*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: نعت دنیا کا چمکتا دمکتا ستارہ ” قاری سید فیصل حسن نقشبندی“*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
مجھے میڈیا انڈسٹری میں آئے ہوئے 36 سال سے زائد عرصہ بیت گیا ھے لیکن آج سے 25 سال قبل پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے وسیع سٹلائٹ چینل اےآروائی ڈیجیٹل لاؤنچ ھوا تو پھر بھرپور انداز سے اور کھل کر پروڈکشن میں سیکھنے اور کام کرنے کا موقع ملا یاد رھے کہ کراچی کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں اے آر وائی نے اپنا ایک پروڈکشن ہاؤس بنایا جس کا نام ریز تھا، یہ ریز پروڈکشن اےآروائی سٹلائٹ چینل سنہ 2000 ء میں منتقل ھوا۔ پھر 2002 ء میں اےآروائی نے دو چینلز آن ایئر کرنے کا اعلان کیا جو دو بیٹ (بینڈ) پر مشتمل تھا ایک بیٹ (بینڈ) پر اےآروائی ون ورلڈ (نیوزچینل) دوسرا کیو ٹی وی (مذہبی چینل)۔ آج سے 25 سال قبل نجی سطح پر سٹلائٹ اسلامی چینل کیو ٹی وی آنے سے مذہبی حلقوں میں جہاں بے پناہ پزیرائی ملی وہیں اس کی ٹرانسمیشن کو بھی خوب سراہا گیا۔ اُن وقتوں میں ملک بھر کے نامور مشہور و معروف نعت خواہ، قراہ حضرات، شاعر، ادیب، اسکرپٹ رائٹرز، مفتیان و علماء کرام کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ وہ ابتدائی کیو ٹی وی کے ایام انتہائی مصروف ترین ہوا کرتے تھے۔ اُن وقتوں میں خان آصف، سلیم جلالی، نوید زیدی، ڈاکٹر احسن جمال، فاران قریشی، سید ظفریاب، سید ذوالفقار نقوی، خلیل وارثی، اور جاوید صدیقی قابل فہرست ڈائریکشن میں معروف سمجھے جاتے تھے جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے طور پر اسمٰعیل جلالی، ظفر علی، کاشف مغل، معجز علی کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔ وقت بیت گیا لیکن یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ اُنہی یادوں میں ایک ایسے نوجوان کو کیونکر فراموش کرسکتا ھوں جو انتہائی مہذب، باادب، بااخلاق، خوش مزاج، ملنسار، سعادت مند اور کلام تلاوت ہو یا ثنائے رسول ﷺ بیحد خوبصورت آواز سے محو اور کیفیت باندھنے کا سلیقہ و کرینہ جانتا تھا۔ اُن دنوں میں خلیل وارثی کو رام کرنا کوئی آساں نہیں تھا اگر خلیل کسی کی بات کو رد نہیں کرسکتا تھا تو وہ دو ہی لوگ تھے ایک حاجی صاحب دوسرا یہ خاکسار۔ آج میں اسی بہترین انسان، بہترین مذہبی شخص کے بارے میں اپنا کالم تحریر کررھا ھوں۔ جو میرا مخلص و دیرینہ دوست ھے بلکہ بھائی۔ معزز قارئین!! قاری سید فیصل حسن نقشبندی ” نعت خوانی و نعت گوئی کے افق کا ایک روشن ستارہ ھے” نعت خوانی عطیہ ٔ خداوندی ہے۔ یہ کسبی نہیں بلکہ وہبی شئے ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے بے پایاں کرم سے مشروط ہے۔ زمانۂ قدیم سے نعت گوئی و نعت خواں ہوا کرتے تھے اسٙی کی دہائی کے بعد انفرادی نعت خوانی کا چرچا بہت عام ہونے لگا۔ نعت خوانی کے شعبے میں خوش الحان نعت خوانوں کا اضافہ ہونے لگا۔ نعت خوانی کے شعبے سے منسلک یہ وہ افراد تھے جن کے کردار میں پختگی ، آواز میں نغمگی اور فکر میں تازگی نے نعت خوانی کے شعبے کو پرِ پرواز عطا کر دیے۔ آج کے دور میں نعت خوانی تبلیغِ اسلام کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جو لوگ اللہ رب العزت کی جناب میں اور بارگاہِ رسالت کے حضور اخلاص سے نعت خوانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں وہ سب داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کا یہ حسنِ عمل لائق تقلید ہے۔ قاری سید محمد فیصل حسن نقشبندی فی زمانہ نعت خوانی کا ایک معتبر نام ہے۔ موصوف نے نعت خوانی کو عبادت کے طور پر اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری سید فیصل حسن نقشبندی ”ورفعنا لک ذکرک“ کے سائے میں پیغامِ خداوندی کو عام کررہے ہیں۔ خوبصورت آواز کے مالک اور بے تحاشا خداداد صلاحیتوں کے امین ہیں۔ روایتی نعت خواں نہیں ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو جدٙت کے رنگ سے ہم آہنگ کیا ہے۔ جہاں جاتے ہیں وہاں رنگ جمالیتے ہیں۔ صاف گو نعت خواں ہیں، ہونے والی زیادتیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا پسندیدہ مشغلہ نعت خوانی و جذبہ اظہار عشق رسول ﷺ ہے۔ میٹرک سے قبل یعنی بارہ سال کی عمر میں شعر گوئی کا آغاز کردیا تھا۔ نعت خوانی کی تربیت میں حاجی کلیم سرور مرحوم بھی شریک رہے۔ اسکے علاوہ شاہ فیصل کالونی نمبر ۵ میں سید عبدالرحمٰن قادری مرحوم نے قاری سید فیصل حسن نقشبندی کی خوابیدہ اور خداداد صلاحیتوں کے نکھارنے، بنانے، سجانے اور سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ استاد محترم عبدالرحمٰن قادری مرحوم ہر جمعہ کو آرام باغ مسجد اپنے ساتھ شاگردِ خاص قاری سید فیصل حسن نقشبندی سے نعتیں پڑھواتے تھے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی نے بھی بے غرض اور ہمدرد شاگرد ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ سید عبدالرحمٰن قادری مرحوم نے فروغِ نعت خوانی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ نعت خوانی میں بہت بڑے بڑے نام ہیں جنھیں نعت خوانی میں آپ سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ وہ لوگ آج عبدالرحمن قادری مرحوم کا نام بھی نہیں لیتے۔ عبدالرحمن بھائی نعت خوانی کے نشیب و فراز اور نزاکتوں سے آشناء تھے یہی وجہ ہے کہ انکے تمام شاگرد نعت خوانی کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہیں۔ ابتداء میں ہر شعر کہنے والا میر و غالب نہیں ہوتا۔ ہر شاعر کو ابتدائی معاملات سے گزرنا ہوتا ہے۔ ابتدائی مسائل شاعر کیلئے کار دشوار ہوتے ہیں۔ سید فیصل حسن نقشبندی خوش نصیب ہیں کہ ابتداء میں ہی اُنھیں دو ایسے اصلاح کار نصیب ہوگئے جو نعتیہ شاعری کے نوک پلک سنوارنے میں قاری سید فیصل حسن نقشبندی کے معاون رہے۔ حضرت عابد بریلوی مرحوم اور پروفیسر ظلُ الرحمٰن خاور سے قاری سید فیصل حسن نقشبندی مشورہ کرتے رہے۔ الحاج پیر سید شاہد حُسین بادشاہ نقشبندی، نعت خواں قاری سید فیصل حسن نقشبندی کے مرشدِ گرامی ہیں۔ جب کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ نسبتِ رسولی سے خلافت و اجازت بھی حاصل ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی بزرگوں سے نسبت رکھتے ہیں۔ ہمہ وقت اِسی نسبت کے فیضان کے سائے میں وقت گزارتے ہیں۔ پہلی نعت جو نعت خوانی میں قاری سید فیصل حسن نقشبندی کی پہچان بنی وہ اعلیٰ حضرت کی نعت ہے واہ کیا جو دو کرم ہے“۔ آپکے بزرگوں کا تعلق مرادآباد (یوپی) انڈیا سے ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی 24 اپریل 1980ء کو پیدا ہوئے۔ نوعمری میں ہی بہت سے اعزاز و انعامات کے حقدار ٹھہرے۔ نعت خوانی کی برکت سے کئی ممالک کے دورے کئے۔ تمام ٹی وی چینلز پر نعت خوانی کا شرف حاصل ہے۔ خوش نصیبی جب دروازے پر دستک دے تو انعامات و اکرام کا ظہور ہوتا ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کے تقریباً نصف صد سے زائد آڈیو وڈیو البم ریلیز ہوچکے ہیں۔ معروف نعتیں جو قاری سید فیصل حسن نقشبندی کی پہچان اور شناخت بنیں ۔ “نعت میری زندگی”، “ہر سانس پکارے صل علی” ، “ذکر صل علی” ، “ہوکرم تاجدارِ مدینہ”، “یا رحمتہ للعالمین” ، “مصطفیٰ بے مثال” ۔ جبکہ اس بات کا بر ملا اظہار بھی ضروری ہے کہ ” درودِ تاج مع منظوم ترجمہ ترنُم سے پہلی بار پڑھنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ درودِ تاج کی ادائیگی میں قاری سید فیصل حسن نقشبندی نے کمالِ فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا انفرادی شرف ہے جو انھیں دوسرے نعت خوانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا ایک امتیازی وصف انکی نعت گوئی بھی ہے۔ نعت خوانی کے سبب طبع موزوں رکھتے ہیں۔ نعت کہنے میں ابتدائی معاملات اپنی جگہ نعت گوئی میں توجہ اور پختگی کا عمل جاری ہے۔ الحمداللہ وہ دن آچکا ھے کہ اب قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا شمار پختہ نعت کہنے والوں میں شمار کیا جاتا ھے۔ ”مصطفیٰ بے مثال”، قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا نعتیہ مجموعہ کلام ہے جس میں حمد ونعت اور سلام و مناقب کا وافر حصہ شامل ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی نے اپنی عمر اور تجربے کے لحاظ سے اچھے شعر کہے ہیں۔ جسے نقد و قدح کے انداز میں نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ کے رنگ میں دیکھنا چاہئے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کا آج انکے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ یہ باادب اور بانصیب ہیں۔ دوسروں کا مشورہ قبول کرتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی کمی رہ جائے تو اس پر بلا ضرورت تاویلیں پیش نہیں کرتے۔ اس کی بہتری میں ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ خوش نوا اور خوش ادا ہیں۔ خوش لباس و خوش مزاج ہیں۔ سادہ انداز و خوش فکر ہیں۔ آسان طریقے سے شعر کہتے ہیں۔ فیصل حسن کا نعت خوانی سے نعت گوئی کی طرف آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہمارے نعت گوئی کے بہت سے اسلاف پہلے نعتیں پڑھتے تھے۔ آہستہ آہستہ انھیں پھر نعت گوئی کی رغبتِ عظمی نصیب ہوتی رہی۔ نعت خوانی کے سبب قاری سید فیصل حسن نقشبندی بہت سے اعزازات کے حقدار ٹھہرے۔ سب سے بڑا اعزاز اللہ کے گھر اور مصطفی ﷺ کے در کی حاضری، جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔ یعنی والدہ محترمہ کے ساتھ نصیب ہوئی۔ سنہ 1997ء میں پاکستان گولڈن جوبلی کے موقع پر کل پاکستان ” مقابلہ نعت“ میں سرکاری سطح پر اول انعام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بے شمار اسناد و انعامات، ایوارڈز اور تاج پوشی کے اعزازات بھی شامل ہیں۔ اللہ والوں کی قربت کے حوالے سے ایک ضروری بات اور بتانا ہے، پیروں کے پیر غوث اعظم دستگیر، حضور سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک بغداد شریف میں روضے کے اندر جا کر حاضری کا شرف بھی حاصل ہے۔ نعت خوانی کی برکت نے نہ صرف پاکستان میں پذیرائی بخشی بلکہ بیرونی ممالک کے مسلسل دورے سید فیصل حسن نقشبندی کی نعت خوانی کی مقبولیت کی علامت ہیں۔ ورفعنا لک ذکر کی صدائیں بلند کرنے والے بیرونی ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، عراق، بحرین، مسقط، ماریشس، افریقہ اور قطر شامل ہیں۔ اگر وابستگی نعت کی طوالت میں جائیں تو پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، اےآروائی کیو ٹی وی اور پاکستان کے ہر بڑے چینلز پر حمد و نعت کا شرف حاصل ہے۔ عزت و احترام سے بلائے جاتے ہیں، جہاں انکی نعت خوانی کے جو ہر کھلتے ہیں۔ کسی بھی نعت کو فی البدیہہ پڑھنے کی صلاحیت زوروں پر ہے۔ قاری سید فیصل حسن نقشبندی نعت خوانی کا سرمایہ ہیں، نعت کہنے والوں میں خوبصورت اضافہ ہیں۔ ہمارے آج اور کل کا خوبصورت اثاثۂ نعت ہیں۔ سینئرز نعت خوانوں میں نعت خوانی کی پہچان ہیں۔ جب پڑھنے پر آجائیں تو محافل کو گل و گلزار کردیتے ہیں۔ رنگ و نور اور کیف و سرور کی فضا میں حاضری و حضوری کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کو حضور اکرم سید عالم نور مجسم ﷺ کی نعت کے حصار و شمار میں رکھے آمین یا رب العالمین، قاری سید فیصل حسن نقشبندی پر اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کا کرم و فضل ھے کہ انہیں خش لحن بیٹا عطا کیا جو باپ کی طرح خوبصورت نعت پڑھ کر حاضرینِ محفل میں کیفیت باندھ دیتا ھے دعا ھے اللہ قاری سید فیصل حسن نقشبندی کی اولادوں کو دونوں جہاں کی عزت و دولت اور مرتبہ سے نوازے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!