بیوی کو ماں کہنے یعنی ظہار کی شرعی حیثیت کیا ہے:
منگل 14 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا اگر اس نیت سے ہو کہ وہ اس پر ماں کی طرح حرام ہو جائے، تو فقہ حنفی کے نزدیک یہ ظہار کہلاتا ہے۔ اس کی اصل قرآن مجید کی سورۃ المجادلہ میں بیان ہوئی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ بیوی حقیقی ماں نہیں بنتی، لیکن ایسا کہنا ایک سنگین اور قابلِ کفارہ جرم ہے۔ اس صورت میں نکاح باقی رہتا ہے، طلاق واقع نہیں ہوتی، مگر شوہر پر لازم ہو جاتا ہے کہ جب تک کفارہ ادا نہ کرے، بیوی سے ازدواجی تعلق قائم نہ کرے۔
فقہ حنفی کے مطابق ظہار صرف صریح الفاظ سے ہی نہیں بلکہ بعض کنایہ (اشارے والے) الفاظ سے بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ نیت موجود ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کہے “تم میری ماں جیسی ہو” اور اس کی نیت حرمت کی ہو، تو ظہار ہو جائے گا، لیکن اگر صرف عزت یا محبت کی نیت ہو تو ظہار نہیں ہوگا، البتہ ایسے الفاظ سے اجتناب بہتر ہے کیونکہ یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہیں اور غلط فہمی پیدا کر سکتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ظہار کا حکم یہ ہے کہ شوہر پر کفارہ لازم ہوتا ہے، اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی سے مباشرت کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص کفارہ ادا کیے بغیر تعلق قائم کر لیتا ہے تو وہ گناہگار ہوگا اور پھر بھی کفارہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ بدستور لازم رہے گا۔ کفارہ وہی ہے جو قرآن میں بیان ہوا: غلام آزاد کرنا، اگر یہ ممکن نہ ہو تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنا، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
مزید یہ کہ اگر کسی نے بار بار ظہار کے الفاظ کہے تو فقہ حنفی میں دیکھا جائے گا کہ کیا ہر بار الگ نیت اور الگ موقع ہے یا ایک ہی بات کو دہرایا جا رہا ہے؛ عام طور پر ایک ہی مجلس میں بار بار کہنے سے ایک ہی کفارہ لازم ہوتا ہے، لیکن مختلف مواقع پر دہرانے سے کفارہ متعدد بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مذاق میں یا غصے میں یہ الفاظ کہہ دے تو بھی حکم برقرار رہتا ہے، کیونکہ ایسے الفاظ شریعت میں سنجیدہ شمار ہوتے ہیں۔
اگر کوئی شخص ظہار کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے طلاق دے دے تو طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن ظہار کا کفارہ پھر بھی اس کے ذمہ باقی رہے گا اگر اس نے رجوع یا نیا نکاح کیا اور تعلق قائم کرنا چاہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار ایک مستقل شرعی ذمہ داری پیدا کرتا ہے جو محض طلاق سے ختم نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق بیوی کو ماں کہنا اگر حرمت کی نیت سے ہو تو ظہار ہے، جس سے نکاح ختم نہیں ہوتا لیکن ازدواجی تعلق معلق ہو جاتا ہے حتیٰ کہ کفارہ ادا کیا جائے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ ایسے الفاظ سے مکمل پرہیز کرے اور اگر غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کرے اور شرعی طریقے کے مطابق کفارہ ادا کرے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما اور اس پر عمل کرنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333