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کی تمام افسانے تحریر اقتباسات فکر کے حامل ہے معاشرتی نظام کے پہلو کو اجاگر کرتے ہین ان کے افسانوں مین اہ فغاں در معاشرہ کی تلخ حقائق پر مبنی ہوتی ہے اپ کی تحریر اصلاح کا پہلو ہوتی ہے اپ کی تحریر سیاہی سے نھی خون جگر لکھی ہویء ہوتی ہے اپ لفظ و الفاظ جملے کو اس طرح پروتی ہے کہ قاری افاق کی دنیا میں گم ہوجاتا ہے ترسیل و تفصیل مناسب انداز مین اپ پیش کرتی ہے سنا تھا انکھیں دل کی ترجمانی کرتی ہے لیکن اپ کے افسانے مطالعہ نے مجھے اس قدر پاگل کردیا کہ ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کے افسابے نے دل کی ترجمانی کرتے ہیں مجھے اپ سے ایک بہت بڑا فایدہ ہوا کہ بار بار افسابے مطالعہ نے میری سوچ و ذہانت کو تحریک دی اج اس خاتون افسانہ نگار کی بدولت مجھے تحریر لکھنے اگیا جو تسلسل لکھنے کا چلا رکنے کا نام نھی ایک سخن ارایء پر بے شمار صفحات لکھے دے ایسا معاملہ ہوگیا
اتنی صلاحیت مجھ نھی تھی مجھے اپ نے حوصلہ بڑھایا یہ نھی کہا اپ کا ملا صحیح نھی ہے اپ کا تسلسل برابر نھی یے بس میری اپ نے ہمت باندھی میری اپ معلمہ بہین ہے اپ کے سخن ارایء یا تصویر پر سانگ لگاتا ہوں وہ بس تشہیر کے لےء ہیں مجھ جیسے ادبی خاکسار کو اپ نے اخبار کی زینت بنایا اہلیہ کے تبصرے کو جگہ دی مجھے معلوم ہے اپ نفل روزہ صوم صلوات کی پابند ہے تہجد گزار ہے اپ نے مجھے ڈاکٹر شاید صاحب کا تعارف کرایا میرے گھر کی خواتین بات بھی یے لیکن اپ اس روز نفل روزے سے تھی اپ وسیع النظری کا پیکر یے ہر کویء اپ سے ادب سے ملتا ہے مین ایک بھایء ہوں جو اپ نے کبھی میری بات کا برا نھی مانا مطلب اپ کے تبصرے لکھتے وقت سانگ رکھ دیتا ہون یہ سوچ اپ کی چھوٹی نھی بڑی ایسے کویء شاعرات نے بھی برا نھی مانا
5









