10

*غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ* ہفتہ 25 اپریل 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ*

ہفتہ 25 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

غسلِ جنابت (غسلِ فرض) کا مسنون طریقہ وہ ہے جو حضرت محمد ﷺ سے ثابت ہے۔ یہ طریقہ سادہ، پاکیزہ اور مکمل طہارت پر مبنی ہے۔

*غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ*

1.نیت کرنا:
دل میں نیت کریں کہ میں ناپاکی (جنابت) سے پاک ہونے کے لیے غسل کر رہا ہوں۔ زبان سے کہنا ضروری نہیں۔

2.بسم اللہ پڑھنا:
غسل شروع کرنے سے پہلے “بسم اللہ” پڑھیں۔

3.ہاتھ دھونا:
دونوں ہاتھ کلائیوں تک اچھی طرح دھوئیں (3 مرتبہ)۔

4.شرمگاہ دھونا:
جسم کی ناپاکی (اگر ہو) کو اچھی طرح دھو لیں۔

5.وضو کرنا:
نماز کی طرح مکمل وضو کریں۔
(اگر چاہیں تو پاؤں آخر میں بھی دھو سکتے ہیں)

6.سر پر پانی ڈالنا:
سر پر تین مرتبہ پانی ڈالیں اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچائیں۔

7.پورے جسم پر پانی بہانا
پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف پانی ڈالیں اور پورے جسم کو اچھی طرح ملیں تاکہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔

8.پاؤں دھونا (اگر وضو میں نہ دھوئے ہوں) آخر میں پاؤں دھو لیں۔

اہم باتیں:
جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے، خاص طور پر بالوں کی جڑیں، بغلیں، ناف اور انگلیوں کے درمیان۔

خواتین کو بال کھولنے کی ضرورت نہیں اگر پانی جڑوں تک پہنچ جائے۔

غسل کے بعد الگ سے وضو کی ضرورت نہیں (اگر دورانِ غسل کوئی چیز وضو نہ توڑے)۔

حدیث کی بنیاد:
یہ طریقہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے، جہاں امہات المؤمنین خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے غسل کا طریقہ بیان کیا ہے۔

نوٹ:
مناسب یہ ہے کہ غسل جنابت۔ غسل صحت یا عام روزانہ کا غسل اسی طریقے سے کریں تاکہ آپکو ہمیشہ مسنون غسل کا ثواب ملے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں ہمیشہ پاک صاف رہنے والوں میں بنا۔

آمین یا رب العالمین

احقر العباد
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں