8

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) شدید لوڈشیڈنگ اور پانی کا بحران، شہری شدید اذیت میں مبتلا

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) شدید لوڈشیڈنگ اور پانی کا بحران، شہری شدید اذیت میں مبتلا
سکھر میں بدترین لوڈشیڈنگ اور شدید گرمی کے باعث پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ یوسی چیئرمین حنیف میمن نے سکھر اور سندھ کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپریس فیڈر واٹر ورکس پر جاری 10 سے 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین تین دن سے پانی کی سپلائی بند ہے، جس کے باعث ٹکر محلہ، مشن روڈ اور جیلانی روڈ کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ واٹر ورکس انتظامیہ کے مطابق مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی فراہمی ممکن نہیں رہی، تاہم سیپکو کی مبینہ نااہلی کا بوجھ عوامی نمائندوں اور پارٹی قیادت پر ڈالا جا رہا ہے۔حنیف میمن نے کہا کہ ایک طرف لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سکھر کے شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ سخت گرمی میں پانی کے بغیر زندگی گزارنا عوام کے لیے عذاب سے کم نہیں، جبکہ شہری ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت، پیپلز پارٹی کی قیادت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ فوری طور پر سکھر واٹر ورکس کو لوڈشیڈنگ فری قرار دیا جائے تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی بحال ہو سکے، بصورت دیگر عوامی احتجاج کیا جائے گا۔
دوسری جانب شہر میں لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ ٹرانسفارمرز جلنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر ٹرانسفارمر جلنے کے بعد مرمت اور تبدیلی کے نام پر مبینہ طور پر اضافی رقوم وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جسے شہریوں نے “لوٹ مار” قرار دیا ہے۔اسی طرح صنعتی زون میں غیر اعلانیہ اور بلاجواز بجلی کی بندش نے صنعتکاروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے پیداواری عمل متاثر اور معاشی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں کنڈی سسٹم عام ہو چکا ہے، جس کے باعث لائن لاسز بڑھ رہے ہیں اور اس کا بوجھ بھی عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، ٹرانسفارمر کے نام پر وصولیوں اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں