8

تبدیل ہوتا عالمی منظر نامہ تحریر: اللہ نواز خان

تبدیل ہوتا عالمی منظر نامہ
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
واضح طور پر عالمی منظر میں بڑے تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔2030 تک بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو سکتی ہیں۔دنیا کثیر قطبی ترتیب کی طرف جا رہی ہےاور یک قطبی نظام کمزور پڑچکا ہے۔یک قطبی نظام میں امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر عالمی نظام کو چلا رہاہے۔تقریبا تین دہائیوں قبل روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے عالمی نظام کو کنٹرول کر لیا تھا۔امریکی جارحیت نے بہت سے عالمی مسائل پیدا کیے۔امریکہ جو دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر جانا جاتا تھا،اب بہت کچھ تبدیل ہوتذ ہوا نظر آرہا ہے۔موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا میں ایک ہلچل مچائی ہوئی ہے۔امریکی پالیسیاں بین الاقوامی طور پر تنقید کی زد میں ہیں۔بہت زیادہ ٹیرفس عائد کرنے سے شاید وقتی طور پر امریکی دولت میں اضافہ ہو رہا ہو،لیکن مستقبل میں اس کے اثرات بہت زیادہ خراب ہوں گے۔معاشی طور پر چین بہت آگے نکل رہا ہے۔چینی صنعت نے دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑنا شروع کر دیے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی سے چین اپنی معاشی حالت کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔روس کا اسٹریٹیجک کردار بھی عالمی طور پر اثر انداز ہو رہا ہے۔یہ کہنا درست ہے کہ مستقبل قریب میں چین اور روس امریکہ کو سپر پاور کے ٹائٹل سے محروم کر سکتے ہیں۔چینی مصنوعات زیادہ پائیدار نہ ہونے کے باوجود عالمی مارکیٹ میں جگہ بنا رہی ہیں،کیونکہ یہ سستی ہیں۔ہو سکتا ہے چینی صنعت مصنوعات کو پائیدار بنانے میں کامیاب ہو جائے تو عالمی مارکیٹ پر چین آسانی سے قبضہ کر سکتا ہے۔چین کی صنعتی طاقت امریکہ کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے،بلکہ کئی ممالک چین کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
امریکہ اس وقت صرف معاشی لحاظ سے نہیں،بلکہ جنگی لحاظ سے بھی ایک عالمی طاقت تسلیم کی جا رہی ہے۔اس وقت امریکہ کئی ریاستوں سے برسر پیکار ہے۔مشرق وسطی میں امریکہ اور ایران کے درمیان کچھ عرصہ پہلے جنگ شروع ہوئی،لیکن اب عارضی طور پر جنگ بندی ہے۔ایران ایک مضبوط فریق کے طور پر امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔مذاکرات ہوتے رہے ہیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے،کیونکہ تہران وہ مطالبے تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو واشنگٹن کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سب سے بڑا مطالبہ ایران سے ایٹمی مواد کی دستبرداری کا کیا جا رہا ہے۔ایران ایٹمی مواد سے دستبرداری سمیت دیگر بڑے مطالبوں سے بھی انکاری ہے۔ اگر ایران سے مطالبات تسلیم کروائے بغیر جنگ رک جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ کمزور ہو چکا ہے۔اس طرح دیگر ممالک بھی امریکہ سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔یورپی یونین بھی علیحدہ بلاک کی طرف بڑھ سکتا ہے اور جنوبی دنیا(Global South)میں بھی نیا بلاک تشکیل پاسکتا ہے۔جنوبی دنیا میں مسائل بہت زیادہ ہیں،اس لیے وہ یورپی یونین کی طرف بڑھیں گے یا روس اور چین سے اتحاد کر سکتے ہیں۔ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جنوبی دنیا کے ممالک کے آپس میں اختلافات بھی زیادہ ہیں،اس لیے وہ علیحدہ بلاک نہیں بنا سکیں گے،اس لیے وہ کسی نہ کسی طاقت کا سہارا لیتے رہیں گے۔ترقی پذیر ایشیائی ممالک میں سیاسی مسائل بھی بہت زیادہ ہیں،جب تک وہ سیاسی استحکام کی طرف نہیں بڑھیں گے وہ ہمیشہ کمزور ہی رہیں گے۔
معاشی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں۔ڈیجیٹل معیشت کا فروغ،آن لائن تجارت اور بٹ کوائن(Bitcoin) جیسی کرپٹو کرنسیوں کا بڑھتا ہوا استعمال روایتی مالیاتی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں نئی کرنسی یا پہلے سےکوئی موجود کرنسی مارکیٹ میں جگہ بنالیتی ہے تو امریکی معاشی نظام انتہائی کمزور ہو جائے گا۔برکس کرنسی بطور عالمی کرنسی مارکیٹ میں جگہ بنا سکتی ہے۔اگر برکس کرنسی کامیاب ہو گئی تو ڈالر اپنی وقعت کھو دے گا۔یورو یا دیگر کرنسیاں مضبوط ہو سکتی ہیں۔کوئی بھی کرنسی اگر ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہو گئی تو امریکی معیشت بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گی۔موسمیاتی تبدیلیاں بھی بہت بڑی تبدیلی کا سبب بنیں گی۔بہت سے علاقوں میں قحط اور خشک سالی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوں گے،کہیں زیادہ بارشیں اور سیلابوں سے مسائل پیدا ہوں گے۔جو ممالک قدرتی آفات کا مناسب بندوبست نہیں کر سکیں گے،ان کے لیے مستقبل بہت ہی خوفناک ثابت ہو گا۔صنعتوں کو فروغ دینا ضروری ہے،ورنہ مہنگی مصنوعات خریدنی مشکل ہو جائیں گی۔اے آئی بھی مستقبل قریب میں بہت بڑی تبدیلیاں لائے گی،اس لیےاے آئی کا شعبہ نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔اے ائی کے شعبے کو نظر انداز کرنے والے پسماندہ رہ جائیں گے۔بہرحال عالمی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں اور مستقبل میں ایک نیا منظر عامہ نظر آئے گا۔ان تبدیلوں کےاثرات مختلف نوعیت کے ہوں گے۔کئی بڑی طاقتیں زوال پذیر ہو سکتی ہیں اور کئی انتہائی کمزور طاقتیں عروج پا جائیں گی۔شرط یہ ہے کہ تبدیلیوں کے لیے تیار ہونا چاہیے اور اگر تبدیلیوں کو نہ سمجھا گیا تو نقصان بھی بہت زیادہ ہوگا۔کئی قسم کی بیماریاں بھی حملہ آور ہو سکتی ہیں،بیماریوں کا مقابلہ بھی لازمی طور پر کرنا ہوگا۔یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی بیماریاں بطور ہتھیار استعمال کی جائیں۔ڈرون یا کسی دیگر ٹیکنالوجی کے ذریعے جراثیمی حملے کیے جا سکتے ہیں،اگر بچاؤ کے لیے مناسب انتظام نہ ہوا تو کم وقت میں بہت زیادہ اموات ہو جائیں گی۔
عالمی تبدیلوں سے کمزور ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔جو ممالک مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے،وہ اپنا بچاؤ کر سکیں گے۔تعلیم اور جدید تحقیق ضروری ہے ورنہ بقا مشکل ہو جائے گی۔اس وقت بہت سے ممالک بیرونی قرضوں پر اپنا نظام چلا رہے ہیں،اگر تبدیلیوں کے لیے تیار نہ رہے تو مستقبل میں بھی بدتر حالات کا سامنا کریں گے۔یہ ہو سکتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی طاقت تبدیل ہو جائے۔مثال کے طور پر اس وقت آئی ایم ایف بہت سے ممالک کو قرض دے رہا ہے،بدلے میں مقروض ممالک بہت سی ناگوار شرائط بھی تسلیم کرلیتےہیں۔کہاجا سکتا ہے کہ مستقبل میں شاید کوئی اور ادارہ یا ملک کمزور ممالک پر اپنا کنٹرول قائم کر لے۔بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور ہوتی ہوئی نظر بھی آرہی ہیں،جلد بہت کچھ واضح نظرآنا شروع ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں