10

امن و امان کا جنازہ، سکھر کی دہائی۔۔ تحریر: زوہیب شیخ۔۔

امن و امان کا جنازہ، سکھر کی دہائی۔۔

تحریر: زوہیب شیخ۔۔

سکھر جو کبھی سندھ کا پرامن تجارتی مرکز کہلاتا تھا، آج خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کے سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں ہے۔ شہر کی فضاؤں میں چھایا یہ سناٹا کسی امن کی علامت نہیں بلکہ اس دہشت کی عکاسی ہے جس نے شہریوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ محض 48 گھنٹوں کے دوران جس طرح جرائم پیشہ عناصر نے کھلے عام کارروائیاں کیں، اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ببرلوء میں واقع تاج پیٹرول پمپ کے مالک نیاز بگٹی اور پنوعاقل کے شہری فاروق سولنگی کا قتل محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ دو خاندانوں کی تباہی ہے۔ جب کسی گھر کا کفیل چھن جاتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں مرتا بلکہ پورا خاندان زندہ درگور ہو جاتا ہے۔ اسی دوران درجن بھر سے زائد شہریوں کا نقدی اور قیمتی اشیاء سے محروم ہونا ثابت کرتا ہے کہ ڈاکو اب کسی خوف کے بغیر میدان میں آ چکے ہیں۔
اس سنگین صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ نام نہاد “جرگہ” ہے جو چند روز قبل منعقد ہوا۔ اس جرگے میں ان نامی گرامی ڈاکوؤں کو، جن پر پولیس نے بھاری انعامی رقم مقرر کر رکھی تھی، محض چند لاکھ روپے جرمانہ لگا کر کھلی چٹ دے دی گئی۔ یہاں یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیا ریاست کے متوازی یہ نظام جرائم کم کرنے میں مددگار ہوگ۔۔؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسے جرگے جرائم کی شرح میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ جب ایک قاتل اور ڈاکو کو یہ معلوم ہو کہ وہ ریاست کی گرفت سے بچ کر جرگے میں جرمانہ دے کر پاک صاف ہو سکتا ہے، تو اس کے دل سے قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ ان لوگوں کو چھوڑ دینا سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ یہ عمل ان مقتولین کے خون سے غداری ہے جن کے وارث آج بھی انصاف کے لیے دربدر ہیں۔
پولیس کا کردار اس وقت سب سے اہم ہے، کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جس پر عوام اپنے تحفظ کی امید رکھتی ہے، مگر جب یہ ادارہ خاموش دکھائی دے تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا فطری بات ہے۔ حالیہ دنوں میں چند اہلکاروں کی معطلی جیسے اقدامات بظاہر مثبت لگتے ہیں مگر یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں۔ پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے جو ان جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ جب تک پورے نظام کو فعال، جوابدہ اور عوام دوست نہیں بنایا جاتا، تب تک جرائم کی بیخ کنی ممکن نہیں۔ محض بیانات سے نہیں بلکہ گشت میں اضافے اور ٹارگٹڈ آپریشنز سے ہی امن کی بحالی ممکن ہے۔
سکھر کو اس نہج پر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ شہر کسی تجربے کا میدان نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کا گھر ہے جنہیں سکون اور تحفظ چاہیے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے اور ریاست نے اپنی رٹ قائم نہ کی تو کل حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں جنہیں جرگوں کے ذریعے تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، نہ کہ ہر لمحہ موت اور لٹنے کے خوف کے سائے میں جئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں