5

افسانہ عنوان. پا گل تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لا ہور

افسانہ
عنوان. پا گل
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لا ہور
جونہی میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے نایٹ ڈیوٹی کر کے نکلی تو چھتیس گھنٹے کی شدید مشقت والی، تھکا دینے والی نوکری کرنے کے بعد میرا انگ انگ دکھ رہا تھا.سر گھوم رہا تھا اور خواتین کی آہ وبکا،دردزہ میں بھیگی ہوی اشکبار آہیں اور داستانیں بار بار یاد کے آنچل سے لپٹ کر عجب س، ہلچل مچا جاتی تھیں….. اس جانوروں والی مشقت نے صحیع معنوں؀میں میرے بدن کی ساری توانائ چھین لی تھی. نیلا آسمان،چہچہاتے ہوے پرندے اور نسیم سحر کے مست تازہ جھونکے بھی میرے من کو گد گدانے میں یکسر ناکام تھے. میرا تن من لیرو لیر تھا اور میری انکھیں اینویں ہی اشکبار تھیں جونہی میں لیڈی ولنگڈن کو چھوڑ کر DataDaebar پہنچی،میری نظر ایک ایسے پاگل پہ پڑی جو بھوک کے دوزخ کو مات؀دینے کی کوشش میں ہاتھوں کے پیالے میں گاڑیاں صاف کرنے والے رومال لیے،گاڑیوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا،اس کی بے بسی،لاچاری اور مجبوری سے بڑھ کر اس کی دھنسی ہوی آنکھیں اور استخوانی ڈھانچے کو دیکھ کر میرا دل شدید غمزدہ ہو گیا. میری طبیعت تو پہلے ہی بوجھل ٹھی اوپر سے گانے والی سنگر کی شوخ آواز……….
تیری نویں سہیلی دے نالوں میرے سینڈل سو ہنے نیں….. میرے کانوں کے پردے پہ جیسے ہتھوڑے برسانے لگے… مجھے اس پاگل پہ شدید ترس آیا بلکہ اگر میں آپ کو دل کی بات بتاوں تو مجھے وہ بالکل اپنے ہی جیسا لگا،یکہ ہ تنہا،مجبور و لاچار،بھوک مٹانے کے لیے ٹریفک کے حصار میں بھوک مٹانے کے جتن کرتا ہوا…….. اسی ترس کے زیر اثر ،شدید تھکاوٹ کے باوجود میں نے اپنے پرس سے پانچ سو کا نوٹ نکالا….. تاکہ اس پاگل سے کچھ صافیاں خرید سکوں… اس پاگل نے بھی شاید میرے چہرے سے ہی میری کیفیت بھانپ لی تھی وہ لپک کر؀میری گاڑی کی طرف بڑھا مگر بھاٹی کے بھیانک ہجوم،گاڑیوں کی بے سری قطاروں،ہارنز کے بے سرے شور نے ایک بار پھر ظالم سماج کی طرح ہم دونوں کے درمیان دیوار کھڑی کر دی تھی.میں؀خود کو کوستی،گاڑی کو پہلے اور دوسرے گییر میں ڈالتی قدیم شہر کو چھوڑ کر جدید شہر تک آن پہنچی…….. میرے سوجے ہوے پاوں اور دکھتا ہوا سر گواہ تھے کہ لیڈی ولنگڈن کے وارڈ نمبر تین کی ایمر جنسی نے میری ساری پھرتیاں اور توانیاں نچوڑ کے رکھ دی تھیں. بڑی مشکل سے ہمت؀سمیٹ کے میں اپنے دو سالہ بیٹے منتہا کے کمرے میں گیی وہ معصوم گہری نیند میں مست مسکرا رہا تھا وہ خوش قسمت تھا کہ دنیا کے دکھوں اور آزمایشوں سے پرے تھا……. منتہا؀کو دیکھ کے میں اپنے شوہر نامدار کی تلاش میں بیڈ روم کی طرف بڑھی اور میرے چودہ طبق روشن ہو گیئے، کاش میں اس وقت وہاں نہ جاتی…….میرا شوہر…………. ؀؀جی ہاں؀میرا اپنا شوہر میری نوکرانی کے چہرے پہ بوسہ ثبت کرتے ہوے والہانہ انداز میں کہہ رہا تھا………….. اس پاگل لیڈی ڈاکٹر سے جلد ہی چہٹکارا پا لوں گا…
میری ساری نیند،ساری پھرتیاں،ساری تھکن ایک ہی پل میں اڑن چھو ہو گیئ،میں اپنے بابا کی لاڈلی،ماں کی راج دلاری اور بھایئوں کی آنکھ کا تارا،ڈاکٹر سندس تحریم کسی پتھر کی مورت کی مانند دروازے کی چوکھٹ میں پھانسی کے حکم کے بعد تختہ دار پہ لٹکاے جانے کی منتظر تھی. مجھے اپنی کم نصیبی،بے بسی،بے چارگی اور بے تحاشا ذلت پہ جی بھر کے رونا آیا….
جسے پیا چاہے وہی سہاگن
اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے حسن،حیثیت،تعلیم،مقام،عہدے اور سماجی مرتبے کے تمام فریب اڑن چھو؀ہو گیے ہوں……….. وہ جھلا جو سڑکوں پہ میئ کی شدید دھوپ میں پیٹ پوجا کے لییے رومال بیچ رہا تھا؀اور میں اتنی بڑی ڈاکٹر مسیحائ کرتی،زندگی موت کی جنگ لڑتے مریضوں کی جانیں بچاتی،سفید اوور آل پہنے، ہم؀دونوں ہی ایک جیسے تھے……………………….
دونوں؀ہی ایک صف؀میں کھڑے تھے…………………..
ہم دونوں ہی پاگل تھے…….
فرق صرف اتنا تھا کہ اس کا پاگل پن ہر کس و ناکس کو دکھائ دیتا تھا اور میرے پاگل پن نے تہذیب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا……..
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں