3

سندھ دریا کے زیریں حصوں میں پانی کی کمی، کوٹڑی بیراج پر سخت صورت حال

سندھ دریا کے زیریں حصوں میں پانی کی کمی، کوٹڑی بیراج پر سخت صورت حال

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز)سندھ دریا کے مختلف بیراجوں اور واٹر سسٹم میں پانی کے بہاؤ اور ذخائر کی تازہ صورتحال کے مطابق، بالائی علاقوں میں پانی نسبتاً مستحکم ہے، جبکہ زیریں حصوں میں بہاؤ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کوٹڑی بیراج پر صورتحال سخت کمزور رہی، جہاں گزشتہ روز کے مقابلے میں پانی کے بہاؤ میں زبردست کمی آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1465.57 فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ مجموعی ذخیرہ 33 ہزار 800 ہزار ایکڑ فٹ بتایا گیا۔ چشمہ بیراج پر پانی کا بہاؤ 66 ہزار 52 سے 67 ہزار کیوسک کے درمیان رہا، جو معمولی حد تک مستحکم ہے۔کابل اور خانپور باغ والے علاقوں میں پانی کی آمد اور اخراج میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ خانپور باغ میں پانی کا بہاؤ 88 ہزار 668 سے کم ہو کر 83 ہزار 668 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔سندھ دریا کے مرکزی نظام میں ترمی اور پنجند بیراج پر پانی کا بہاؤ بالترتیب 8 ہزار 314 اور 8 ہزار 800 کیوسک رہا، جبکہ ان مقامات پر پانی کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی۔گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 39 ہزار 338 کیوسک پر مستحکم رہا۔ سکھر بیراج پر 34 ہزار 400 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا، لیکن اخراج صرف 6 ہزار 500 کیوسک کے قریب ہونے کی وجہ سے بہاؤ میں کمی ظاہر ہوئی ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال کوٹڑی بیراج پر رہی، جہاں پانی کا بہاؤ 19 ہزار 994 سے کم ہو کر صرف 2 ہزار 339 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ یہ کمی اتنی زبردست ہے کہ زیریں سندھ کے زرعی اضلاع اور ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔پانی کے ماہرین کے مطابق زیریں سندھ میں پانی کی کمی زرعی ضروریات اور ماحولیات پر گہرا اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خصوصاً کوٹڑی بیراج کے پیچھے والے علاقوں میں فصلوں کو پانی فراہم کرنے میں شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم آبپاشی محکمے کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر نظام میں کوئی غیر معمولی صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔محکمے کی طرف سے صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت رپورٹنگ کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عوام اور کسان برادری کو پر سکون رہنے اور آبپاشی محکمے کی ہدایات پر عمل کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں