8

ڈاکٹر پروفیسر پونم گوندل دنیاےء اردو ادب کی قابل ترین افسانہ نگار شاعرہ اردو ادب کا روشن چراغ مہتاب درخشاں و اردو ادب کی ترجمان

ڈاکٹر پروفیسر پونم گوندل دنیاےء اردو ادب کی قابل ترین افسانہ نگار شاعرہ اردو ادب کا روشن چراغ مہتاب درخشاں و اردو ادب کی ترجمان
راست نیوز۔۔ تبصرہ نگار راشد دیشمکھ انڈیا
محترمہ معظمہ عزت ماب ڈاکٹر پروفیسر ایک قابل ترین شاعرہ ہے انہون نے اپنی سخن ارایء میں ربوبیت سے منسوب والہانہ انداز عشق کو پرویا ہے بیشک عشق الہی رب کی قرب کا وہ وسیلہ ہے جہاں بندہ اپنی منزل پالیتا یے دل کی پاکیزگی قلب کے راہیں کھول دیتی ہے عشق و معشوق کا رشتہ بڑا مضبوط ہوتا ہے کسی شراکت دار کی گنجائش نھی
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ فکری و علمی سوچ و ایقان اعلی ظرف کی حامل خاتون شاعرہ نے مریض عشق کا ذکر کہا ہے یہاں انہون نے بندے کی خدا سے محبت کا ذکر کیا بیشک اللہ سے بیت کس طرح ہونی چاہےء
بیت کے معنی کیا ہے بیشک رب کی اطاعت فرمان برداری دل میں تلاش کرنے کا نام بیت ہے جب اللہ کی محبت میں انسان گم ہوجاتا یے تو اسے کسی چیز کی پروا نھی رہتی دنیا اس کے لے بے معنی بن جاتی ہے
و اثر الحیوۃ الدنیا فان الجھیم حی الماوی وہ جان جاتا ہے مطلب جو لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دینگے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب بندے کو اللہ کے احکام و فرمان معلوم ہوجاتے تو وہ اپنے خواہشات کی دنیا کو وقفہ دے دیتا ہے اور عشق الہی میں اسطرح غرق ہوجاتا ہے کہ اسے دنیا کی کویء خواہش نھی رہتی
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کی سخن ارایء تصوف و عرفان کی عکاسی کرتی ہے عشق ہر کسی کو نصیب نھی ہوتا وہ وہ رمز ہے جب کویء عشق کو ہی جاتا ہے اس کا قلب منور ہوجاتا ہے یہ رمز ہے جو ہی لیا وہ ضیاء ہوگیا
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ نے پر جو سخن ارایء نزول ہویء وہ عشق الہی سے محبت قرب کی نشاندہی کراتی ہے
ڈاکٹر پونم گوندل اپنے اپ سے مخاطب ہوکر کہتے کہ کے اےء پونم اب تو مریض عشق میں ڈوب چکی ہے اس کی دوا دنیا والے کے پاس نھی جہاں عشق حاصل ہوجاتا وہ قلب منور و پاکیزہ ہوجاتا ہے عشق پرواز ہے اس کی مسافت کا انداز نھی لگایا جاسکتا ڈاکٹر پونم گوندل عشق الہی کی مریض ہے وہ خود ڈاکٹر ہے لیکن اس کا علاج ان کے پاس بھی نھی رب سے محبت عشق کی ابتدا ء ہے
ڈاکٹر پونم پونم صاحبہ کو اپنے رب سے بے پنہاں محبت ہوچکی ہے عشق محبت ہے عشق دیوانگی ہے عشق سوچ و قلب کی پاکیزگی ہے جہاں روح سفر کرتی ہے صوفیانہ مزاج کی اعلی پیکر ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کہتی ہے عشق کا مرض جوں جوں بڑتا گیا جب جب دوا کی بیشک عشق حقیقی رب سے جوڑتا ہے ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کو عشق نے ذرہ، کو گوہر بنادیا داکٹر کچھ نھی تھی لیکن عشق حقیقی جو رب کی عطا ہے نصیب نصیب کی بات ہے جسے مل جاےء وہ نامراد نھی ہوتا
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کہتی ہے دنیا میں ہر بیماری کا علاج ممکن ہے لیکن عشق مرہض کا علاج نا ممکن ہے عشق رب کی وہ عطا ہے مل جاےء نصیب یے
معزرت چاہتا ہون اپ کی سخن ارایء و تشریح کیا ہوں
مجھ میں اتنی صلاحیےنھی کہ اپ کا اپ کے علم کا احاطہ کرسکوں اپ میری معلمہ ہے سچ کہہ رہا ہوں اپ اپنی روح سے پوچھےء مجھے اپ نے بھایء کہا بھایء بن کر ہی ہوں میں نے ۲۷ سال علماےء دین کے خطابات لکھا درویشوں میں زندگی گزاری فقراء میں رہا لیکن کیا معلوم تھا کہ میری بھی کویء معلمہ ہے جہان میری فراست کو مقبولیت ملے گی اپ نے میری تعلق سے اپ دل سے مضموں لکھا کتاب میں میرے تصورات کو جگہ دی مجھے عزت دی میں تاحیات احسان نھی بول سکتا میں نے جن نیک بندوں کی صحبت مین زندگی گزاری اپ نے مجھے حق دیا راشد دیشمکھ بڑانسان کوں ہے اپ کی بصیرت کی داد دیتا ہوں یہ قلب کی اواز تھی اللہ نے اپ کے دل میں ڈال دیا یہان لوگ جلدی کمی کمنٹس کا جواب نھی دیتے اپ نے مضمون ہی لکھ دیا
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کی سخن ارایء طبع کا نام نھی فکر عمل کا نام ہے اپ ناصح و فاتح لکھاری ادیبہ مصنفہ ہے بیشک جو انسان اسمان کی سیر کرتا ہے اسے زمین پر چلنا کیا مشکل ہے ۔
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کی روان دوان زندگی درس مشعل راء ہے زندگی پیخ و خم کے حالات ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کا راستہ نھی روک سکے طب کی خدمات کرتے ہوےء اپ نے ایک نھی سات کتب لکھ چکے ہے یہ کویء مذاق نھی سات کتب لکھنا وہ بھی طب کے فرایض انجام دیتے ہوےء
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کے شوہر عزیز ایک باوقار نفیس شخصیت کے حامل ہے اپ نے ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ کے ادبی خدمات طبی ہو علمی ساتھ دیا
اپ کو ادب دنیا نے اپ کو مقبول شاعرہ کہا نثری دو کتب بھی مقبولیت کا حصہ نی رہی اپ کی سخن تافسابے درس مشعلِ راء ہے
تبصرہ و تجزیہ نگار
رازد دیشمکھ انڈیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں