*معاشرے میں اخلاق اور برداشت کا فقدان*
جمعرات 23 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
دور حاضر میں معاشرتی اخلاق اور برداشت کا فقدان ایک نہایت حساس مگر حقیقت سے قریب تر موضوع ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے توازن، انصاف اور اصلاح—تینوں کو ساتھ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک طبقے کو مطلق موردِ الزام ٹھہرانا بھی درست نہیں، اور مسئلے سے آنکھ بند کرنا بھی نقصان دہ ہے۔
علم اور اخلاق: اصل رشتہ کیا ہے؟
اسلام میں علم کا مقصد محض معلومات کا حصول نہیں بلکہ کردار کی تعمیر ہے۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے:
“إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ”
(اللہ سے حقیقی ڈر رکھنے والے اس کے علماء ہیں)
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ حقیقی علم انسان میں عاجزی، خوفِ خدا اور حسنِ اخلاق پیدا کرتا ہے—نہ کہ غرور اور تحقیر۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں”
لہٰذا اگر علم کے باوجود اخلاق پیدا نہ ہو تو یہ علم کی روح سے دوری کی علامت ہے، نہ کہ علم کی کامیابی۔
موجودہ دور میں اخلاقی پستی زمینی حقیقت ہے۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض دینی طلبہ یا علماء میں لہجہ سخت ہو جاتا ہے گفتگو میں تحقیر یا مناظرانہ انداز آ جاتا ہے
عام تعلیم یافتہ طبقے کو کم تر سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے:
یہ مسئلہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ آج:
یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ بھی غرور میں مبتلا ہے. کاروباری طبقہ بھی دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو “خود کو درست اور دوسرے کو غلط” سمجھنے کا عادی بنا دیا ہے یعنی مسئلہ دراصل “علم نہیں، بلکہ اخلاق کی کمی” ہے چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی۔
دینی طبقے میں یہ رویہ کیوں پیدا ہوتا ہے؟
چند بنیادی اسباب یہ ہو سکتے ہیں:
1.علم کے ساتھ تزکیہ کی کمی:
اگر تعلیم کے ساتھ دل کی اصلاح (تزکیہ) نہ ہو تو علم غرور پیدا کر دیتا ہے۔
2.مناظرانہ ماحول
بعض مدارس میں دفاعِ مسلک کے نام پر بحث و مباحثہ غالب ہو جاتا ہے، جس سے نرم مزاجی متاثر ہوتی ہے۔
3.معاشی دباؤ
کم آمدنی اور معاشرتی عدم قدر بھی بعض اوقات احساسِ کمتری کو سختی میں بدل دیتی ہے۔
4.یک رخی تربیت
اگر نصاب میں اخلاق، سماجیات اور جدید دنیا کی سمجھ شامل نہ ہو تو انسان دوسروں کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔
اصل نقصان کس کا ہے؟
یہ رویہ سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے:
دین کی ساکھ کو
عوام کے اعتماد کو
نئی نسل کے رجحان کو
جب دین کا نمائندہ سخت، متکبر یا بد اخلاق نظر آتا ہے تو لوگ دین سے دور ہوتے ہیں—حالانکہ دین خود انتہائی خوبصورت ہے۔
اسلام کا مطلوبہ نمونہ
نبی کریم ﷺ کا اسوہ اس مسئلے کا مکمل حل پیش کرتا ہے:
آپ ﷺ نے کبھی کسی کو حقیر نہیں سمجھا. جاہل سے بھی نرمی سے بات کی. بدتمیزی کے جواب میں بھی حسنِ اخلاق دکھایا. یہی وہ معیار ہے جسے ہر عالم، طالب علم، اور عام مسلمان کو اپنانا چاہیے۔
اصلاح کا راستہ کیا ہے؟
1.علماء اور طلباء کے لیے
علم کے ساتھ عاجزی کو لازم پکڑیں. عوام کو جاہل نہیں بلکہ سیکھنے والا سمجھیں
گفتگو میں نرمی اور احترام اختیار کریں.
2.مدارس کے لیے
نصاب میں اخلاقیات اور کردار سازی کو مرکزی حیثیت دیں. طلباء کو معاشرتی آداب اور جدید دنیا سے روشناس کرائیں
3.عوام الناس کے لیے
علماء کا احترام کریں، مگر اندھی تقلید نہ کریں.
خود بھی اخلاقی معیار بلند کریں. اختلاف کو جھگڑا نہیں بلکہ علمی گفتگو سمجھیں
اصل معیار: انسان کی قدر کس سے ہے؟
اسلام میں انسان کی قدر نہ دولت سے ہے، نہ ڈگری سے، نہ لباس سے—بلکہ:
تقویٰ اور اخلاق سے ہے
ایک دین دار اگر بد اخلاق ہے تو وہ دین کی نمائندگی نہیں کر رہا،
اور ایک دنیا دار اگر اچھے اخلاق والا ہے تو وہ اسلام کے قریب ہے۔
نتیجہ
آج کا سب سے بڑا مسئلہ “علم کی کمی” نہیں بلکہ اخلاق کی کمی ہے۔
جب تک علم کے ساتھ عاجزی، برداشت اور احترام پیدا نہیں ہوگا، تب تک نہ دینی طبقہ کامیاب ہوگا نہ دنیاوی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
عالم، طالب علم، پروفیسر، تاجر—سب خود کو دیکھیں
اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے کریں
وما علینا آلا البلاغ المبین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell: 0092300860 4333